Friday, 09 May, 2008, 18:34 GMT 23:34 PST
عبدالحئی کاکڑ
بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور
قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں مقامی طالبان، علماء اور قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگے نے لڑکیوں کی تعلیم اور علاقے میں غیر حکومتی تنظیموں کی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔
اورکزئی ایجنسی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعہ کی صبح تحصیل ڈبوری میں مقامی طالبان، قبائلی عمائدین اورعلماء کونسل پر مشتمل ایک جرگے میں پانچ فیصلے کیے گئے۔
جرگے میں موجود ایک مقامی صحافی حسن خان نے بی بی سی کو بتایا کہ جرگے کے دوران علاقے میں سرکاری اور غیر حکومتی تنظیموں کی جانب
سے قائم کیے گئے گرلزکمیونٹی سکولوں میں لڑکیوں کے تعلیم کے حصول پر پابندی لگانےکا اعلان کیا گیا۔
|
طالبان اجتماع
|
ان کے مطابق جرگہ میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ این جی اوز کو علاقے میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر مقامی شخص نے کسی بھی غیر حکومتی تنظیم کی معاونت کی تو مقامی طالبان سزا کے طور پران کے گھروں کو نذر آتش کریں گے۔
مقامی صحافی کے مطابق جرگہ کے دوران لڑکوں کے سکولوں اور ہسپتالوں سے غیر حاضر سرکاری ملازمین کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹیوں پر جلد ازجلد حاضر ہوجائیں اوراگر چھاپوں کے دوران طالبان نے کسی بھی سرکاری ملازم کو ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
حسن خان کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں’جرائم پیشہ، افراد کو ایک ہفتے کے اندر خود کو مقامی طالبان کے حوالے کرنے کی مہلت دی گئی ہے اور اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو طالبان ان کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کردیں گے۔
اس جرگہ کے دوران اپر اورکزئی میں آباد شیعہ مسلک کے ماننے والوں کی لوئر کرم میں آنے پر پابندی لگانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
مقامی صحافی کا کہنا ہے کہ جرگہ میں جنوبی، شمالی وزیرستان اور ضلع ہنگو کے طالبان نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور اس کے علاوہ پانچ سو سے زائد مسلح مقامی طالبان بھی موجود تھے۔
اس سلسلے میں اورکزئی ایجنسی کے پولٹیکل ایجنٹ سے بارہا رابطے کی کوشش کی گئی مگر کامیاب نہیں ہوسکے ۔
قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران طالبان کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے تاہم یہ پہلی مرتبہ
ہے کہ انہوں نے ایک بڑے جرگے میں اپنی پسند کے فیصلوں کا اعلان کیا ہے۔