http://www.bbc.com/urdu/

Thursday, 07 February, 2008, 10:41 GMT 15:41 PST

شہزاد ملک
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

بینظیر قتل کیس، مزید دو گرفتاریاں

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے اس واقعہ میں ملوث دو مبینہ دہشت گردوں کی گرفتاری کا دعوٰی کیا ہے۔

اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سی آئی ڈی پنجاب چوہدری عبدالمجید نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں حسنین اور رفاقت نامی افراد شامل ہیں اور انہیں راولپنڈی پولیس کی مدد سے جمعرات کی صبح گرفتار کیا گیا۔

سکاٹ لینڈ ٹیم پھر پاکستان میں

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان افراد کا تعلق قبائلی شدت پسند بیت اللہ محسود سے ہے یا کسی اور شدت پسند گروپ سے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ان افراد کو دس روز قبل گرفتار کیا گیا تھا تاہم ان افراد کی گرفتاری کو آج منظر عام پر لایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اس واقعہ کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے پاس اعتزاز شاہ اور شیر زمان نامی ملزمان پہلے سے ہی موجود ہیں اور انہیں ڈیرہ اسماعیل خان سے گرفتار کیا گیا تھا۔

ادھر پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات میں معاونت کرنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے پاکستان پہنچ گئی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر (ر) جاوید اقبال چیمہ کے مطابق یہ ٹیم اپنی رپورٹ جمعہ کو پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کو پیش کرے گی اور بعد ازاں اے آئی جی چوہدری عبدالمجید ایک پریس کانفرنس میں اس رپورٹ کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کریں گے۔

سی سی پی او راولپنڈی سعود عزیز کے مطابق حکومت کو دی جانے والی رپورٹ میں ممکنہ طور پر یہ بتایا جائے گا کہ آیا جس مبینہ شخص نے بےنظیر بھٹو پر فائرنگ کی تھی کیا اسی نے ہی دھماکے سے اپنے آپ کو اُڑایا یا پھر فائرنگ کسی اور نے کی اور دھماکہ کسی اور نے کیا۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ جس شخص نے پہلے فائرنگ کی اسی شخص نے اپنے آپ کو دھماکے سے اُڑایا۔