|
افغانستان میں پناہ گزیں بگٹی
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے مقتول قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے پوتے برہمداغ خان بگٹی نےدعویٰ کیا ہے کہ فوجی آپریشن کی وجہ سے دس ہزار بگٹی
قبیلے کے لوگ افغانستان میں پناہ گزیں ہیں اور کسمپرسی کی حالت گزار رہے ہیں۔
یہ انکشاف انہوں نے نامعلوم مقام سے فون پر بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا ہے۔ ان کے مطابق دس ہزار پناہ گزیں بگٹیوں میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور زیادہ تر یہ لوگ کابل، قندھار، نمروز اور سپین بولدک میں ہیں۔ اٹھائیس سالہ برہمداغ بگٹی کا کہنا ہے بلوچستان کے بارے میں موجودہ حکومت کی جانب سے ریلیف کی باتیں شکست کھانے والی فوج کو با عزت پسپائی کا راستہ فراہم کرنا ہے اور وہ حکومت سے مذاکرات کی پیشکش مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئے روز بلوچستان میں مزاحمت کی تحریک منظم ہورہی ہے اور پورے صوبے میں پھیل رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ فوج پسپا ہورہی ہے۔
ان کے مطابق ہر دس پندرہ برس بعد بلوچستان میں فوج کشی ہوتی ہے ہزاروں بلوچوں کو قتل کرکے پھر کوئی حکومت آتی ہے اور کہتی ہے کہ
بلوچوں کو عام معافی دیتے ہیں اور ہمدردی کرتے ہیں۔ ’ہمیں اب ایسی ہمدردی نہیں چاہیے ہمیں کسی سے کوئی بھیک نہیں چاہیے، ہمیں غلامی
کی زندگی قبول نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں پنجاب وغیرہ میں سیاسی تبدیلی ضرور آئی ہے لیکن بلوچستان میں کچھ تبدیل نہیں ہوا چند روز قبل ڈیرہ بگٹی کے علاقے سنگسیلا میں سیکورٹی فورسز نے چار مزاحمت کاروں کو زندہ جلایا جس میں سے تین ہلاک ہوگئے اور ایک شدید زخمی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں ہنستے ہوئے کہا کہ ’آج بھی فوج نواب اکبر بگٹی کی قبر پر موجود ہے کہ کہیں وہ قبر سے اٹھ کر نکل نہ جائیں۔‘ جب ان سے پوچھا کہ آخر وہ کیا چاہتے ہیں اور حکومت ایسا کیا کرے کہ انہیں اطمینان ہوگا تو برہمداغ نے کہا کہ فوج اور سیکورٹی فورسز بلوچستان سے نکل جائیں بلوچوں کی قسمت کا فیصلہ بلوچوں کو کرنے دیا جائے۔ جب ان سے دریافت کیا کہ بلوچستان میں بلوچوں کی ہی حکومت ہے عوام نے انہیں ووٹ دیے ہیں اور بلوچوں کی اکثریت تو پارلیمانی سیاست پریقین رکھتی ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر مزاحمت کار بلوچوں سے بات کرنے کی کسی کو کیا ضرورت ہے؟ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ نواب اکبر خان بگٹی سے ان کی آخری ملاقات نواب کی ہلاکت سے دو ماہ قبل ہوئی تھی جس میں
انہوں نےکہا تھا کہ بلوچستان کی آزادی کے لیے لڑائی جاری رکھیں۔
