BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 26 September, 2008, 17:01 GMT 22:01 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’بس اب لاپتہ افراد کی رہائی چاہیئے‘
 

 
 
آمنہ مسعود جنجوعہ
آمنہ مسعود جنجوعہ ڈیفنس آف ہیومن رائٹس تنظیم کی رہنما ہیں
پاکستان میں لاپتہ افراد کی تنظیم کی سربراہ آمنہ جنجوعہ نے کہا کہ انہیں اب کسی قسم کے وعدوں کی ضرورت نہیں ہے انہیں بس لاپتہ افراد کی رہائی چاہیئے۔

یورپ کے دورے سے پاکستان واپسی پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آمنہ جنجوعہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کے اب تک رہا نہ ہونے کی وجہ اگر سابقہ حکومت تھی تو موجودہ حکومت نے بھی تو کچھ نہیں کیا ہے۔ ’اس حکومت کو سابقہ حکومت کی کوتاہیوں کا ازالہ کرنا ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ ان کے اس دورے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر لاپتہ افراد کے مسئلے کو اُٹھانا تھا۔ انہوں نے یورپی ممالک کا دورہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے تعاون سے کیا ہے۔ انہوں نے ایک ماہ میں لندن ، ناروے ، سویڈن ، اوسلو اور کئی ممالک کا دورہ کیا ہے۔

آمنہ جنجوعہ نے کہا کہ وہ جنیوا بھی گئیں تھیں جہاں انہوں نے ہیومن رائیٹس کونسل کے نویں اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاپتہ افراد کا مسئہ اب بین الاقوامی مسئلہ بن چکا ہے اور جرمنی نے تو لاپتہ افراد کی کنوینشن پر دستخط بھی کئے ہیں۔ جرمنی نے کہا ہے کہ پاکستان بھی اس کنوینشن پر دستخط کرے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کے لیے جدوجہد کو تین سال ہو گئے ہیں لیکن اب تک ان افراد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا ہے۔آمنہ کا کہنا ہے کہ ان کے خاوند پر تین سالوں میں اب تک کچھ ثابت نہیں ہوا ہے تو انہیں رہا کیوں نہیں کیا جا رہا۔

آمنہ جنجوعہ نے یورپی ممالک کے پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات کا مقصد یہ بتایا کہ وہ تمام رہنما پاکستان کے پارلیمانی رہنماؤں سے اپنے طور پر بات کریں تاکہ اس مسئلہ کو جلد از جلد حل کیا جا سکے۔

اس وقت پاکستان میں تقریبا پانچ سو چالیس افراد لاپتہ ہیں لیکن آمنہ جنجوعہ کے مطابق اب تک ایک سو چوالیس لاپتہ افراد اپنے اپنے گھروں کو واپس آچکے ہیں اور چوالیس افراد کے بارے میں معلوم ہوگیا ہے کہ انہیں کہا رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اعلان کیا تھا کہ ان لاپتہ افراد کو جلد رہا کر دیا جائے گا۔

 
 
اسی بارے میں
ایک سال میں 135 کو پھانسی
28 May, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد