BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 19 September, 2008, 10:22 GMT 15:22 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’ہندو جمخانہ پھِر ہندوؤں کو ملے گا‘
 

 
 
ہندو جمخانہ کی عمارت
عمارت کی حالت خستہ اور اجاڑ تھی، اس کی بہتری اور بحالی پر کافی پیسے خرچ کیے گئے ہیں:اداکار ارشد محمود
سندھ حکومت نے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کو تین ماہ کے اندر ہندو جِمخانہ کی عمارت خالی کرنے کے لیے نوٹس جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ گائیکی، اداکاری اور ڈانس کی تربیت فراہم کرتا ہے۔

سابق صدر پرویز مشرف کی ہدایت پر سن دوہزار پانچ کو سندھ کے محکمہ سیاحت اور ثفاقت آرٹس اکیڈمی شروع کرنے کے لیے کراچی کی تاریخی عمارت ہندو جِمخانہ معروف اداکار اور صداکار ضیاء محی الدین کے حوالے کر دی تھی۔

صوبائی وزیر سیاحت اور ثقافت سسی پلیجو کا کہنا ہے کہ یہ عمارت ہندو برادری کی ملکیت ہے اور شہر میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں وہ اپنے تہوار منا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے زبردستی وہاں سے سامان باہر پھنکوا کر اپنے رشتہ داروں کے کہنے پر یہ عمارت خالی کروا کر ناپا کے حوالے کیا۔ اس کی ابتداہی غلط تھی اور پیپلز پارٹی نے اپوزیشن بھی اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس عمارت میں تاریخی نوعیت کے سامان کو بے دردی سے حیدرآباد کے میوزیم میں منتقل کیا گیا جس کی بڑی اہمیت تھی۔

صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے تعلق کی وجہ سے انتقام لینے کی بات غلط ہے، پیپلز پارٹی انتقام میں یقین نہیں رکھتی ہے۔ اس عمارت کو ہندو کمیونٹی کی سرگرمیوں کے لیے وقف کیا جائے گا۔

شہر کے مرکزی علاقے اور آرٹس کونسل کے سامنے ایم آر کیانی روڈ پر واقع اس عمارت میں ضیا محی الدین نے ’ناپا‘ کی بنیاد رکھی۔ اکیڈمی کا افتتاح بھی سابق صدر نے کیا تھا۔

’ہمارا احتجاج‘
 آرٹسٹوں کے پاس وہ طاقت نہیں ہے جو وکیلوں کے پاس ہے۔ ہمارا دل تو بہت دکھے گا اور رنج بھی ہوگا شرافت کے دائرے میں رہتے ہوئے جو مزاحمت کرسکیں گے وہ کریں گے
 
ارشد محمود
ملک کے سب سے بڑے شہر میں بسنے والی ہندوؤں کی تنظیمیں کئی سال سے مطالبہ کرتی رہ تھیں کہ یہ عمارت ان کے حوالے کی جائے تاکہ وہ اس میں اپنے مذہبی تہوار منا سکیں۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد صوبائی وزیر سیاحت اور ثقافت سسی پلیجو نے ہندو جِمخانہ کی عمارت ہندو کمیونٹی کے حوالے کرنے کا اعلان کیا اور وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے اس کی منظوری دی تھی۔

صوبائی محکمہ سیاحت اور ثقافت کی جانب سے گزشتہ دنوں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا گیا ہے، جس میں انہیں تین ماہ کے اندر عمارت خالی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کراچی کے ہندؤوں کا حق
 پیپلز پارٹی کی حکومت کے قیام کے بعد صوبائی وزیر سیاحت اور ثقافت سسی پلیجو نے ہندو جِمخانہ کی عمارت ہندو کمیونٹی کے حوالے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
 
نوٹس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ناپا انتظامیہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس تاریخی عمارت میں تھیٹر اور آڈیٹوریم تعمیر کیا ہے جبکہ قومی ورثہ قرار دی گئی عمارت میں کوئی بھی تعمیر قانون کی خلاف ہے۔

