BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 October, 2008, 12:28 GMT 17:28 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
قوم پرست رہنما کی واپسی کی اپیل
 

 
 
 قادر بخش جتوئی
قادر بخش جتوئی بتایا کہ وہ جتنا عرصہ بھی جیل میں تھے، بند وارڈ میں رہے انہیں اس دوران کسی سے ملنے نہیں دیا گیا
پاکستان میں فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں جلاوطن کیئے گئے، سندھی قوم پرست رہنما قادر بخش جتوئی کی وطن واپسی کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔

پی آئی اے ہائی جیکنگ کیس میں قادر بخش جتوئی سمیت چون سیاسی کارکنوں کو ہائی جیکروں کے حوالے کیا گیا تھا۔

گزشتہ اٹھائیس سال سے جلاوطن قادر بخش جتوئی کے چھوٹے بھائی نذیر جتوئی کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں بیرسٹر ضمیرگھمرو نے یہ پٹیشن دائر کی ہے جس میں حکومت پاکستان، صوبائی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

ضمیر گھمرو کے مطابق جیل حکام کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ ملزم کو کسی کے حوالے کردیں۔سنہ انیس سو اکیاسی میں قادر بخش کو ان کی مرضی کے خلاف ’غیر قانونی‘ طریقے سے ہائی جیکروں کے حوالے کیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ فوجی عدالت نے جو سزا سنائی تھی وہ غیر قانونی تھی، کیونکہ آئین میں فوجی عدالت کا کوئی تصور موجود نہیں۔ ان کے بقول آئین میں جن عدالتوں کا ذکر موجود ہے وہ اس وقت معمول کے مطابق کام کر رہی تھیں۔ اس سے قبل صوبہ سرحد کی عدالت بھی فوجی عدالت کے فیصلے کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے چکی ہے۔

قادر جتوئی کے بھائی نذیر جتوئی
قادر جتوئی کو سویڈن کی حکومت نے سیاسی پناہ دی ہے

پٹیشن میں درخواست کی گئی ہے کہ فوجی عدالت کی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے اور قادر بخش جتوئی کو وطن واپسی پر گرفتار نہ کیا جائے اور جتنا عرصہ انہوں نے جلاوطنی میں گذراہ ہے، اسے قید قرار دیکر انہیں اس کا معاوضہ ادا کیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس قمر الدین بوہرہ نے مقدمے کی ابتدائی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کیے ہیں اور سماعت اگلی سماعت تک ملتوی کردی ہے۔

قادر بخش جتوئی پر الزام ہے کہ انہوں نے ساتھیوں سمیت اکتوبر انیس سو اٹہتر کو جام شورو میں فوجی گاڑی پر حملہ کیا، جس میں ایک فوجی سپاہی فضل ربی ہلاک اور دو اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

پیپلز میڈیکل کالج میں ایک فوجی میجر کی جانب سے ایک طالبہ سے زیادتی کے خلاف جامشورو میں سندھ یونیورسٹی، مہران یونیورسٹی اور لیاقت میڈیکل کالج کے طالب علموں نے جلوس نکالا تھا، جن کا فوجی اہلکاروں سے تصادم ہوگیا تھا۔

دسمبر میں قادر بخش جتوئی اور حیدر شاہ کو پولیس نے گرفتار کرلیا تھا اور جنوری انیس سو اکیاسی میں فوجی عدالت نے انہیں سزا سنائی جس کے تحت قادر بخش کو چودہ سال اور حیدرشاہ کو چوبیس سال کی عمر قید ملی۔

انہیں دنوں یعنی انیس سو اکیاسی میں پی آئی اے کے طیارے کو کراچی سے پشاور جاتے ہوئے اغوا کرلیا گیا، ہائی جیکروں نے مسافروں کے بدلے ایک سو چار سیاسی کارکن حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، جنہیں فوجی حکومت کے خلاف سرگرمیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جن میں سندھی قوم پرست رہنما قادر بخش جتوئی، حیدر شاھ اور سرفراز میمن بھی شامل تھے۔

قادر بخش جتوئی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ جتنا عرصہ بھی جیل میں تھے، بند وارڈ میں رہے انہیں اس دوران کسی سے ملنے نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق وہ حیدرآباد جیل میں تھے تو جیل حکام نے انہیں بتایا کہ انہیں کراچی جیل منتقل کیا جارہا ہے اور دوسرے روز زبردستی ہائی جیکروں کے حوالے کردیا گیا۔ قادر جتوئی نے کہا کہ ان کا ہائی جیکروں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد