Saturday, 19 April, 2008, 07:41 GMT 12:41 PST
بیورو رپورٹ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ماحول کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ’سرحد کنزرویشن نیٹ ورک‘ یعنی ’ایس سی این‘ نے پشاور کے مضافات میں خالی کرائے گئے کچا گڑھی افغان پناہ گزینوں کی اراضی پر فوج کی جانب سے رہائشی منصوبہ شروع کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایس سی این کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق تقریباً تین ہزار کنال کی اس قیمتی اراضی پر فوجی حکام کی جانب سے گزشتہ دنوں تختیوں پر لکھے نوٹس لگائے گئے ہیں جن میں اس اراضی پر اپنی ملکیت واضح کرنے کے علاوہ لوگوں کو اس سے دور رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔
بیان کے مطابق بنیادی طور پر یہ ایک تربیتی علاقہ تھا لیکن فوجی حکام اب اسے ایک انتہائی مہنگے رہائشی منصوبے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اس علاقے میں تعمیراتی مشینری کام کرتے دیکھی گئی ہے۔
تنظیم نے پشاور ترقیاتی اور میونسپل ادارے کے سربراہ اور ناظم پشاور سے بھی اس معاملے پر بات کرنے کی کوشش کی لیکن بیان کے مطابق انہوں نے اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا ہے۔
ایس سی این کا کہنا ہے کہ حکام نے اس سے قبل اس اراضی پر پشاور کے شہریوں کی تفریح کے لیے اسے استعمال میں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس بابت یہاں چڑیا گھر تعمیر کرنے کی بھی اطلاعات تھیں لیکن اب شاید یہ ممکن نہ ہوسکے۔
آج کل کی قیمتوں کے مطابق اس اراضی کی قیمت اربوں روپے میں ہے۔ ایک وقت شہر سے باہر کا علاقہ تصور کی جانے والی یہ اراضی اب شہر کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ پشاور سے افغانستان جانے والی شاہراہ کی ایک جانب اگر یہ اراضی ہے تو دوسری جانب حیات آباد کا اہم رہائشی علاقہ ہے۔
تنظیم نے الزام لگایا ہے کہ پشاور چھاونی کے علاقے کی دلکشی کو متاثر کرنے کے بعد اب فوجی حکام اس علاقے کو رہائشی منصوبے کے لیے استعمال کر کے پشاور کے ماحول کو بری طرح متاثر کریں گے۔ تنظیم کا یہ بھی الزام ہے کہ یہ نجی زمین ہے جس کوفوج طاقت کے زور پر اپنے استعمال میں لانا چاہتی ہے۔
سرحد کنزرویشن نیٹ ورک نے صوبائی حکومت، ماحولیات کے ماہرین اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ اس منصوبے کو روکنے کے لیے کوششیں کریں۔ اس کا موقف ہے کہ پشاور کے شہریوں کو تفریحی مقامات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ تمام شہر نے پہلے ہی ایک کنکریٹ جنگل کی شکل اختیار کر لی ہے۔
تنظیم نے اس معاملے پر عدالتی کارروائی کی تجویز بھی پیش کی ہے۔
فوجی حکام سے اس مسئلے پر رابطے کی کوششیں کی گئیں تاہم یہ کامیاب نہیں ہوسکی۔