’ہم نے سکیورٹی کے پیش نظر اکٹھے نہ رہنے کا فیصلہ کیا، نواب صاحب سے چونکہ زیادہ تر لوگوں کا رابطہ رہتا تھا اور وہ سیٹ لائٹ فون بھی زیادہ استعمال کرتے تھے اس لیے سکیورٹی فورسز نے ان کے ٹھکانے کا پتہ لگالیا اور ان کو گھیرے میں لے کر قتل کردیا۔‘ برہمداغ نے بتایا کہ تین دن تک لڑائی جاری رہی، تئیس اگست سن دو ہزارچھ کو مقابلہ شروع ہوا، سبی اور کاہان سے فوجیں بلائی گئیں اور دس پندرہ گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری کی گئی اور چھبیس اگست کو حکومت نے نواب صاحب کی ہلاکت کا اعلان کیا۔ ان کے مطابق اس بارے میں مزید تفصیلات کا انہیں علم نہیں کیونکہ وہ اس وقت وہاں نہیں تھے اور ان کے تمام ساتھی بھی مارے گئے۔ برہمداغ نے حکومت کے اس مؤقف کو جھوٹ قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ فوج کے چند افسران نواب بگٹی سے مذاکرات کے لیے گئے تھے اور نواب نے دھماکے سے سرنگ کو اڑادیا تھا۔ ’حکومت جھوٹ پر جھوٹ بولتی رہی۔۔ اگر غار دھماکے سے دب گئی تو نواب صاحب کی عینک اور گھڑی کیسے سلامت رہی جبکہ وہ خود شہید ہوگئے؟۔‘ جب ان سے پوچھا کہ عام تاثر یہ ہے کہ انہیں ( برہمداغ) کو بالاچ خان مری محفوظ مقام پر نکال کر لے گئے تو انہوں نے کہا کہ ’دیکھیں
بالاچ میرا بھائی تھا ایسے حالات میں ہر بلوچ ایک دوسرے کی مدد کرتا ہے اور سب پر فرض ہے۔‘ ان کے بقول بالاچ مری بلوچستان میں
مزاحمت کے دوران پاکستانی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے اور وہ بالاچ کے ساتھ اس وقت نہیں تھے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بھارت یا افغانستان کی مدد حاصل ہونے کی تردید کی اور کہا کہ اگر انہیں بیرون ملک سے مدد حاصل ہوتی تو حالات کچھ مختلف ہوتے اور بگٹی قبائل دربدر کی ٹھوکریں نہ کھاتے، کوئی سندھ میں ہے تو کوئی پنجاب میں اور کوئی افغانستان میں۔ نواب بگٹی کی جان نشینی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ اب وقت نہیں ہے کہ بگٹیوں کے نئے سردار کا تعین کیا جائے یا نواب بگٹی کے جان نشین کا فیصلہ ہو۔ جب انہیں بتایا گیا کہ طلال خان بگٹی نے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ نواب بگٹی نے مرنے سے پہلے انہیں خاندان کی وہ بندوق بھجوائی تھی جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ جس کے پاس وہ بندوق ہوگی وہی سردار ہوگا تو برہمداغ نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ نواب صاحب نے طلال کو کوئی بندوق بھجوائی تھی اور ’ویسے بھی سرداری کا تعین بندوق پاس ہونے سے نہیں ہوتا بلکہ عمل سے ہوتا ہے، کردار سے ہوتا ہے ، جس مقصد کے لیے نواب اکبر بگٹی نے جان دی۔‘ ان کے بقول اگر انہیں (طلال ) کو نواب نے کوئی بندوق بھیجی بھی تھی تو کاش ایسا ہوتا کہ بندوق اٹھا کر نواب کے مقصد کے حصول کے لیے وہ پہاڑ کا رخ کرتے تو بہتر ہوتا۔ میر عالی بگٹی عرف میرادو اور شاہد بگٹی کے بیٹے جو نواب بگٹی کے ساتھ تھے ان کے بارے میں برہمداغ نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ آج کل وہ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ ان سے رابطے میں بھی نہیں ہیں۔ |
اسی بارے میں
ڈیرہ بگٹی میں صحت کے مسائل15 May, 2008 | پاکستان
’بگٹی قتل تفتیش بھی یو این سے‘09 May, 2008 | پاکستان
اکبر بگٹی کا منحرف کمانڈر ہلاک06 May, 2008 | پاکستان
گیس پائپ لائن پر دھماکہ26 April, 2008 | پاکستان
بگٹیوں پر مقدمات کی تفصیلات طلب 25 April, 2008 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||