BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 04 February, 2008, 11:33 GMT 16:33 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
’12 مئی کی تحقیق نہیں کر سکتے‘
 

 
 
اس فیصلے سے عوام میں مزید مایوسی پھیلے گی: بار صدر
سندھ ہائی کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے بارہ مئی 2007 کو سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر ہونے والے تشدد کے واقعات کے متعلق درخواستیں یہ کہتے ہوئے نمٹادی ہیں کہ کسی آئینی درخواست کی بنیاد پر ہائی کورٹ تفتیش نہیں کرسکتی۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افضل سومرو کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نےاپنے فیصلے میں تشدد کے ان واقعات کے ذمہ داروں کا تعین نہیں کیا ہے۔

نمٹائی جانے والی درخواستوں میں ایک درخواست خود ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی تھی جس میں اس وقت کے بعض ججوں کے مشاہدات بھی شامل تھے کہ انہیں کس طرح بارہ مئی کو سڑکوں پر جا بجا کھڑی کی گئی رکاوٹوں کی وجہ سے عدالت پہنچنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد ایڈووکیٹ جنرل سندھ محمد فروغ نسیم نے صحافیوں کو بتایا کہ فاضل بینچ نے فیصلے میں کہا ہے کہ بارہ مئی کے تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کے لیے حکومت نے معاوضے کا اعلان کررکھا ہے جن لوگوں کو اب معاوضہ نہیں ملا ہے وہ حکومت سے رجوع کریں اور حکومت جلد از جلد انہیں معاوضہ ادا کرے۔

انہوں نے بتایا کہ ’فیصلے میں عدالت نے ہمارے اس مؤقف کو تسلیم کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت داخل ہونے والی آئینی درخواست میں ہائی کورٹ کسی واقعے کی تفتیش نہیں کرسکتی۔ اس پر میں نے سپریم کورٹ کے دو فیصلوں کا حوالہ دیا تھا جسے عدالت نے تسلیم کیا ہے۔‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پولیس نے بارہ مئی کو ہونے والے تشدد کے واقعات کی ایف آئی آر درج کی تھیں اور بعض ایف آئی آر تو کراچی بار کی ایماء پر درج ہوئی تھیں لہذا پولیس کو ان واقعات کی تفتیش کرنی چاہیے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ درخواستوں کے تمام فریقین کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پاکستان کے مفاد میں کیا ہے اور انہیں قومی مفاد کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے وکیل نواب مرزا نے اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بارہ مئی کے واقعات کے بعد ایم کیو ایم پر جو بھی الزامات لگائے گئے وہ بے بنیاد تھے اور جب ہائی کورٹ نے ان درخواستوں کو نمٹادیا تو ساری بات ختم ہوگئی ہے۔

’ہم چاہتے تھے کہ ہائی کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہو وہ حق اور انصاف کا فیصلہ ہو اور یہ حق اور انصاف کا فیصلہ ہوگیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب ہائی کورٹ نے ان درخواستوں کو نمٹادیا ہے تو اب سزا اور جزا کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘

تاہم سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر رشید اے رضوی نے عدالتی فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’اس فیصلے سے عوام میں مزید مایوسی پھیلے گی۔ یہ کوئی مثبت قدم نہیں ہے یہ ہمیں اور اندھیرے کی طرف دھکیلے گا۔اس قسم کے یکطرفہ اور جانبدارانہ فیصلوں سے قوم پیچھے ہی جاتی ہے۔‘

واضح رہے کہ وکلاء نے اس بینچ کو مسترد کردیا تھا۔ہائی کورٹ بار کے صدر رشید رضوی نے اس سلسلے میں عدالت میں تحریری بیان دیا تھا کہ تین نومبر کو پی سی او اور ایمرجنسی کا نفاذ اور ججوں کی معطلی غیر آئینی ہے اور وہ آج بھی افتخار محمد چودھری کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس اور صبیح الدین احمد کو سندھ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تسلیم کرتے ہیں اور جسٹس سرمد جلال عثمانی کو اس سات رکنی بینچ کا سربراہ سمجھتے ہیں جو بارہ مئی سے متعلق مقدمے کی سماعت کر رہا تھا۔ اس لیے وہ اپنے دلائل انہی کے سامنے پیش کریں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری معزولی کے بعد بارہ مئی کو سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرنے کراچی آ رہے تھے کہ شہر میں مسلح گروہوں نے حملے شروع کردیئے تھے جن میں چالیس سے زائد افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہوگئے تھے جبکہ ہائی کورٹ کے اطراف میں رکاوٹیں کھڑی کرکے اسے غیراعلانیہ طور پر سیل کردیا گیا تھا۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد