Tuesday, 19 August, 2008, 08:35 GMT 13:35 PST
دلاور خان وزیر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ڈیرہ اسماعیل خان
صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈسٹرکٹ ہسپتال کے احاطے میں ہونے والے خود کش بم حملے میں کم از کم اٹھائیس افراد ہلاک اور ستائیس شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل پولیس کے ایک افسر عبدالغفور نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو دوپہر دو بجے کے قریب ڈیرہ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں بم کا ایک زوردار دھماکہ ہوا۔
انہوں نے کہا ہلاک ہونے والے افراد میں متعدد پولیس اہلکار اشمل ہیں جبکہ ایک پولیس ڈی ایس پی سمیت متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکہ خوکش حملہ آور نے کیا ہے۔پولیس کے ایک ہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ خوکش حملہ آور کے اعضاء مل گئے ہیں۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے سے پہلے ہسپتال کے سامنے نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والےایک شخص کو ہلاک کیا تھا جس کی لاش کو پولیس اہلکار شعبۂ حادثات میں لےگئے۔
اس واقعے کے بعد اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد ہسپتال کے احاطے میں جمع ہوگئے اور اسی دوران وہاں زوردار دھماکہ ہوا۔
پشاور میں بی بی سی اردو کے نمائندہ عبدالحئی کاکڑ کے مطابق تحریک طالبان نے صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں منگل کو ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری کارروائی کا ردعمل ہے۔
پولیس افسر عبدالغفور نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے بعد ڈیرہ شہر اور سرکلر روڈ پر پولیس کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور شہر کے داخلی راستوں پر ناکے لگائے گئے ہیں۔ پولیس نے لوگوں کی جامہ تلاشی کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں اس سے پہلے بھی کئی بار خودکش حملے اور بم دھماکے ہو چکے ہیں جس میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کا شمار فرقہ وارانہ لحاظ سے انتہائی حساس شہروں میں ہوتا ہے۔