|
ستر سالہ دلہن، اسی سالہ دلہا
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع کوہاٹ کے گاؤں اُسترزئی میں ایک ایسے عمر رسیدہ شادی شدہ جوڑے کی رخصتی کی رسومات کی تیاریاں جاری ہیں جنہوں
نے تقریباً اڑتالیس سال قبل رسومات ادا کیے بغیر جیون کا سفر شروع کیا تھا۔
گاؤں والےاٹھارہ اگست کو ایک ایسی شادی کی خوشیوں میں شرکت کریں گے جس میں دلہن کی عمر تقریباً ستر سال اوردولہے انور علی کی اسی سال ہوگی جبکہ بینائی سے محروم ضعیف دلہن کو سہارا دیکر صحت مند دولہے کے پہلو میں بٹھایا جائے گا۔ یونین کونسل اُسترزئی پایاں کے دفتر کے چوکیدار انور علی عُرف امان کاکا کو اپنی شادی کی صحیح تاریخ معلوم نہیں ہے۔انہوں نےحافظہ پر زور دیکر بتایا کہ ان کی شادی اس وقت ہوئی تھی جب ایوب خان کے دور حکومت میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ جاری تھی۔ اکلوتی بیٹی کے والد انور علی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کراچی میں محنت مزددوری کر رہے تھے کہ گاؤں کے ایک شخص قمبر علی اپنی بیٹی کے ہمراہ ان کے پاس آئےاور کہا کہ ’ایک ماہ قبل آپ کے گھر والوں کے ساتھ ملکر ہم نے آپ کا نکاح میری بیٹی کے ساتھ پڑھوا دیا تھا اور اب میں اس کو آپ کے حوالے کرکے واپس جارہا ہوں۔‘ انور علی کو دکھ ہوا کہ گھر والوں نےان کی غیر موجودگی میں شادی کرکے انہیں زندگی کے خوبصورت ترین لمحات میں خوشیاں منانے سے محروم کردیا، نہ ان کے گھر کے آنگن میں گاؤں کے عورتوں نے اتنڑ( رقص) کرکےان کے نام کے ٹپے (ماہیئے) گائے اور نہ ہی ان کی سہرا بندی ہو سکی۔ یہی محرومی لیکر وہ دو سال بعد اپنی بیوی کے ہمراہ کراچی سے اپنے گاؤں واپس آئے اور کنٹونمنٹ بورڈ میں بطور مالی بھرتی ہوگئے۔ وہاں سے ساٹھ سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ لی مگر کئی سال گزر جانے کے باوجود رخصتی کی رسومات کے بغیر شادی ہونے کا شکوہ ان کی زبان کے ساتھ چِپک ساگیا۔ آخر میں دوستوں نےان کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے رخصتی کی تمام رسومات اپنے ہی خرچے پر ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ گلزار علی ان کے دوست اور رخصتی کی رسومات کے منتظم ہیں۔ان کے بقول ’انور علی کا ہروقت یہی گلہ رہتا تھا کہ میری شادی تو بغیر کسی رسم کے ہوئی، میری خواہش ادھوری رہ گئی ہے جس کے بعد ہم چھ دوستوں نے ملکر ان کی رخصتی کی رسومات ادا کرنےکا فیصلہ کرلیا۔‘ دوستوں نے یونین کونسل کے ناظم کے ساتھ ملکر ان کی شادی کے پوشاک تیار کرلی اور پروگرام کے مطابق اٹھارہ اگست کو پشتون روایات کے مطابق ان کے تزئین شدہ کمرے میں دولہے کے پلنگ پر بٹھاکر ان کی سہرا بندی کی جائے گی۔ جبکہ دولہن رسم کے مطابق دوسرے کمرے میں بیٹھی ہوگی۔ گلزار علی کے مطابق شام چار بجے دونوں کو خصوصی طور پر سجائی گئی ایک گاڑی میں بٹھا کر بارات کی شکل میں گاڑیوں کے ایک کاروان میں ان کی خواہش کے مطابق قریبی گاؤں ابراہیم زئی میں حضرت عباس علمدار کے مزار پر لیجایا جائے گا ۔ دعائیں مانگنے کے بعد بارات کئی علاقوں سے گزر کر انور علی کے گھر واپس آئے گی۔ رات کو ولیمہ ہوگا جس میں ضلعی ناظم اور صوبائی اسمبلی کے رکن سمیت درجنوں کی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے اور یوں رات ڈھلتے ہی انور علی کی برسوں پرانی خواہش کی بلآخر تعمیل ہوجائے گی۔ |
اسی بارے میں
ہم جنس جوڑا شادی کے بعد روپوش05 October, 2005 | پاکستان
شائستہ کیس، الطاف حسین کی دھمکی15 January, 2004 | پاکستان
ولی کے بغیر شادی جائز ہے: سپریم کورٹ19 December, 2003 | پاکستان
’شائستہ کو طلاق دے دی‘03 December, 2003 | پاکستان
پیار کیا کوئی چوری نہیں کی02 December, 2003 | پاکستان
ٹھٹہ:تشدد کا نیا واقعہ30 September, 2003 | پاکستان
سُسر نے زنجیروں میں باندھا 30 September, 2003 | پاکستان
والدین بچوں کے گھر نہ اجاڑیں، عدالت عالیہ11 November, 2003 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||