Wednesday, 30 July, 2008, 12:04 GMT 17:04 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
جنوبی پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں مبینہ طالبان نے خطوط کے ذریعے دھمکی دی ہے کہ جن خواتین کو وہ بے پردہ سمجھیں گے ان کے چہروں پر تیزاب پھینک دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ علاقے میں انٹرنیٹ، کیبل ٹی وی اور میوزک سینٹروں کو کاروبار بند کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔
مظفر گڑھ کے ضلعی پولیس افسر شہزاد سلطان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ تحصیل کوٹ ادو میں بعض افراد کو ایسے دھمکی آمیز خطوط ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان خطوط کے ذریعے مبینہ طالبان فحاشی اور عریانی روکنا چاہتے ہیں۔
خط بظاہر تحریک اسلامی طالبان مظفر گڑھ کی جانب سے لکھے گئے ہیں اور انٹرنیٹ کیفے، کیبل ٹی وی نیٹ ورک اور میوزک سینٹروں کو کہا گیا ہے کہ وہ پندرہ روز کے اندر یہ کاروبار بند کردیں ورنہ مجاہدین کارروائی کریں گے۔ خط میں اس کارروائی کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔
کوٹ ادو پنجاب کا ایک پسماندہ قصبہ ہے۔ اس قصبے کی خواتین کو کہا گیا ہے کہ وہ بے پردہ پھرنا چھوڑ دیں۔ خطوط میں انہیں اس پابندی پر عملدرآمد کے لیے پانچ روز کی مہلت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کے بعد بے پردہ خواتین کے چہروں کو تیزاب سے جھلسا دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں غیرت کے نام خواتین پر تیزاب پھینکے جانے کے ہر برس درجنوں واقعات ہوتے ہیں لیکن کسی مذہبی تنظیم کی جانب
سے تیزاب کو عورتوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی پہلی بار دی گئی ہے۔
|
تنبیہ
|
انہوں نے کہا پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ کوئی نئی مقامی تنظیم ہے یا ضلع میں بیرونی مداخلت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان خطوط کی اطلاع کے بعد پولیس کو متحرک کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک فحاشی کے انسداد کا معاملہ ہے یہ ذمہ داری پولیس کی ہے جسے وہ نبھانے کی کوشش کریں گے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ کسی دوسرے کو قانون کے نفاذ کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔
پاکستان کے صوبہ سرحد کے بعض علاقوں میں میوزک سینٹروں اور کیبل نیٹ ورک والوں کو دھمکیاں ملیں اور کئی کو تو بم دھماکوں کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن وسطی اور جنوبی پنجاب میں اس طرح کی دھمکیاں نئی ہیں۔