BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 April, 2008, 13:31 GMT 18:31 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
سیدہ مریم کے وکیل ایم ڈی طاہر
 

 
 
ایم ڈی طاہر
ایم ڈی طاہر کو رجوع کرنے والوں میں پسماندہ دیہات سے لے کر امریکہ کے رہائشی، ان پڑھ سے لے کر اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اور بے اختیار پاکستانیوں سے لے کر ریٹائرڈ جج اور اعلیٰ عہدیدار شامل تھے
پاکستان میں ذاتی اور اجتماعی مسائل کے حل کے لیے شاید ہی کسی شخص کو اِتنا رجوع کیا گیا ہو جِتنا، درویشوں اور فقیروں کی تلاش میں زندگی گزارنے والے، ایڈووکیٹ ایم ڈی طاہر سے۔ حالانکہ وہ نہ کبھی کسی سیاسی عہدے پر فائز ہوئے اورنہ ہی ان کےپاس کوئی سرکاری عہدہ تھا۔

ان کا ہتھیار تھا آئین میں درج بنیادی حقوق کے تحت درخواستیں دائر کرنا۔ ان کی میز پر قانون کی کتابوں کے ساتھ ہمیشہ دو تصویریں نظر آئیں۔ یہ تصویریں بغیر کپڑوں کے اور بکھرے بالوں والے ایک باریش شخص کی تھیں، جن کے بارے میں وہ بڑی عقیدت سے بتاتے کہ ’یہ میرے بابا، مرشد پاک ہیں‘۔ ان کے دفتر میں کتابوں کی الماریوں پر بھی ایسے ہی کئی بزرگوں کی تصاویر تھیں جو اب ایک الگ کمرے میں منتقل ہو چکی تھیں جسے وہ ’درویش خانہ‘ کہتے تھے۔

غریب کا مقدمہ
 اگر حکام سرکاری خرچ پر علاج کے لیے بیرون ملک جا سکتے ہیں تو غریب پاکستانی کیوں نہیں جا سکتا
 
ایم ڈی طاہر
عدالت کے سامنے ان کے دلائل سیدھے سادھے تھے۔ ’بہت ظلم ہو رہا ہے، جناب انصاف کریں، سب کو ایک جیسا موقع ملنا چاہیے، قومی وسائل پر سب کا حق، اگر حکام سرکاری خرچ پر علاج کے لیے بیرون ملک جا سکتے ہیں تو غریب پاکستانی کیوں نہیں جا سکتا۔‘ انگریزی زبان پر زیادہ دسترس نہیں تھی جو اعلیٰ عدالتوں میں استعمال ہوتی ہے۔

عدالتوں میں کئی بار ایم ڈی طاہر کی بات سن لی گئی، بہت سے معاملات التواء میں پڑ گئے اور بعض اوقات انہیں جھاڑا بھی گیا۔ ان پر یہ الزام بھی لگا کہ وہ بغیر تیاری کے کسی بھی موضوع پر درخواست دائر کر دیتے ہیں جس سے معاملہ بگڑ جاتا ہے۔ لیکن ان کی درخواستوں میں کمی نہیں آئی، وقت کے ساتھ ساتھ ان کو رجوع کرنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی اور اتنے عرصے میں صحافی بھی ان سے تنگ نہیں آئے۔ بلکہ ابھی مارچ کے آخری ہفتے میں انہیں بنگلہ دیش سے وہاں پھنسے ہوئے بہاریوں کی پاکستان منتقلی کے لیے کام کرنے والے ایک شخص نے فون پر اپنے کیس کے بارے میں پوچھا۔ انہیں بھی ایم ڈی طاہر سے امید تھی کہ شاید کچھ کروا دیں۔

ایم ڈی طاہر کو پاکستان اور بیرن ملک سے ہر روز اوسطاً دس بارہ سے لے کر تیس تک خط موصول ہوتے تھے۔ ان کے پاس خطوط کا ایک انبار تھا جو مختلف تھیلوں میں محفوظ ہیں۔ وہ ان خطوط کو ’لوگوں کی کہانی لوگوں کی زبانی‘ کے عنوان سے کتابی صورت دینے کا ارادہ کرنے کے بعد اب اِن کی موضوع وار چھانٹی کے لیے کسی رضاکار کے منتظر تھے۔

اخلاقی جرات
 ایم ڈی طاہر نے مجھے ایک بار امریکہ سے آیا ہوا ایک خط دکھایا جس میں حکومت کی پالیسی کو چیلنج کیا گیا تھا اور کچھ اصلاحات تجویز کی گئی تھیں۔ خط کی زبان بھی اچھی تھی اور مضمون محنت سے تیار کیا گیا تھا لیکن خط لکھنے والے نے اپنا نام نہیں لکھا۔ ایم ڈی طاہر نے کہا کہ بہت سے لوگ ہیں جو خود کچھ نہیں کر سکتے لیکن ’ان میں اتنی اخلاقی جرات تو ہونی چاہیے کہ خط کے نیچے اپنا نام ہی لکھ دیں‘۔
 
