BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 July, 2008, 21:15 GMT 02:15 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
سوات میں کشیدگی، ٹراؤٹ کا کاروبار مندا
 

 
 
ٹراؤٹ کی افزائش نو سے پندرہ درجہ حرارت والی پانی میں ہوتی ہے
صوبہ سرحد کی وادی سوات میں شدت پسندی اور مسلسل جاری کشیدگی نے جہاں ہر شعبہ زندگی کو نقصان پہنچایا ہے وہاں مقامی سطح پر قائم ٹراؤٹ مچھلی کے فارمز بھی شدید مالی بدحالی کا شکار ہوگئے ہیں جس سے ان فارمز کے بند ہونے کے خطرات پیدا ہورہے ہیں۔

سوات میں ٹراؤٹ ایک غیر مقامی مچھلی سمجھی جاتی ہے۔ اس مچھلی کی نسل سوات کے حکمران ( والی صاحب ) کے زمانے میں یورپی ممالک سے منگوائی گئی تھی جو آجکل دریائے سوات کے برفیلے پانی میں مختلف قسموں میں پائی جاتی ہے۔

ٹراؤٹ مچھلی کو ٹھنڈے اور بہتے پانی کی باسی ہونے کے علاوہ ایک حساس مچھلی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ صرف صاف و شفاف اور بہتے ہوئے پانی ہی میں زندہ رہ سکتی ہے جبکہ ٹراؤٹ دنیا بھر میں شکاریوں میں مقبول سمجھی جاتی ہے۔ اس مچھلی کی افزائش نو سے پندرہ درجہ حرارت والی پانی میں ہوتی ہے جبکہ پانی کا درجہ حرارت زیادہ ہونے جانے پر یہ مر جاتی ہے۔

سوات میں مقامی طورپر ٹراؤٹ مچھلی کے تقریباً بائیس کے قریب فارمز ہیں جہاں ہر سال ہزاروں کلوگرام مچھلی پیدا ہوتی ہے ۔ نجی طورپر قائم ان فارمز کو دیکھنے کےلئے ملکی اور غیر ملکی سیاح دور دراز علاقوں سے آتے تھے۔

تاہم گزشتہ کچھ عرصہ سے سوات میں کشیدگی کی وجہ سے ٹراؤٹ کا کاروبار بری طرح متاثر ہوا ہے۔

وادی مدئن میں مالاکنڈ دیہی ترقی پراجیکٹ کے تحت ٹراؤٹ مچھلی کا ایک بہت بڑا کلچر ٹریننگ سنٹر قائم ہے جہاں مقامی سطح پر ماہی پروری کی تربیت دی جاتی ہے۔ سن ساٹھ کے عشرے سے قائم اس سنٹر سے ملحق ٹراؤٹ کی ایک ہیچری بھی بنائی گئی ہے جہاں مچھلی فروخت کرنے کےلئے مختلف پوائنٹس بنے ہوئے ہیں۔

مرکز کے ایک ریسرچ افیسر جعفر یحٰیی نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں گزشتہ دو سالوں کے دوران امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب رہی ہے جسکی وجہ سے علاقے میں باہر سے آنے والوں سیاحوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحوں کی نہ ہونے کی وجہ سے مقامی سطح پر ٹراؤٹ فارمز بھی شدید مالی مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ کئی فارمز کے بند ہونے کے خطرات بھی پیدا ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوات میں ہر سال چالیس ہزار کلوگرام ٹراؤٹ مچھلی پیدا ہوتی تھی جبکہ ہر سیزن میں اس کے خریدار ان فارمز سے مچھلی خریدتے تھے۔ ان کے مطابق اس مچھلی کے زیادہ تر خریدار بیرونی ممالک، پنجاب اور سندھ سے آنے والے سیاح ہوتے تھے۔

ٹراؤٹ مچھلی دیکھنے میں جتنی خوبصورت ہے اتنی ہی کھانے میں بھی لذیز ہوتی ہے۔ دریائے سوات میں اس کی تین اقسام پائی جاتی ہیں جن میں براؤن ، رینبو اور کیملوپ ٹراؤٹ شامل ہے۔ سوات میں ٹراؤٹ کا غیر قانونی شکار بھی عام ہے۔

مدائن میں مقامی طورپر قائم دو ٹراؤٹ فش فارمز کے مالک محمد رشید کا کہنا ہے کہ جب سے سوات میں طالبان آئے ہیں تودیگر تجارتی سرگرمیوں میں کمی کے ساتھ ساتھ مچھلی کا کاروبار بھی بالکل ختم ہوکر رہ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’پہلے ہمارے پاس ہر سیزن میں اتنا رش ہوتا تھا کہ ہم ہوٹل مالکان سے پیشگی پیسے لیکر انہیں مچھلی سپلائی کرتے تھے لیکن اب تو یہ حال ہے کہ میری ایک ہیچری تو بند ہوگئی ہے جبکہ دوسری آخری سانسیں لے رہی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ان کے پاس پانچ سے لے کر سات ہزار کلوگرام تک مچھلی سٹاک میں ہے لیکن گاہک کوئی نہیں۔محمد رشید کے مطابق اگر علاقے میں یہی حالات جاری رہے تو آئندہ چند ماہ تک یہ کاروبار بالکل ختم ہوکر رہ جائے گا۔

 
 
اسی بارے میں
صاف ستھری آب و ہوا والی کار
28 December, 2003 | نیٹ سائنس
مچھلیاں ہوا کو ترس گئیں
30 March, 2004 | نیٹ سائنس
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد