http://www.bbc.com/urdu/

Monday, 21 April, 2008, 10:02 GMT 15:02 PST

عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام،لاہور

ایم ڈی طاہر انتقال کرگئے

عوامی مسائل پر عدالتی چارہ جوئی سے شہرت پانے والے قانون دان ایم ڈی طاہر لاہور میں حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے۔ان کی عمر پینسٹھ برس تھی۔

ایم ڈی طاہرگزشتہ چالیس برس سے شعبہ وکالت سے منسلک تھے۔

مرحوم کو لاہور کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ان کی نماز جنازہ میں سابق صدر رفیق تارڑ، سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس خلیل الرحمن خان سمیت بار کے عہدیداروں، وکلاء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

ایم ڈی طاہر ایڈووکیٹ نے پسماندگان میں ایک بیوہ، چار بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ مرحوم کے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی وکیل ہیں۔

ایم ڈی طاہر ایڈووکیٹ اپنی وکالت کے ابتدائی دنوں میں مختلف سیاسی اور سماجی مسائل پر شدید احتجاج کرتے رہے جس کی وجہ سے ان کو جیل بھی جانا پڑا تاہم بعدازں انہوں نے احتجاج کے بجائے ان مسائل کے حل کے لیے اعلیْ عدالتوں میں دادرسی کے لیے آئینی درخواستیں دائر کرنا شروع کردیں۔

مرحوم نے سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے ایک درخواست دائر کی جس پر عدالت نے انہیں جنرل یحییْ خان سے ان کی بیماری کے دوران ملاقات کرنے اور ان کا بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت دی تھی۔

درویش صفت ایم ڈی طاہر کو عوامی مسائل پر عدالت سے رجوع کرنے پر شہرت جنرل ضیاء الحق کے دور میں ملی جب انہوں نے موٹر سائیکل سوار کے لیے ہلمٹ پہنے کی پابندی کو چیلنج کیا اور تین عشروں میں ایم ڈی طاہر ایڈووکیٹ نے عوامی مسائل پر سینکڑوں درخواستیں عدالت کے روبرو دائر کرکے ایک منفرد مقام حاصل کیا اور مرحوم کی اب بھی کئی اہم نوعیت کی درخواستیں اب بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

مرحوم نے مشرقی پاکستان کے علیحدگی کے بعد بہاریوں کی آباد کاری، پتنگ بازی پر پابندی، پاکستانی حکمرانوں کے غیر ملکی دوروں اکے اخراجات، فوجی کو اونے پونے داموں اراضی الاٹ کرنے ، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور صدر پرویز مشرف کے بطور آرمی چیف صدارتی انتخاب سمیت کئی اہم درخواستیں آج بھی عدالت کے روبرو زیر سماعت ہیں۔

ایم ڈی طاہر چار کتابوں کے مصنف بھی تھے اور ان کتابوں میں پنجابی شاعری کا مجموعہ بھی شامل ہے۔ ایم ڈی طاہر نے مختلف شہروں سے آنے والے خطوط اور ان میں درج مسائل پر درخواستیں دائر کرتے رہے۔