|
احمد فراز چلے گئے
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عصرِ حاضر کے ممتاز شاعر احمد فراز طویل علالت کے بعد پیر کی رات اسلام آباد میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر چھہتر برس تھی۔
ہسپتال کے ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے احمد فراز کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔
احمد فراز کو گردوں کے عارضے سمیت کئی امراض لاحق تھے۔ جولائی کے وسط میں احمد فراز امریکہ میں پاکستانی نژاد ڈاکٹروں کی تنظیم ’اپنا‘ کے سالانہ کنونشن میں مشاعرے میں شرکت کے لیے واشنگٹن ڈی سی گئے تھے جہاں وہ گر پڑے تھے اور ان کے گھٹنوں پر چوٹیں آئي تھیں۔ ان چوٹوں سے انہیں ابتدائی طور انفیکشن ہوگیا تھا۔ شکاگو کے ایک ہسپتال میں گردوں کے عارضے کیوجہ سے احمد فراز کو ڈائلیسس مشین پر رکھا گيا تھا۔ انہوں نے سوگواروں میں بیوہ اور دو بیٹوں چھوڑے ہیں۔ احمد فراز جنہوں نے ایک زمانے میں فوج میں ملازمت کی کوشش کی تھی، اپنی شاعری کے زمانۂ عروج میں فوج میں آمرانہ روش اور اس کے سیاسی کردار کے خلاف شعر کہنے کے سبب کافی شہرت پائی۔ انہوں نے ضیاالحق کے مارشل لا کے دور کے خلاف نظمیں لکھیں جنہیں بہت شہرت ملی۔مشاعروں میں کلام پڑھنے پر انہیں ملٹری حکومت نے حراست میں لیے جس کے بعد احمد فراز کوخود ساختہ جلاوطنی بھی برداشت کرنا پڑی۔ سنہ دوہزار چار میں جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دورِ صدارت میں انہیں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا لیکن دو برس بعد انہیں نے یہ تمغا سرکاری پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے واپس کر دیا۔ احمد فراز نے کئی نظمیں لکھیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا گیا۔ ان کی غزلیات کو بھی بہت شہرت ملی جن میں ’رنجش ہی سہی، دل ہی دکھانے کے لیے آ‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ ان کی وفات پر وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی اور قائم مقام صدر میاں محمد سومرو نے گہر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ |
اسی بارے میں
فراز تین اگست کو وطن واپس01 August, 2008 | پاکستان
احتجاج کی شاعری دم توڑ چکی ہے: فراز03 April, 2007 | فن فنکار
جدوجہد جاری رکھوں گا: فراز20 May, 2007 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||