رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
|
 |
 |
|
| طالبان نے جرگے کے کہنے پر چودہ مغوی رہائشیوں کو رہا کر دیا |
صوبہ سرحد کی شورش زدہ وادی سوات میں اطلاعات کے مطابق طالبان اور مقامی لوگوں کے مابین دو دن سے جاری لڑائی جرگے کی مداخلت پر
روک دی گئی ہے جبکہ لڑائی میں درجنوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
جمعہ کو تحصیل مٹہ کے علاقے منڈل ڈاگ میں شروع ہونے والی اس لڑائی میں مقامی ذرائع کے مطابق دس طالبان اور بیس عام شہری مارے گئے
ہیں جبکہ سنیچر کو پاکستان فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں ہلاکتوں کی کل تعداد بیس بتائی گئی تھی۔
سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی تھی جب مقامی طالبان نے منڈل ڈاگ نامی گاؤں کے رہائشی سمیع اللہ
نامی ایک پیر کو اغواء کرنے کی کوشش کی تھی۔
تاہم مقامی صحافیوں کے مطابق مذکورہ پیر کے مریدوں اورگاؤں کے لوگوں نے اکھٹا ہو کر اغواء کی کوشش ناکام بنائی اور طالبان پر حملہ
کر دیا جس کے بعد فریقین کے مابین لڑائی شروع ہوگئی جو تقریباً دو دن تک جاری رہی۔ مقامی صحافیوں کے مطابق لڑائی میں بھاری ہتھیاروں
کا استعمال بھی کیا گیا۔
مقامی صحافی شیرین زادہ کے مطابق لڑائی بند کروانے کے لیے سنیچر کو ایک مقامی جرگے نے فریقین سے ملاقات کی جس کے بعد جنگ بندی
کا فیصلہ ہوا۔
ادھر سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان حاجی مسلم خان نے کہا ہے مٹہ میں ہونے والے لڑائی میں ان کا کوئی طالب جنگجو ہلاک نہیں
ہوا ہے بلکہ صرف تین طالبان زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی کے دوران گاؤں کے چودہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جنہیں
بعد میں جرگہ کی درخواست پر آزاد کر دیا گیا۔
 |
|
| سکیورٹی فورسز نے طالبان کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں |
دوسری طرف سوات کے دیگر علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں اور تشدد کے ایک تازہ واقعہ میں مارٹر گولہ گھر پرگرنے
سے تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح تحصیل کبل میں عسکریت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کے ایک مرکز پر حملہ کیا جس میں تین سکیورٹی
اہلکار زخمی ہوگئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ایک مارٹر گولہ گھر پرگرنے سے خاتون سمیت تین افراد
ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ سوات میں جاری آپریشن میں اب تک درجنوں عام شہری مارے جاچکے ہیں
|