|
’خود کش حملوں میں 98 فیصد کمی‘
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پپلزپارٹی کی حکومت کے سو دن پورے ہونے پر جمعہ کو وفاقی وزیرِ اطلاعات شیری رحمان نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور اقتدار
میں خودکش حملوں میں اٹھانوے فیصد کمی آئی ہے۔
کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران شیری رحمان نے سابقہ نگراں حکومت کے تین ماہ کے دور کے مقابلے میں موجودہ حکومت کے پہلے سو دن میں حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے دہشت گردی میں زبردست کمی آئی ہے۔ اپنے اس بیان پر کہ خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن پر تمام حلیفوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ ان کا یہ بیان توڑمروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف نے کہا تھا کہ خیبر ایجنسی میں آپریشن شروع کرنے سے پہلے ان سے مشاورت نہیں کی گئی تھی اور اس قسم کا فیصلہ پارلیمنٹ میں ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندی پر قابو پانے کے لیے حلیف جماعتوں کے ساتھ پہلے ہی مذاکرات ہوچکے ہیں اور حکومت کو اپنی رِٹ قائم کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر کارروائی بھی کرنا پڑتی ہے۔ سو دن کی کارکردگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پپلزپارٹی کی مخلوط حکومت کے قیام کے بعد سیاسی اسیروں کو رہا کیا گیا اور گمشدہ افراد کے بارے میں تفصیلی غور کے بعد کئی افراد کی رہائی عمل میں لائی گئی جبکہ باقی افراد کی رہائی کے معاملے پر کام ہورہا ہے۔ ان کے بقول پہلے سو دن میں آٹے اور بجلی کے بحران پر قابو پانے کی کوشش کی گئی اور ان کے خاتمے کے لیے پالیسی تیار کرلی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹے اور دیگر ضروری اشیاء خوردونوش کے لیے ملک میں یوٹیلٹی اسٹورز کی تعداد کو چودہ اگست تک بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ ہر یونین کونسل کی سطح پر قائم کی جارہی ہیں تاکہ غریب آدمی کو کم قیمت پر روزمرہ کی اشیاء دستیاب ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اگلے ایک سال میں بجلی کی پیداوار میں تین ہزار میگاواٹ اضافہ کیا جائے اور اس میں بتدریج اضافہ ہرسال ہوتا رہے گا۔ ’ہم پاکستان کو پھر سے روشن بنادیں گے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پہلے سو دن کے دوران میڈیا کے خلاف عائد پابندیوں کو ختم کیا گیا اور پیمرا کے کالے قوانین کو بھی ختم کیا گیا۔
اس کے علاوہ لیبر یونین اور طلباء یونین پر عائد پابندیوں کو اٹھایا گیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بیس فیصد اضافہ کیاگیا،
پچھلی حکومت کی شاہ خرچیوں پر قابو پاتے ہوئے غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کیا گیا، صحت کے بجٹ میں بتیس فیصد اضافہ کیا گیا اور
بھارت کے ساتھ امن مذاکرات کو آگے بڑھایا گیا۔ |
اسی بارے میں
’ایوانِ صدر میں بھی جئے بھٹو ہوگا‘16 June, 2008 | پاکستان
’مشاورت سے نیا صدر لائیں گے‘17 June, 2008 | پاکستان
اے پی ڈی ایم: پیش رفت نہیں ہوئی19 June, 2008 | پاکستان
سندھ اسمبلی، پی پی پی کی تعداد 96 19 June, 2008 | پاکستان
’پی سی او ججوں کی مخالفت جاری‘21 June, 2008 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||