BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 June, 2008, 10:34 GMT 15:34 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
امریکی فوج کوتیل فراہم کرنے پر تنبیہ
 

 
 
آئل ٹینکر
تیل کراچی میں اتارا جاتا ہے اور پھر افغانستان لے جایا جاتا ہے
پاکستان کے صنعتی شہر کراچی میں بندرگاہ کے قریب ٹرک سٹینڈ پر پرچیاں بانٹی گئی ہیں جن میں تیل بردار ٹرک مالکان اور ٹھیکیداروں کو افغانستان میں امریکی فوج کو تیل کی رسد بند کر دیں بصورتِ دیگر نتائج کے لئے تیار رہیں۔

کراچی کی بندرگاہ کے قریب ماری پور اور شیریں جناح کالونی کے علاقوں میں ٹرک اڈے قائم ہیں جہاں سے پٹرول اور ڈیزل کی بڑی مقدار ٹرکوں کے ذریعے کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں لے جائی جاتی ہے۔ ان ٹرک اڈے پر حال ہی میں نامعلوم افراد کی جانب سے پرچیاں تقسیم کی گئی ہیں جن میں ٹرک مالکان اور ٹھیکیداروں کو متنبیہ کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کے لئے تیل کی رسد بند کردیں کیونکہ اس طرح وہ امریکی فوج کی مدد کر رہے ہیں۔

کراچی آئل ٹینکرز کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے رہنماء گل محمد آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کی پرچیاں رواں ماہ تقسیم کی گئیں ہیں جبکہ اسی قسم کی پرچیاں تقریباً دو ماہ قبل بھی بانٹی گئیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ان پرچیوں پر دھمکی آمیز تحریر درج تھی جس کے مطابق آئل ٹینکروں کے مالکان اور ٹھیکداروں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے تیل کی رسد افغانستان کے علاقوں میں امریکی فوجی ٹھکانوں تک جاری رکھی تو ایسے افراد نتائج کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہیں۔ ان کے بقول یہ کارروائی ٹرک مالکان اور ٹھیکیداروں میں خوف پھیلانے کے لئے کی گئی ہے۔

گل محمد آفریدی نے کہا کہ افغانستان تک تیل کی رسد ان کی ایسوسی ایشن کے تمام ممبران تو نہیں کر رہے لیکن ہاں چند ممبران ضرور کر رہے ہیں لیکن ان پرچیوں سے اب تک کسی کو پریشانی کا سامنا نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی ممبر کو انفرادی طور پر دھمکی ملی ہے۔
آئل ٹینکر مالکان کے اکثر مرکزی دفاتر کراچی میں ہیں

ان کا کہنا ہے کہ جو ممبران افغانستان کے علاقوں میں تیل کی رسد پہنچا رہے ہیں اگر ان میں سے کوئی ایسوسی ایشن سے مدد کی درخواست کرے گا تو پھر اس معاملے پر ایسوسی ایشن کا اجلاس بلا کر غور کیا جائے گا۔

یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ اس قسم کی پرچیاں کس تنظیم کی جانب سے تقسیم کی گئیں ہیں اور کن افراد نے تقسیم کی ہیں۔

دوسری جانب پولیس حکام سے رابطہ کرنے پر انہوں نے کہا کہ ان کے علم میں اس طرح کی کوئی بات نہیں لائی گئی ہے، اگر اس قسم کی کوئی بات سامنے آئے گی تو پولیس اس معاملے کی چھان بین کرے گی۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد