Wednesday, 23 April, 2008, 13:31 GMT 18:31 PST
اسد علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
پاکستان میں ذاتی اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے شاید ہی کسی شخص کو اِتنا رجوع کیا گیا ہو جِتنا، درویشوں اور فقیروں کی تلاش میں زندگی گزارنے والے، ایڈووکیٹ ایم ڈی طاہر سے۔ حالانکہ وہ نہ کبھی کسی سیاسی عہدے پر فائز ہوئے اورنہ ہی ان کےپاس کوئی سرکاری عہدہ تھا۔
ان کا ہتھیار تھا آئین میں درج بنیادی حقوق کے تحت درخواستیں دائر کرنا۔ ان کی میز پر قانون کی کتابوں کے ساتھ ہمیشہ دو تصویریں نظر آئیں۔ یہ تصویریں بغیر کپڑوں کے اور بکھرے بالوں والے ایک باریش شخص کی تھیں، جن کے بارے میں وہ بڑی عقیدت سے بتاتے کہ ’یہ میرے بابا، مرشد پاک ہیں‘۔ ان کے دفتر میں کتابوں کی الماریوں پر بھی ایسے ہی کئی بزرگوں کی تصاویر تھیں جو اب ایک الگ کمرے میں منتقل ہو چکی تھیں جسے وہ ’درویش خانہ‘ کہتے تھے۔
عدالتوں میں کئی بار ایم ڈی طاہر کی بات سن لی گئی، بہت سے معاملات التواء میں پڑ گئے اور بعض اوقات انہیں جھاڑا بھی گیا۔ ان پر یہ الزام بھی لگا کہ وہ بغیر تیاری کے کسی بھی موضوع پر درخواست دائر کر دیتے ہیں جس سے معاملہ بگڑ جاتا ہے۔ لیکن ان کی درخواستوں میں کمی نہیں آئی، وقت کے ساتھ ساتھ ان کو رجوع کرنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی اور اتنے عرصے میں صحافی بھی ان سے تنگ نہیں آئے۔ بلکہ ابھی مارچ کے آخری ہفتے میں انہیں بنگلہ دیش سے وہاں پھنسے ہوئے بہاریوں کی پاکستان منتقلی کے لیے کام کرنے والے ایک شخص نے فون پر اپنے کیس کے بارے میں پوچھا۔ انہیں بھی ایم ڈی طاہر سے امید تھی کہ شاید کچھ کروا دیں۔
ایم ڈی طاہر کو پاکستان اور بیرن ملک سے ہر روز اوسطاً دس بارہ سے لے کر تیس تک خط موصول ہوتے تھے۔ ان کے پاس خطوط کا ایک انبار تھا جو مختلف تھیلوں میں محفوظ ہیں۔ وہ ان خطوط کو ’لوگوں کی کہانی لوگوں کی زبانی‘ کے عنوان سے کتابی صورت دینے کا ارادہ کرنے کے بعد اب اِن کی موضوع وار چھانٹی کے لیے کسی رضاکار کے منتظر تھے۔
ایم ڈی طاہر نے جیلوں کی اصلاح کے لیے تن تنہا بہت کام کیا۔ ہائی کورٹ کے سابق جج اور موجودہ اٹارنی جنرل جسٹس(ر) ملک قیوم نے ایک رٹ پٹیشن کی درخواست کے جواب میں ایم ڈی طاہر کو پنجاب کی تمام جیلوں کے معائنہ کا اختیار دیا تھا۔ کئی ہفتوں کی محنت کے بعد تیار ہونے والی سینکڑوں صفحات پر مشتمل ایم ڈی طاہر کی رپورٹ کو کافی سراہا گیا اور اس کے نتیجے میں کچھ قیدیوں کو ریلیف بھی ملا۔
ایم ڈی طاہر نے ہمیشہ سے بلا ناغہ ہفتے میں دو یا تین روز درویشوں سے ملاقاتوں اور ان کے مزاروں پر حاضری کے لیے وقف کر رکھے تھے۔ اس کے لیے وہ سینکڑوں میل کا سفر کرتے اور کبھی کبھار سندھ تک بھی جاتے۔ ان کے پاس تقریباً پینتیس سال پرانی ایک گاڑی تھی جس پر وہ ایک بار کسی بزرگ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انہوں نے وہ گاڑی خرید لی۔ اس کے بعد مالی آسودگی کے باوجود انہوں نے گاڑی نہیں بدلی بلکہ ان کے ڈرائیور کا کہنا تھا کہ جتنا خرچہ اس گاڑی پر ہو چکا ہے اتنے میں پیجارو آ سکتی تھی۔
ان کے مرشد کا مزار ہیڈ مرالہ میں ہے۔ ایک بار استفسار پر انہوں نے بتایا کہ ان کے مرشد نے کئی سال زُہد کیا اور مٹی اور ریت
کھا کر گزارا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مرشد کو دیکھنے کے لیے سینکڑوں لوگ آتے تھے اور ان کے پاس بیٹھ کر سکون پاتے تھے۔ ایم
ڈی طاہر خود بھی وہاں جا کر سارا سارا دِن بیٹھتے۔
انہوں نے کہا کہ درویش میں تین باتیں ہوتی ہیں۔ وہ کسی سے کچھ لیتا نہیں، اپنا آپ ظاہر نہیں کرتا بلکہ لوگ اسے پہچانتے ہیں اور
اس کے پاس سکون ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بزرگ کا پیغام تھا ’کہ کسی کا دِل نہ دکھاؤ اس سے آسمان کے کنگرے ہل جاتے ہیں‘۔