|
سنہرے مستقبل کے خواب کی تعبیر کے لیے
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ترکی اور یونان کی سرحد کے قریب رات کے اندھیرے میں اچانک وین رکی اور میرے سمیت وین میں سوار تمام دس ساتھی اس سے باہر نکلے ۔ہم
نے خوف کے عالم میں اس اندھیرے میں دائیں بائیں دیکھے بغیر جس طرف راستہ ملا بھاگنا شروع کردیا اور اسی دوران گولیاں چلیں جو
میری ٹانگ میں پیوست ہوگئیں۔‘
یہ الفاظ بیس سالہ اس پاکستانی نوجوان قاسم علی کے ہیں جو ترکی سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرکے یونان داخل ہونا چاہتا تھا۔قاسم ان تین سو انیس پاکستانیوں میں شامل ہے جنہیں ترکی جیل سے رہائی ملنے کے بعد پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔ قاسم اب چلنے پھرنے سے قاصر ہے۔
ان لوگوں کی کمی نہیں ہے جو سرحد پارکرتے ہوئےگرفتار ہوتے ہیں اور بعد ازاں انہیں بے دخل کرتے ہوئے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ ایجنٹوں سے اپنی رقوم کی واپسی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے میں درخواستیں دے کر متعلقہ دفاتر کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔ پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کے ایگ گاؤں چک نظام کا قاسم بھی ان نوجوانوں میں سے ایک ہے جو زورگار کے لیے بیرون جا کر اپنی خوابوں کی تکمیل چاہتا تھا اور اسی مقصد کے لیے اس نے ایک ایجنٹ کوبیرون ملک جانے کے لیے پانچ لاکھ روپے کی رقم ادا کی ہے۔
قاسم کے بقول ترکی کی جیل کو پاکستانی دوزخ کہتے ہیں اور غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوشش میں لوگ بھوک اور پیاس کی وجہ سے مرتے ہیں۔ وہاں لاشیں پڑی رہتی ہیں اور کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ یورپ جانے کا خواب دیکھنے قاسم کا اب کہنا ہے کہ لاکھوں روپے دیکر غیرقانونی طور سرحد پار کرنے سے بہتر ہے اسی رقم سے ملک کے اندر کوئی کام شروع کیا جائے۔ قاسم کے ستر سالہ والد اسلم کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں سے ادھار لے کر یہ رقم ایجنٹ کو ادا کی تھی۔ ان کے بقول انہوں نے یہ سوچا تھا کہ گھر کے حالات بھی بہتر ہوجائیں گے۔ ’ایجنٹ نے بڑے سبز باغ دکھائے اور زبانی یقین دہانی بھی کرائی تھی لیکن اب وہ غائب ہے اس کو کہاں تلاش کریں۔‘
قاسم کا بڑا بھائی ناصر جو یونان میں ہوتا ہے اور ان دنوں چھیٹوں پر گھر میں آیا ہوا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ انیس سال کی عمر میں ایک ایجنٹ کے ذریعے یونان گیا تھا اور اس غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنے میں جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ کسی بھی عزیز کو اس طرح بیرون آنے سے روکے گا۔ جہاں قاسم کے ستر سالہ والد اسلم کو اس بات کی خوشی ہے کہ ان کے بیٹے کی جان بچ گئی ہے وہاں وہ اس قرض کی رقم کی واپسی کے لیے بھی پریشان ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو بیرون ملک بھجینے کے لیے اپنے رشتہ داروں سے ادھار لی تھی اور اب انہیں اپنے بیٹے کے علاج کے لیے بھی رقم چاہیے۔ اسلم کو یہ امید ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ایجنٹ کے خلاف جو درخواست دی ہے اس پر کارروائی ہونے سے ان کو رقم واپس مل جائے گی۔ قاسم نہ تو پہلا اور نہ ہی ایسا آخری پاکستانی ہے جو ایک سنہرے مستقبل کے خواب کی تعبیر کے لیے انسانی اسمگلروں کے چال میں پھنس کر اپنی مالی دشواری کو کم کرنے کی بجائے اس میں اضافے کا باعث بن جاتے ہیں۔ |
اسی بارے میں
پناہ گزین: پاکستان پانچویں نمبر پر 18 March, 2008 | پاکستان
تین سو انیس تارکین وطن واپس28 July, 2008 | پاکستان
’ہم پاکستانی نہیں‘ 19 October, 2006 | پاکستان
’ویزہ لینے کے لیئے کشمیری ظاہر کیا‘20 October, 2006 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||