Friday, 25 July, 2008, 09:56 GMT 14:56 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
صوبہ سرحد کے شورش زدہ ضلع سوات میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے لڑکیوں کے سکول اور کپڑے کی ایک مارکیٹ کو دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا ہے جس سے دونوں عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔
پولیس کے مطابق یہ واقعات جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کبل تحصیل اور چار باغ میں پیش آئے۔
تھانہ کبل کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے توتانو بانڈئی میں واقع گرلز ہائی سکول میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جس کے پھٹنے سے دس کمروں پر مشتمل سکول میں پانچ کمرے مکمل طورپر منہدم ہوگئے ہیں۔
جائے وقوعہ کا دورہ کرنے والے سوات کے مقامی صحافی شیرین زادہ نے بتایا کہ دھماکے سے سکول کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ان کے مطابق پانچ کمرے مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں جبکہ دیگر پانچ کمرے بھی جزوی نقصان کی وجہ سے استعمال کے قابل نہیں رہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سکول سے تقریباً پانچ سو میٹر کے فاصلے پر پولیس اور فوج کی چیک پوسٹیں قائم ہیں۔
دوسرا واقعہ چارباغ کے مقام پر پیش آیا جہاں کپڑے کی ایک مارکیٹ میں دھماکے سے دس دکانیں تباہ ہوگئی ہیں۔
پولیس کے مطابق گلی باغ کے علاقے میں بھی ہئیر ڈریسر (نائی) کی ایک دکان کو نذرآتش کیا گیا ہے جس سے دکان جل کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی ہے۔
تاحال کسی تنظیم نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ مقامی انتظامیہ اس قسم کی وارداتوں کی ذمہ داری مقامی طالبان پر عائد کرتی رہی ہے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ سوات میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران پچاس سے زائد سکولوں کو نذرآتش یا بم دھماکوں میں نشانہ بنایا جاچکا ہے جن میں اکثریت لڑکیوں کے تعلیمی ادارے بتائے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ پولیس تھانوں ، چیک پوسٹوں اور ہوٹلوں پر بھی متعدد بار حملے کئے جا چکے ہیں۔
واضح رہے کہ سوات میں سرحد حکومت اور مولانا فضل اللہ کے حامی طالبان کے مابین ایک امن معاہدہ بھی طے پاچکا ہے تاہم اس کے باوجود وہاں تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر امن معاہدے کے خلاف ورزی کے الزامات لگاتے رہے ہیں۔