ایم ڈی طاہر نے معذور افراد کی سرکاری محکموں میں ملازمت کے حقوق، شہری محکموں سے فوجی افسران کو ہٹا کر واپس بیرکوں میں بھیجنے، سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ میں غریبوں کا حِصّہ رکھنے، پرانے لاہور کی دیوار کے باہر سے ’تجاوزات‘ ختم کر کے وہاں پہلے کی طرح باغ بچھانے اور نہر کھودنے کے لیے درخواستیں شامل ہیں۔ انہوں نے کئی برس پہلے اس وقت جانوروں پر ظلم کے خلاف رٹ کی تھی جب لوگوں میں اس طرح کا تصور عام نہیں تھا۔ انہوں نے گدھوں کو مارنے کے خلاف بھی رِٹ کی۔ انہوں نے ایک رٹ اس موضوع پر کی کہ غلط پارک کی گئی گاڑیوں کو بغیر مالک کو بتائے اٹھانے پر پابندی لگائی جائے کیونکہ جب لوگ شاپنگ یا کام سے فارغ ہو کر اپنی گاڑی غائب دیکھتے ہیں تو انہیں شدید جھٹکا لگتا ہے۔

ایم ڈی طاہر نے جیلوں کی اصلاح کے لیے تن تنہا بہت کام کیا۔ ہائی کورٹ کے سابق جج اور موجودہ اٹارنی جنرل جسٹس(ر) ملک قیوم نے ایک رٹ پٹیشن کی درخواست کے جواب میں ایم ڈی طاہر کو پنجاب کی تمام جیلوں کے معائنہ کا اختیار دیا تھا۔ کئی ہفتوں کی محنت کے بعد تیار ہونے والی سینکڑوں صفحات پر مشتمل ایم ڈی طاہر کی رپورٹ کو کافی سراہا گیا اور اس کے نتیجے میں کچھ قیدیوں کو ریلیف بھی ملا۔

سیدہ مریم
 کرسی کے پیچھے ایک بنچ پر اکثر چار پانچ سال کی نابینا لڑکی سیدہ مریم بھی موجود ہوتی تھی جس کے والد قریب ہی ایک کرسی پر بیٹھے رہتے تھے۔ بینائی کی وجہ سے بچی کی دوسری حسیات تیز ہو چکی تھیں اور وہ بنچ پر بغیر گرے شرارتیں کرتی رہتی تھی۔ ایم ڈی طاہر نے ہائی کورٹ سے استدعا کی ہوئی تھی کہ سرکاری پر خرچ مریم کا علاج کروایا جائے تاکہ اس کی بینائی واپس آ جائے۔
 
لاہور ہائی کورٹ میں کینٹین کے باہر بوہڑ کے درخت کے نیچے ان کا مستقل ڈیرہ لگتا تھا جہاں وہ تمام دن صحافیوں اور سائلوں میں گھرے رہتے تھے۔ کرسی کے پیچھے ایک بنچ پر اکثر چار پانچ سال کی نابینا لڑکی سیدہ مریم بھی موجود ہوتی تھی جس کے والد قریب ہی ایک کرسی پر بیٹھے رہتے تھے۔ بینائی کی وجہ سے بچی کی دوسری حسیات تیز ہو چکی تھیں اور وہ بنچ پر بغیر گرے شرارتیں کرتی رہتی تھی۔ ایم ڈی طاہر نے ہائی کورٹ سے استدعا کی ہوئی تھی کہ سرکاری خرچ پر مریم کا علاج کروایا جائے تاکہ اس کو بینائی مِل جائے۔ ان کی دلیل پھر یہی تھی کہ اس کا والد غریب آدمی ہے اور اس کا اسی طرح حق ہے جس طرح اعلیٰ حکام کا علاج کے لیے سرکاری خزانے پر حق ہے۔

ایم ڈی طاہر نے ہمیشہ سے بلا ناغہ ہفتے میں دو یا تین روز درویشوں سے ملاقاتوں اور ان کے مزاروں پر حاضری کے لیے وقف کر رکھے تھے۔ اس کے لیے وہ سینکڑوں میل کا سفر کرتے اور کبھی کبھار سندھ تک بھی جاتے۔ ان کے پاس تقریباً پینتیس سال پرانی ایک گاڑی تھی جس پر وہ ایک بار کسی بزرگ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انہوں نے وہ گاڑی خرید لی۔ اس کے بعد مالی آسودگی کے باوجود انہوں نے گاڑی نہیں بدلی بلکہ ان کے ڈرائیور کا کہنا تھا کہ جتنا خرچہ اس گاڑی پر ہو چکا ہے اتنے میں پیجارو آ سکتی تھی۔

ان کے مرشد کا مزار ہیڈ مرالہ میں ہے۔ ایک بار استفسار پر انہوں نے بتایا کہ ان کے مرشد نے کئی سال زُہد کیا اور مٹی اور ریت کھا کر گزارا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے مرشد کو دیکھنے کے لیے سینکڑوں لوگ آتے تھے اور ان کے پاس بیٹھ کر سکون پاتے تھے۔ ایم ڈی طاہر خود بھی وہاں جا کر سارا سارا دِن بیٹھتے۔
انہوں نے کہا کہ درویش میں تین باتیں ہوتی ہیں۔ وہ کسی سے کچھ لیتا نہیں، اپنا آپ ظاہر نہیں کرتا بلکہ لوگ اسے پہچانتے ہیں اور اس کے پاس سکون ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بزرگ کا پیغام تھا ’کہ کسی کا دِل نہ دکھاؤ اس سے آسمان کے کنگرے ہل جاتے ہیں‘۔

 
 
اسی بارے میں
سزائےموت کی جگہ عمر قید
20 April, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد