|
پاکستانیوں کے خلاف ٹھوس شواہد
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوری میں سپین کی ایک مسجد سے حراست میں لیے گئے پاکستانیوں پر یورپ میں دہشت گردی کی
وارداتوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں اور اس بارے میں تفتیش کاروں کو ٹھوس شواہد بھی ملے ہیں۔
منگل کوسینیٹ میں ایک توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ اس کارروائی میں کل بارہ پاکستانی گرفتار کئے گئے تھے جن میں سے تین کو شواہد نہ ہونے کی وجہ سے رہا کر دیا گیا تھا تاہم باقی نو کے قبضے سے سپین کے حکام نے بم دھماکوں میں استعمال ہونے والا مواد برآمد کیا تھا۔ ان پاکستانیوں سے تفتیش کے دوران یہ بھی پتہ چلا ہے کہ یہ لوگ سپین اور یورپ کے دیگر ممالک میں دہشت گردی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی سپین میں پاکستانی سفارتخانے نے ان زیر تفتیش شہریوں سے ملاقات کی تھی اور
ان کا ان کے گھر والوں سے رابطہ بھی کروایا گیا تھا۔ انہوں نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کرنے والے
ان تمام پاکستانیوں کو وکلاء کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔
شاہ محمود نے بتایا کہ ان ملزمان کے خلاف ابھی باقاعدہ عدالتی کارروائی شروع نہیں کی گئی ہے لیکن سپین میں حکومت کو اپنے قوانین کے تحت دہشت گردی کے شبہ میں ملزمان کو طویل عرصے تک بغیر مقدمہ چلائے قید رکھنے کا اختیار حاصل ہے۔ سینیٹر انور بھنڈر نے یہ معاملہ سینیٹ میں زیر بحث لاتے ہوئے کہا کہ ان بے گناہ پاکستانیوں کو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے جیل میں رکھا گیا ہے اور ان کا کسی سے رابطہ نہیں ہونے دیا جا رہا ہے۔ |
اسی بارے میں
’سنی سنائی پر پکڑ کر بند کر دیا‘25 April, 2008 | پاکستان
بارسلونا گرفتاریاں، پاکستانی پریشان22 January, 2008 | آس پاس
اٹلی میں تین پاکستانیوں کو سزا 14 November, 2007 | آس پاس
ترجمہ اچھا ہوا تو بچ گئے نہیں تو واپس16 September, 2007 | آس پاس
کینیڈا: پاکستانی کی ہلاکت پر سزا30 May, 2007 | آس پاس
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||