Friday, 27 June, 2008, 11:48 GMT 16:48 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان میں بجلی سپلائی کرنے والے ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ گیس پائپ لائن کی تباہی سے گزشتہ ایک دو روز کے دوران بجلی کی قلت میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا جس پر اب قابو پالیا گیا ہے۔
واپڈا ہاؤس میں پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی یعنی پیپکو کے منیجنگ ڈائریکٹر فضل احمدخان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’تین دن قبل کشمور کے علاقے میں دو گیس پائپ لائنیں دھماکے سے اڑا دی گئی تھیں جس سے پاور پلانٹس کو گیس کی سپلائی بند ہوگئی تھی۔‘
انہوں نے کہا ’اس کی وجہ سے ملک میں بجلی کی قلت چار ہزار سے بڑھ کر اڑتالیس سو میگاواٹ تک پہنچ گئی اور شہریوں کو معمول سے زیادہ لوڈ شیڈنگ برداشت کرنا پڑی۔
گزشتہ روز ملک بھر میں اچانک لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہوگیا تھا اور ملک کے کئی حصوں میں کئی کئی گھنٹے بجلی بند رہی، مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے جبکہ گوجرانوالہ میں واپڈا کے دفتر پر حملہ کیا گیا اور سامان کو نذر آتش کر دیا تھا۔
پیپکو کے سربراہ نے کہا کہ پائپ لائنیں مرمت ہوگئی ہیں اور جس کے بعد کرائے کے بجلی گھروں کو گیس کی سپلائی بحال ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیدوار دوبارہ معمول پر آگئی ہے جس کے بعد شہری علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ واپس پانچ سے چھ گھنٹے روزانہ پر آگیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان ان دنوں کی بجلی کے بدترین بحران میں مبتلا ہے جس سے ایک طرف شہریوں کے معمولات زندگی متاثر ہورہے ہیں وہاں صنعتی پیداوار اور کاروباری سرگرمیاں پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
ماہرین کاکہنا ہے کہ اس بحران کی بڑی وجہ بجلی کی طلب میں ایسا اضافہ ہے جسے پورا کرنے کے لیے مناسب منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔
واپڈا کے ایک افسرکے مطابق اس سال میں بجلی کی روزانہ طلب سولہ ہزارہ سے سولہ ہزار سات سو پچاس میگاواٹ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی تھی۔
واپڈا حکام نے بجلی کی کھپت میں کمی کے لیے گھڑیوں کی سوئیاں ایک گھنٹے آگے کرنے کے علاوہ کاروباری اوقات محدود کیے ہیں جس سے صرف چھ سو میگا واٹ تک بجلی کی بچت ہوپارہی ہے۔
پاکستان میں پانی اوربجلی کے وزیر راجہ پرویز اشرف اس بحران کا ذمہ دار سابق حکمرانوں کو قرار دیتے ہیں جنہوں نے ان کےبقول آٹھ برس کےدوران بجلی پیدا کرنے کا کوئی یونٹ نہیں لگایا۔
وفاقی وزیر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس برس دسمبر تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کردی جائے گی۔