Thursday, 21 August, 2008, 16:10 GMT 21:10 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کامT کوئٹہ
بلوچستان کے ضلع کوہلو کے دیہاتوں سے کشیدگی کی اطلاعات ہیں جہاں سے مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے سو کے لگ بھگ افراد کو حراست میں لیا ہے اور کچھ ہلاکتوں کے دعوے بھی کیے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
کوہلو سے مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ جمعرات کی صبح سویرے سکیورٹی فورسز نے کوہلو کے علاقے آندھاری، باریلی، چھپر، پوہڑی، نساؤ، جھبر، مخمار اور دیگر علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیا ہے اور بعض مقامات پر حملے بھی کیے ہیں۔
ان لوگوں نے مختلف مقامات سے ٹیلیفون پر بتایا کہ جھبر میں روشان مری مخمار میں جمعہ مری اور باریلی میں میر جان مری کے مکانات پر گولے گرنے سے ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ اس کارروائی کے دوران ایک سو کے لگ بھگ افراد کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
مری اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔
سرکاری سطح پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی اور سکیورٹی فورسز کے حکام نے کہا ہے کہ ایسی کوئی کارروائی ان علاقوں میں نہیں کی گئی۔
یاد رہے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے مضافاتی علاقوں سے آئے روز سکیورٹی فورسز اور قومی تنصیبات پر حملوں اور راکٹ باری کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں اور ان علاقوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔
بلوچستان کے ان دو شہروں میں دسمبر سن دو ہزار پانچ میں مبینہ طور پر فراری کیمپوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی گئی تھی اور پھر چھبیس اگست سن دو ہزار چھ کو نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