ہندو جِمخانہ کی عمارت انیس سو پچیس میں تعمیر ہوئی، جو مغل طرز تعمیر کا ایک نمونہ ہے۔ قیام پاکستان سے قبل شہر کا ہندو امراء کا طبقہ اس میں سماجی سرگرمیاں منعقد کیا کرتا تھا، اس عمارت کی تعمیر کے لئے سیٹھ رام گوپال نے رقم فراہم کی تھی۔

سابق صدر پرویز مشرف نے اکیڈمی کے افتتاح کے موقع پر کہا تھا کہ اس عمارت کے تاریخی اور ثقافت پس منظر کی وجہ سے اس کا انتخاب کیا گیا ہے۔

نیشنل پرفارمنگ آرٹس اکیڈمی کا کہنا ہے کہ یہ اپنی طرز کا پاکستان میں واحد ادارہ ہے جو گائیکی، اداکاری، ساز اور ڈانس میں تین سال کا ڈپلومہ کورس کراتا ہے تاہم اس کی فیس عام شہری کے پہنچ سے دور ہے جس وجہ سے شہر کی امراء کے بچوں کی اکثریت ہی یہاں داخلہ لیتی ہے۔

مشرف کا تعلق نہیں
 جب ارشد محمود سے پوچھا گیا کہ پرویز مشرف کی بیٹی کی ادارے سے مبینہ وابستگی کی وجہ سے یہ عمارت ان سے خالی کرائی جارہی تو انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ان کی بیٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ لوگ یہ تاثر کیوں لیتے ہیں وہ اس کی سرپرستی کرتی ہیں
 

اکیڈمی کے سربراہ ضیاء محی الدین ہیں جبکہ انور ساجد، طلعت حسین، راحت کاظمی، ارشد محمود، کمال الدین بورڈ کے ممبر ہیں۔

رواں سال جنوری میں اکیڈمی سے پہلا بیچ فارغ تحصیل ہوچکا ہے، جبکہ دیگر دو سو لوگ زیر تربیت ہیں۔

اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروگرامز اور نامور اداکار ارشد محمود کا کہنا ہے کہ انہوں نے معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے اور نہ ہی کوئی غیر قانونی تعمیر کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اس عمارت میں منتقل ہونے سے پہلے ہی اس میں اوپن تھیٹر موجود تھا۔ انہوں نے کہا اسی اراضی میں تعمیر کی گئی ہے اور تھیٹر ہی بنایا ہے کوئی بورڈنگ ہاؤس یا پلازہ نہیں بنایا۔

ارشد محمود کا کہنا ہے کہ ان کے آنے سے قبل عمارت کی حالت خستہ اور اجاڑ تھی، بارش میں چھت ٹپکتی تھی اس کی بہتری اور بحالی پر کافی پیسے خرچ کیے گئے ہیں۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پرویز مشرف کی بیٹی کی ادارے سے مبینہ وابستگی کی وجہ سے یہ عمارت ان سے خالی کرائی جارہی تو انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ان کی بیٹی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ لوگ یہ تاثر کیوں لیتے ہیں وہ اس کی سرپرستی کرتی ہیں۔

ارشد محمود نے کسی احتجاج سے انکار کیا اور کہا کہ آرٹسٹوں کے پاس وہ طاقت نہیں ہے جو وکیلوں کے پاس ہے۔ اننہوں نے کہا کہ ان کا دل تو بہت دکھے گا اور رنج بھی ہوگا شرافت کے دائرے میں رہتے ہوئے جو مزاحمت کرسکیں گے وہ کریں گے۔

 
 
اسی بارے میں
صدر مشرف: 1999 سے لیکر 2008 تک
07 August, 2008 | پاکستان
صدر مشرف صحافی پر برس پڑے
25 January, 2008 | پاکستان
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد