BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 August, 2008, 04:58 GMT 09:58 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
رات بھر جھڑپیں، وانا میں کرفیو
 

 
 
 فائل فوٹو
اعلان میں کہا گیا ہے کہ گھروں سے باہر پھرنے والے گن شیپ ہیلی کاپٹر کا نشانہ بھی بن سکتے ہیں
وانا شہر میں جاری کرفیو کے دوران شام پانچ بجے مسلح طالبان نے فوج کی چند گاڑیوں پر حملہ کیا۔

سکیورٹی فورسز نے بھی جوابی کارروائی شروع کی ہے جس کے بعد سے شہر کے مختلف علاقوں سے حملوں کی اطلاعات ہیں۔

ذرائع کے مطابق بہت قریب سے ایک دوسرے پر فائرنگ ہورہی ہے اور کئی ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ گن شپ ہیلی کاپٹر سے فائرنگ کی جارہی ہے اور قریبی پہاڑی سے توپخانہ بھی استعمال کیا جارہا ہے۔

اس سے قبل سکیورٹی فورسز اور ملا نذیر گروپ کے مقامی طالبان کے درمیان تمام رات شدید جھڑپوں کے بعد وانا شہر میں کرفیو نافذ کردیاگیا ہے۔

سکیورٹی فورسز کے کہنے پر مرکزی مساجد سے ایک اعلان کے ذریعے لوگوں کوگھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ رات شہر سے تین کلومیٹر دور مشرق کی جانب علاقہ تیارزہ خلہ اور گژپیزہ میں ملا نذیر گروپ کے مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز کے ٹھکانوں پر راکٹوں اور دیسی ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔

اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے مقامی طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں وانا سکاؤٹس کیمپ سے کئی ٹھکانوں پر توپخانے کا بھی استعمال کیا گیا۔

دوسری جانب مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کرفیو کی وجہ سے عام اور بے گناہ لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ کرفیو سے شہر میں میوے اور سبزی کی منڈی بھی بند ہوگئی ہے جس سے ایک دن میں لاکھوں کا مال ضائع ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وانا کے رہائشیوں کی آمدن کا ذریعہ پورے سال میں یہی تین مہینے ہیں۔

پاکستان فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات وانا شہر سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ایک سو کےقریب مقامی جنگجوؤں نے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملہ کیا جس کے نتیجہ میں سکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان ہوا۔ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کی جس میں گیارہ عسکریت پسند ہلاک جبکہ بیس زخمی ہوگئے ہیں۔

اس سلسلے میں جب مقامی طالبان کمانڈر ملا نذیر سے رابطہ کیا تو ان کے ایک ساتھی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملا نذیر گروپ کے مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز پر کوئی حملہ نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا ان کا حکومت کے ساتھ امن معاہدہ موجود ہیں لیکن حکومت جان بوجھ کر وانا کی امن امان خراب کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کے ساتھیوں نے بھی حملہ نہیں کیا ہے تو ان کے ساتھی کیسے ہلاک ہوگئے ہیں۔ انہوں نے حملے اور ہلاکتوں کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب مقامی لوگوں کے ایک جرگہ نے پولیٹکل انتظامیہ سے ملاقات کی ہے جس میں جرگہ نے پولیٹکل انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ کرفیو کی وجہ سے شہر میں میوے اور سبزی کی منڈی بھی بند ہوگئی ہیں۔ جس میں لاکھوں کا مال پھنس گیا ہے جرگے کا مطالبہ ہے کہ منڈی میں موجود مال کو نکالنے کے لیے کرفیو میں نرمی کرکے راستہ کھول دیا جائے۔

دوسری جانب ادھر سوات میں نامعلوم افراد نے رات کو مٹہ کے علاقے میں بس سٹینڈ کو بارودی دھماکے سے تباہ کر دیا ہے۔ایک مقامی صحافی شیرین زادہ نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے میں تین کمرے بھی مکمل طورپر تباہ ہوگئے

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد