|
برڈ فلو: خون کا ٹیسٹ دوبارہ
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ادارہ صحت کی ایک خصوصی ٹیم نے کراچی میں برڈ فلو سے متاثرہ مرغی فارم کے تین ملازمین کے دوبارہ خون کے نمونے حاصل کیے گئے
ہیں جب کہ مرغی فارم کے مالکان نے چوزوں کی افزائش میں کمی کر دی ہے۔
متاثرہ مرغی فارم کے تین ملازم سول ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں زیر علاج ہیں۔ سول ہپستال کے ایم ایس ڈاکٹر کلیم بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ نیشنل ہیلتھ لیبارٹری اسلام آباد تک پہنچنے تک یہ نمونے کارآمد نہیں رہے تھے جس وجہ سے عالمی ڈبلیو ایچ او کی ٹیم نے دوبارہ نمونے حاصل کرکے اسلام آباد میں لیبارٹری کو بھیجے ہیں جہاں سے رپورٹ ایک ہفتے میں مل جائے گی۔ عالمی ادارہ صحت کی بھی ایک ٹیم کراچی آئی ہوئی ہے، جس نے پیر کو سول ہسپتال میں زیر علاج تینوں پولٹری کارکنوں سے ملاقات کی تھی۔ ایڈیشنل سکریٹری صحت ڈاکٹر شکیل ملک کا کہنا ہے کہ جس فارم کی مرغیوں میں برڈ فلو ایچ فائیو این ون وائرس کی تصدیق ہوئی تھی اس کے گرد نواح کے بیس فارموں کے ملازموں کے خون کے بھی ٹیسٹ کروائے گئے مگر ان میں کوئی وائرس نہیں ملا ہے۔ دوسری جانب پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے ترجمان معرؤف صدیقی کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مرغی کے بحران کا خدشہ ہے کیونکہ فارمز نے چوزوں کی افزائش میں کمی کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روز بروز پولٹری کا کاروبار گر رہا ہے، یہ صورتحال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کوئی مثبت خبر نہیں آتی ہے۔
معرؤف صدیقی کا کہنا تھا کہ ’پینتیس چھتیس روپے کی مرغی فارم سے اٹھے گی اور اس پر خرچہ ستر روپے ہوگا ، فیڈ کے ہی پیسے پورے نہیں ہوں گے تو لوگ یہ کاروبار چھوڑ جائیں گے، کافی فارم بند بھی ہوگئے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی وائرس ہیں فارم مالک اس کی ان کی ویکسینشن کراتے رہے ہیں جو لاکھوں کروڑوں روپے لگاتے ہیں وہ ویکسینشن کیوں نہیں کروائیں گے۔ معرؤف صدیقی کا کہنا تھا کہ حکومت اور محکمہ صحت کے حکام میڈیا پر آکر یہ کہیں کہ مرغی کھانے اور پکانے سے انسانی صحت کو کوئی نقصان نہیں ہوتا، تو اس صنعت کو بحران سے بچایا جاسکتا ہے، یہ کوئی انوکھا کام نہیں ہوگا اس سے قبل تھائی لینڈ کے وزیراعظم نے سڑک پر نکل کر مرغی کھائی اور لوگوں کو پیغام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سال قبل جب برڈ فلو وائرس پھلا تھا تو مرغی کی فروخت میں ریکارڈ کمی ہوئی تھی اور اس صنعت کو پچیس ارب روپے کا نقصان بھگتنا پڑا تھا اور آج کل روزانہ بیس کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ صوبہ سندھ کے حکام نے جمعہ کو کراچی میں مرغیوں میں پائے جانے والے وائرس برڈ فلو کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔ |
اسی بارے میں
پاکستان:پولٹری تجارت متاثر04 February, 2008 | پاکستان
پاکستان بھر میں برڈ فلو کےسروے03 February, 2008 | پاکستان
کراچی: مزید چار پولٹری فارم سیل02 February, 2008 | پاکستان
اسلام آباد اورگِرد و نواح میں برڈ فلو 23 May, 2007 | پاکستان
برڈ فلو: اسلام آباد کا چڑیا گھر بند20 February, 2007 | پاکستان
کراچی میں برڈ فلو کی تصدیق01 February, 2008 | پاکستان
پاکستان: دو پولٹری فارمز میں وائرس 27 February, 2006 | پاکستان
حافظ آباد میں برڈ فلو، مرغیاں تلف01 May, 2006 | پاکستان
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||