ندیم مشتاق رامے بورے والا، پنجاب، پاکستان
|
 |
 |
|
| پنچایت کے ارکان، ملزم نواز اور اس کا بیٹا پولیس کی حراست میں |
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر بورے والا میں پولیس نے ایک شخص کے جرم کی سزا اس کی کم سن نابالغ بچیوں کو زبردستی نکاح کی شکل
میں دینے والوں اور اس میں ان کا ساتھ دینے والوں پر مقدمہ درج کیا ہے اور ان میں سات افراد کو گرفتار کیا ہے۔
گرفتار ہونے والوں میں پنچایت کے ارکان، ملزم اور اس کا بیٹا شامل ہیں اور ان پر حقوق نسواں ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ
درج کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بورے والا کے نواحی گاؤں 158ای بی ببریاں والا کی نو سالہ نازیہ، بہنوں آسیہ اور شازیہ نے پریس کلب میں آ کر
بتایا تھا کہ ان کے والد رب نواز اور ان کی ماموں زاد بہن شمیم نے تین ماہ قبل گھر سے بھاگ کر پسند کی شادی کر لی تھی جس پر شمیم
کے والد اور بھائیوں کو شدید ناراضگی تھی اور وہ اس کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ شمیم کے والد محمد یار عرف نواز نے اپنے رشتہ داروں اور اہل دیہات کے ذریعے دباؤ ڈالا کہ شمیم کے واقعے کے
باعث ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے عوض رب نواز کی دو نابالغ بیٹیوں کا رشتہ محمد یار عرف نواز کے دو بیٹوں محمد یاسین اور محمد
خالد سے کر دیا جائے تو ان کے درمیان صلح ہو سکتی ہے۔
محمد نواز اور ان کے بیٹوں کے دباؤ میں معززین علاقہ پر مشتمل پنچایت کے ارکان میاں محمد اکرم، مظہر کھوکھر، بشیر احمد کھوکھر،
ریاض لنگڑیال، سرفراز کھوکھر و دیگر نے اہل دیہہ کی موجودگی میں یہ قرار دیا کہ رب نواز نے محمد یار عرف نواز کی بیٹی (شمیم)
کو زبردستی اغواء کر کے اس کے ساتھ شادی کی ہے لہذا اس کے بدلے میں اس کی نو سالہ بیٹی نازیہ کا رشتہ محمد یار عرف نواز کے بیٹے
خالد سے اور سات سالہ بیٹی کا رشتہ اس کے دوسرے شادی شدہ بیٹے محمد یاسین سے کر دیا جائے۔
 |
|
| پنچایت نے فیصلہ کیا کہ نو سالہ نازیہ کا رشتہ اس ماموں زاد بھائی خالد سے سات سالہ شازیہ رشتہ شادی شدہ محمد یاسین سے کر دیا
جائے
|
فیصلے کے بعد پنچایت کے ارکان نے گاؤں کے امام مسجد اور نکاح خواں محمد نواز کو بلوا کر نو سالہ نازیہ کا نکاح محمد خالد سے پڑھوا
دیا لیکن جب انہوں نے سات سالہ شازیہ کا نکاح شادی شدہ محمد یاسین سے پڑھوانا چاہا تو لوگوں مزاحمت کی اور ان کی اس کوشش کو ناکام
بنا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس پر نو سالہ نازیہ کو یار محمد اور ان کے بیٹوں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے زبردستی اٹھا کر لے جانے کی کوشش
کی جسے لوگوں نے ناکام بنا دیا۔
جب لڑکیاں صحافیوں کو یہ تفصیلات بتا رہی تھیں تو ان کے ساتھ ان کی والدہ انور بی بی بھی تھیں۔ جنہوں نے کہا کہ ونی یا بدلے کی
شادی کے ذریعے پنچایت نے جو فیصلہ کیا ہے اس سے اس کی معصوم بچیوں زندگی تباہ ہو جائےگی اور اگر انہیں تحفظ نہ دیا گیا تو ملزمان
اس کی بیٹیوں اور بیٹے قتل کرنے کی دھمکیاں عمل کر گزریں گے۔
نکاح پڑھانے والے امام مسجد اور نکاح خواں محمد نواز نے اپنے ایک تحریری بیان میں کہا کہ انہیں 12 جنوری 2008 کو محمد یار عرف
نواز اوراس کے بیٹے یاسین اور خالدگھر سے بلا کر رب نواز کی بیٹھک میں لے گئے جہاں پنچایت میں شریک لوگ موجود تھے اور انہوں نے
ان کے دباؤ میں نو سالہ نازیہ کا نکاح خالد سے پڑھوا دیا۔
جب پنچایت میں شریک میں میاں محمد اکرم کا مؤقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ گاؤں میں اس سلسلہ میں
پنچایت تو ضررو ہو ئی تھی لیکن انہوں نے لڑکی سے زبردستی نکاح کا کوئی کو فیصلہ نہیں دیا تھا بلکہ یہ معاملہ دونوں خاندانوں کے
لوگوں نے خود طے کیا تھا۔
 |
معاملہ دونوں خاندانوں نے طے کیا
 اس سلسلہ میں پنچایت تو ضررو ہو ئی تھی لیکن انہوں نے لڑکی سے زبردستی نکاح کا کوئی کو فیصلہ نہیں دیا تھا بلکہ یہ معاملہ دونوں
خاندانوں کے لوگوں نے خود طے کیا تھا 
میاں محمد اکرم
|
جب کہ پنچایت کے ایک اور رکن مظہر کھوکھر نے بھی اسی مؤقف کا اظہار کیا اور کہا کہ لڑکی کے لواحقین کے بیانات میں صداقت نہیں ہے۔
انہوں صلح کے غرض سے رشتہ دینے کا فیصلہ خود کیا تھا۔
تاہم تھانہ صدر پولیس نے لڑکی کی والدہ انور بی بی کی درخواست پر حقوق نسواں ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کی دیگر دفعات کے تحت بائیس
معلوم اور دس نامعلوم افراد کےخلاف مقدمہ درج کر کے پنچایت کے ارکان، زمیندار اس کے ایک بیٹے سمیت سات افراد جن میں محمد یار
عرف نواز، محمد یاسین، مظہر اقبال، محمد اشرف، ریاض لنگڑیال، بشیر احمد اور احمد بخش کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ باقی ملزمان کی
گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
|