BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 July, 2008, 23:33 GMT 04:33 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
سنہرے مستقبل کے خواب کی تعبیر کے لیے
 

 
 
قاسم علی
اسلم کو یہ امید ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ایجنٹ کے خلاف جو درخواست دی ہے اس پر کارروائی ہونے سے ان کو رقم واپس مل جائے گی
ترکی اور یونان کی سرحد کے قریب رات کے اندھیرے میں اچانک وین رکی اور میرے سمیت وین میں سوار تمام دس ساتھی اس سے باہر نکلے ۔ہم نے خوف کے عالم میں اس اندھیرے میں دائیں بائیں دیکھے بغیر جس طرف راستہ ملا بھاگنا شروع کردیا اور اسی دوران گولیاں چلیں جو میری ٹانگ میں پیوست ہوگئیں۔‘

یہ الفاظ بیس سالہ اس پاکستانی نوجوان قاسم علی کے ہیں جو ترکی سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرکے یونان داخل ہونا چاہتا تھا۔قاسم ان تین سو انیس پاکستانیوں میں شامل ہے جنہیں ترکی جیل سے رہائی ملنے کے بعد پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔ قاسم اب چلنے پھرنے سے قاصر ہے۔

کس کو کہاں تلاش کریں
 ہم نے اپنے رشتہ داروں سے ادھار لے کر یہ رقم ایجنٹ کو ادا کی تھی۔ میں نے یہ سوچا تھا کہ گھر کے حالات بھی بہتر ہوجائیں گے۔ ایجنٹ نے بڑے سبز باغ دکھائے اور زبانی یقین دہانی بھی کرائی تھی لیکن اب وہ غائب ہے اس کو کہاں تلاش کریں
 
اسلم
پاکستان میں ایجنٹوں کو بھاری رقوم دے کر بیرون ملک جانا ایک معمول بن چکا ہے۔ یونان کو یورپ کا گیٹ وے کہا جاتا ہے اور اسی لیے ترکی کے راستے یونان داخل کرانے کے لیے ایجنٹ بھاری رقوم وصول کرتے ہیں۔

ان لوگوں کی کمی نہیں ہے جو سرحد پارکرتے ہوئےگرفتار ہوتے ہیں اور بعد ازاں انہیں بے دخل کرتے ہوئے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ ایجنٹوں سے اپنی رقوم کی واپسی کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے میں درخواستیں دے کر متعلقہ دفاتر کے چکر لگاتے نظر آتے ہیں۔

پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کے ایگ گاؤں چک نظام کا قاسم بھی ان نوجوانوں میں سے ایک ہے جو زورگار کے لیے بیرون جا کر اپنی خوابوں کی تکمیل چاہتا تھا اور اسی مقصد کے لیے اس نے ایک ایجنٹ کوبیرون ملک جانے کے لیے پانچ لاکھ روپے کی رقم ادا کی ہے۔

قاسم کے والد اسلم
قاسم کا کہنا ہے کہ اس کا بعض لوگوں سے رابط ہوا اور انہیں کے ذریعے وہ اس ایجنٹ تک پہنچا۔اس کے بقول ایجنٹ نے اسے بڑے خواب دکھائے اور یقین دلایا کہ وہ بحفاظت یونان پہنچ جائے گا۔

قاسم کے بقول ترکی کی جیل کو پاکستانی دوزخ کہتے ہیں اور غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوشش میں لوگ بھوک اور پیاس کی وجہ سے مرتے ہیں۔ وہاں لاشیں پڑی رہتی ہیں اور کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔

یورپ جانے کا خواب دیکھنے قاسم کا اب کہنا ہے کہ لاکھوں روپے دیکر غیرقانونی طور سرحد پار کرنے سے بہتر ہے اسی رقم سے ملک کے اندر کوئی کام شروع کیا جائے۔

قاسم کے ستر سالہ والد اسلم کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے رشتہ داروں سے ادھار لے کر یہ رقم ایجنٹ کو ادا کی تھی۔ ان کے بقول انہوں نے یہ سوچا تھا کہ گھر کے حالات بھی بہتر ہوجائیں گے۔ ’ایجنٹ نے بڑے سبز باغ دکھائے اور زبانی یقین دہانی بھی کرائی تھی لیکن اب وہ غائب ہے اس کو کہاں تلاش کریں۔‘

پاکستانیوں کی دوزخ
 ترکی کی جیل کو پاکستانی دوزخ کہتے ہیں اور غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے کی کوشش میں لوگ بھوک اور پیاس کی وجہ سے مرتے ہیں۔ وہاں لاشیں پڑی رہتی ہیں اور کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہوتی
 
قاسم علی
اسلم کا کہنا ہے کہ ان کی پہلی کوشش ہے کہ ان کا بچہ صحت مند ہوجائے۔ ابھی ڈاکٹر کو معائنہ کرایا ہے اور پندرہ دنوں کے بعد یہ معلوم ہوگا کہ اس کا دوبارہ آپریشن ہونا ہے یا نہیں۔

قاسم کا بڑا بھائی ناصر جو یونان میں ہوتا ہے اور ان دنوں چھیٹوں پر گھر میں آیا ہوا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ انیس سال کی عمر میں ایک ایجنٹ کے ذریعے یونان گیا تھا اور اس غیرقانونی طور پر سرحد پار کرنے میں جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ کسی بھی عزیز کو اس طرح بیرون آنے سے روکے گا۔

جہاں قاسم کے ستر سالہ والد اسلم کو اس بات کی خوشی ہے کہ ان کے بیٹے کی جان بچ گئی ہے وہاں وہ اس قرض کی رقم کی واپسی کے لیے بھی پریشان ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو بیرون ملک بھجینے کے لیے اپنے رشتہ داروں سے ادھار لی تھی اور اب انہیں اپنے بیٹے کے علاج کے لیے بھی رقم چاہیے۔

اسلم کو یہ امید ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے کو ایجنٹ کے خلاف جو درخواست دی ہے اس پر کارروائی ہونے سے ان کو رقم واپس مل جائے گی۔

قاسم نہ تو پہلا اور نہ ہی ایسا آخری پاکستانی ہے جو ایک سنہرے مستقبل کے خواب کی تعبیر کے لیے انسانی اسمگلروں کے چال میں پھنس کر اپنی مالی دشواری کو کم کرنے کی بجائے اس میں اضافے کا باعث بن جاتے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
’ہم پاکستانی نہیں‘
19 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد