|
بھگوان کا جنم دن منانے کے لیئے آٹے کی چوری
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے شہر میر پور خاص کے تیرہ سالہ گوردھن مینگھواڑ کے گھر پر دو روز قبل تک بھوک اور افلاس کا دور دورہ تھا مگر آج ہمدردی
کے لیئے آنے والے لوگوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔
تیرہ سالہ گوردھن کو پولیس نے دو روز قبل دس کلو آٹے کا تھیلا چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا جس کی میڈیا میں تشہیر کے بعد اعلیٰ حکام کی مداخلت پر انہیں جمعہ کے روز رہا کر دیا گیا۔ یتیم گوردھن مینگھواڑ میرپورخاص کے ستار نگر میں ڈیڑھ سو گھروں پر مشتمل ہندو محلے کے ایک کچے گھر میں اپنی ماں شریمتی بینا، بارہ سالہ بہن مینا اور چودہ سالہ بھائی منجی عرف جیئمل کے ساتھ رہتے ہیں۔ ہندوؤں کے اوتار شری کرشن کے جنم دن یعنی جنم اشٹمی سے دو روز قبل یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ گوردھن کا کہنا تھا کہ تین روز سے گھر میں کچھ نہیں پکا تھا، جنم اشٹمی کے تہوار کے لیئے وہ علاقے کے دکاندار کے پاس ادھار پر آٹا لینے گیا مگر دکاندار نے انکار کر دیا۔
میڈیا میں یہ خبر نشر اور شائع ہونے کے بعد پولیس نے مقامی کاؤنسلر پریم کمار اور دکان مالک کی مداخلت پر اسے رہا کروایا۔ حکمران پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ، ہندو پنچایت سمیت این جی اوز نے گوردھن کے گھر پر آٹا اور دیگر سامان پہنچایا ہے، جبکہ ایک اقلیتی مل مالک نے گوردھن کے بڑے بھائی چودہ سالہ منجی کو مزدوری پر رکھ لیا ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب پانی سر سے گزر گیا۔ گوردھن کا کہنا ہے کہ وہ گھروں کے تعمیراتی کام کی مزدوری کرتے ہیں جو کبھی ملتی ہے تو کبھی نہیں۔ ان کے مطابق دو ماہ قبل ایک سیٹھ نے انہیں دو ہزار روپے پر ملازم رکھا تھا مگر بعد میں پندرہ دن کے بعد آدھی مزدوری دیکر فارغ کر دیا۔ گوردھن کا چودہ سالہ بھائی منجی بھی کئی روز سے بیروزگار ہے جبکہ اس کی چھوٹی بہن بارہ سالہ مینا ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہے۔ شریمتی بینا کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کا کوئی ڈیڑھ سال قبل انتقال ہوگیا تھا، جس کے بعد وہ دربدر ہیں۔ اس سے قبل وہ حیدرآباد میرپور خاص روڈ پر واقع خواجہ اسٹینڈ میں رہتے تھے جہاں سے روزگار کی تلاش انہیں میرپور خاص لیکر آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا عادی چور نہیں، اس نے مجبوری میں چوری کی، وہ آٹا لینے گیا تھا، مگر دکاندار نے انکار کیا تو اس نے زبردستی کی۔
پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے عرصے میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ وفاقی ادارہ برائے شماریات اس اضافے کو پچیس فیصد قرار دیتا ہے۔ ستار نگر میں واقع گھر بھی بیوہ بینا کو ان کی برادری کے لوگوں نے عارضی بنیادوں پر دیا ہے۔ گھر مالکان روزگار کے لیئے کراچی منتقل ہوگئے ہیں۔ میرپور خاص کے اقلیتی کاؤنسلر پریم کمار کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کے مستقل روزگار اور بیمار بچی کے علاج کی ضرورت ہے جو انتظام حکومت ہی کرسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میرپور خاص میں اقلیتی لوگوں میں غربت زیادہ ہے، دیگر اضلاع کے ساتھ یہاں بھی مستحقین کی مدد کے لیے بیت المال موجود ہے مگر اس سے کسی مستحق کی کوئی مدد نہیں کی جاتی۔ ان کے مطابق کہا جاتا ہے کہ بیت المال میں اقلیت کا دو فیصد حصہ ہے مگر کسی کو یہ رقم ملتے ہوئے انہوں نے کبھی نہیں دیکھا نہ ہی انہیں اس بارے میں بتایا جاتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے غریبوں کی مدد کے لیئے رواں مالی سال کے بجٹ میں بیت المال کے لیئے ایک خطیر رقم مختص کی گئی ہے اور بینظیر بھٹو سپورٹ کارڈ کے اجرا کا اعلان کیا گیا مگر بینا کے گھر کی کہانی حکومت سے پالسیوں پر عمل کی بھی طلب گار ہے۔ |
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||