Saturday, 30 August, 2008, 21:06 GMT 02:06 PST
ذیشان ظفر
اسلام آباد
حکومت نےرمضان پیکج کا اعلان کرتے ہوئے یوٹیلٹی سٹورز پر دستیاب کھانے پینے کی اشیاء پر پونے دو ارب روپے کی رعایت دینے کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نوید قمر نے سنیچر کواسلام آباد میں پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ رمضان کے مہینے کے دوران آٹے سمیت زیادہ استعمال ہونے والی اشیا پر اضافی رعایت دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ زخیرہ اندوزی اور دوکانداروں کو فروخت روکنے کے لیے یوٹیلٹی سٹورز پر محدور سپلائی کے باعث رعایتی اشیاء کے حصول کے لیے ہو سکتا ہے کہ لوگوں کو قطاروں میں انتظار کرنا پڑے۔
یوٹیلٹی سٹورز پر جن چیزوں پر خاص طور پرخصوصی رعایت دی گئی ہے ان میں آٹا اب پندرہ روپے فی کلو میں مل سکے گا۔ جو اس سے پہلے بیس روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔
واضع رہے کہ سولہ کروڑ آبادی کے لیے حکومتی سرپرستی میں چلنے والے ادارے یوٹیلٹی کارپوریشن آف پاکستان کے مطابق اس وقت پاکستان کے زیرانتظام کمشیر سمیت ملک کے انچاس شہروں میں سنتالیس سو یوٹیلٹی سٹورز کام کر رہے ہیں۔
نوید قمر کے مطابق یوٹیلٹی سٹورز پر دستیاب عام استعمال کی دیگر اشیاء پر بھی معمولی رعایت کی جائے گی۔ جبکہ مجموعی طور پر ایک ماہ کے دوران پونے دو ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ یوٹیلٹی سٹورز پر دستیاب رعایتی اشیاء خاص طور پر آٹا عام لوگوں کے بجائے دوکان داروں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے حکومت محدور مقدار میں آٹا یوٹیلٹی سٹورز پر مہیا کرے گی۔
نوید قمر نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ محدور سپلائی کی وجہ سے یوٹیلٹی سٹورز کے باہر آٹے کے حصول کے لیے قطاریں نظر آ سکتی ہیں۔ نوید قمر کے بقول یوٹیلٹی سٹورز پر بازار کی نسبت کم قمیت پر اشیاء کے حصول کے لیے لوگوں کو یہ تکلیف برداشت کرنی پڑے گی۔
یاد رہے کہ پاکستان میں ماہ رمضان کے دوران اشیائے خورد و نوش کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آتا ہے تاہم ہر سال حکومتی دعووں کے باوجود ماہ رمضان کے دوران اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ جبکہ بعض جگہوں پر عدم دستیابی دیکھنے میں آتی ہے۔ لوگوں کی اکثریت یوٹیلٹی سٹورز کی کم تعداد پر بھی نالاں نظر آتی ہے۔