BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 18 April, 2008, 08:01 GMT 13:01 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
بھارت سے پاکستانی لڑکے واپس
 

 
 
بچے اور فوجی
حیدرآباد میں ان بچوں کو ان کے والدین کے حوالے کیا گیا
پاکستان کی سرحد عبور کر کے بھارت میں داخل ہونے والے دو بچوں کو جمعہ کی صبح ان کے والدین کے حوالے کردیا گیا ہے۔

سترہ سالہ اظہر علی اور دس سالہ زوہیب گزشتہ ہفتے بدھ کے روز بھارت میں داخل ہوگئے تھے، اور انہیں بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس نے حراست میں لے لیا تھا۔

بھارتی سکیورٹی فورس نے تفتیش اور تصدیق کے بعد جمعرات کی شب بچوں کو پاکستان رینجرز کے حوالے کر دیا، جنہیں اب حیدرآباد میں ان کے والدین کے حوالے کیا گیا ہے۔ دونوں بچے حیدرآباد کے قریبی دیہی علاقے ٹنڈوالہ یار سے تعلق رکھتے ہیں۔

اس موقع پر رینجرز کی طرف سے دونوں لڑکوں کو تحفے دیے گئے

قاسم رینجرز کے ہیڈکوارٹر میں اس تقریب میں جذباتی منظر دیکھا گیا۔ اظہر علی کے والد نادر علی انصاری اور زوہیب کے والد جعفر انصاری اور مائیں بھی تقریب میں شریک تھیں جو بچھڑے ہوئے بچوں سے دوبارہ مل کر بے پناہ خوش ہوئیں۔

سترہ سالہ اظہر علی اور دس سالہ زوہیب نے صحافیوں کو بتایا کہ والدین کی مار پیٹ سے تنگ آکر وہ گھروں سے بھاگ نکلے تھے اور زیرو پوائنٹ جانے والی ٹرین میں سوار ہوگئے۔

یہ بچے بھی بھارتی فلموں سے سخت متاثر نظر آتے ہیں ، جن کا کہنا تھا کہ انڈین فلموں میں ایسا ہی ہوتا ہے، اس لیے وہ زیرو پوائنٹ سے سرحد عبور کر کے بھارت میں داخل ہوگئے جہاں بارڈر سکیورٹی فورسز نے انہیں پکڑ لیا۔

اظہر علی اور زوہیب انصاری کا کہنا تھا کہ بھارتی سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا اور بار بار پوچھتے رہے کہ وہ کیوں آئے ہیں اور کیا انہیں پاکستانی اہلکاروں نے بھیجا ہے؟

بچوں کا کہنا تھا کہ ان کی آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھی گئی اور کسی وقت کھانا دیا جاتا کبھی نہیں، اہلکار انہیں کہتے کہ وہ جو بھی پوچھیں گے اگر انہوں نے سچ نہیں بتایا تو آنکھوں پر بندھی ہوئی سیاہ پٹی سرخ ہوجائیگی۔ اس طرح انہیں ڈرایا دھمکایا جاتا۔

بچوں کے والد نادر علی انصاری اور جعفر انصاری کا کہنا تھا کہ وہ بچوں پر تشدد کرکے پچھتا رہے تھے اور وہ سمجھتے ہیں کے بچوں سے شفقت سے پیش آنا چاہیے۔

قاسم رینجرز کے برگیڈیئر خورشید نے اس موقع پر کہا کہ بچوں کے کوئی خطرناک عزائم نہیں تھے اور وہ پاکستانی حکام کی کوششوں کی وجہ سے واپس وطن پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے والدین کو تلقین کی کہ وہ بچوں کو سرحدی علاقوں میں گھومنے پھرنے سے روکین کیونکہ غلطی سے سرحد عبور کرنے کے بعد رہائی کے لیے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
انڈیا: سڑکوں پر سونے والے
08 February, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد