BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 February, 2008, 17:09 GMT 22:09 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
برڈ فلو: خون کا ٹیسٹ دوبارہ
 

 
 
پاکستان پولٹری فارم
چوزوں کی پیداوار میں کمی کر دی گئی ہے
عالمی ادارہ صحت کی ایک خصوصی ٹیم نے کراچی میں برڈ فلو سے متاثرہ مرغی فارم کے تین ملازمین کے دوبارہ خون کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں جب کہ مرغی فارم کے مالکان نے چوزوں کی افزائش میں کمی کر دی ہے۔

متاثرہ مرغی فارم کے تین ملازم سول ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج ہیں۔ سول ہپستال کے ایم ایس ڈاکٹر کلیم بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ نیشنل ہیلتھ لیبارٹری اسلام آباد تک پہنچنے تک یہ نمونے کارآمد نہیں رہے تھے جس وجہ سے عالمی ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے دوبارہ نمونے حاصل کرکے اسلام آباد میں لیبارٹری کو بھیجے ہیں جہاں سے رپورٹ ایک ہفتے میں مل جائے گی۔

عالمی ادارہ صحت کی بھی ایک ٹیم کراچی آئی ہوئی ہے، جس نے پیر کو سول ہسپتال میں زیر علاج تینوں پولٹری کارکنوں سے ملاقات کی تھی۔

ایڈیشنل سکریٹری صحت ڈاکٹر شکیل ملک کا کہنا ہے کہ جس فارم کی مرغیوں میں برڈ فلو ایچ فائیو این ون وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اس کے گرد نواح کے بیس فارموں کے ملازموں کے خون کے بھی ٹیسٹ کروائے گئے مگر ان میں کوئی وائرس نہیں ملا ہے۔

دوسری جانب پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے ترجمان معرؤف صدیقی کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مرغی کے بحران کا خدشہ ہے کیونکہ فارمز نے چوزوں کی افزائش میں کمی کردی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روز بروز پولٹری کا کاروبار گر رہا ہے، یہ صورتحال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کوئی مثبت خبر نہیں آتی ہے۔
روز بروز پولٹری کا کاروبار گر رہا ہے، یہ صورتحال مثبت خبر آنے تک رہے گی

معرؤف صدیقی کا کہنا تھا کہ ’پینتیس چھتیس روپے کی مرغی فارم سے اٹھے گی اور اس پر خرچہ ستر روپے ہوگا ، فیڈ کے ہی پیسے پورے نہیں ہوں گے تو لوگ یہ کاروبار چھوڑ جائیں گے، کافی فارم بند بھی ہوگئے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جو بھی وائرس ہیں فارم مالک اس کی ان کی ویکسینشن کراتے رہے ہیں جو لاکھوں کروڑوں روپے لگاتے ہیں وہ ویکسینشن کیوں نہیں کروائیں گے۔

معرؤف صدیقی کا کہنا تھا کہ حکومت اور محکمہ صحت کے حکام میڈیا پر آکر یہ کہیں کہ مرغی کھانے اور پکانے سے انسانی صحت کو کوئی نقصان نہیں ہوتا، تو اس صنعت کو بحران سے بچایا جاسکتا ہے، یہ کوئی انوکھا کام نہیں ہوگا اس سے قبل تھائی لینڈ کے وزیراعظم نے سڑک پر نکل کر مرغی کھائی اور لوگوں کو پیغام دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دو سال قبل جب برڈ فلو وائرس پھلا تھا تو مرغی کی فروخت میں ریکارڈ کمی ہوئی تھی اور اس صنعت کو پچیس ارب روپے کا نقصان بھگتنا پڑا تھا اور آج کل روزانہ بیس کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ صوبہ سندھ کے حکام نے جمعہ کو کراچی میں مرغیوں میں پائے جانے والے وائرس برڈ فلو کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔

 
 
مارگریٹ چان برڈ فلو،خطرہ برقرار
ڈبلیو ایچ او کے مطابق برڈفلوکا خطرہ برقرار ہے
 
 
سرحد میں برڈ فلو، کیا کیا جائے؟ پاکستان میں برڈ فلو
آپ کے خیال میں اب کیا کیا جانا چاہیے؟
 
 
تفصیلات: برڈ فلو
برڈ فلو کب، کہاں، کیسے اور کیوں
 
 
برڈ فلو کے جراثیم برڈ فلو:دائرہ پھیل گیا
مہلک برڈ فلو کے اثرات فرانس، ایران، بھارت میں
 
 
اسی بارے میں
پاکستان:پولٹری تجارت متاثر
04 February, 2008 | پاکستان
کراچی میں برڈ فلو کی تصدیق
01 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد