BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 14 January, 2008, 10:11 GMT 15:11 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
سکاٹ لینڈ یارڈ کے چھ اہلکار واپس
 

 
 
سکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیش کار صرف حکومتی تفتیش کاروں کی مدد کرنے کے لیے پاکستان گئے ہیں
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے چھ ارکان جائے حادثہ اور مختلف ہسپتالوں سے نمونے اکھٹے کرکے پیر کے روز لندن روانہ ہوگئے جہاں پر وہ ان نمونوں کو لیبارٹریوں میں چیک کرنے کے بعد اس کی رپورٹ پر اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پاکستانی ٹیم کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔

نگران وزیر داخلہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ان تفتیشی ماہرین کی لندن روانگی کے بعد چھ مزید سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین پاکستان آرہے ہیں جو کہ بیلسٹک اور بم دھماکوں کے ماہر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین اس مقدمے کی تفتیش کے دوران پاکستان آتے جاتے رہیں گے اور وہ اس واقعہ کی مختلف زاویوں پر تحقیقات مکمل کرنے کے بعد ایک جامع رپورٹ مرتب کریں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش مکمل ہونے تک سکاٹ لینڈ یارڈ کے چار ماہرین پاکستان میں موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان غیرملکی ماہرین سے کہا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر اس واقعہ کی تحقیقات مکمل کرلیں۔
انہوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین اس واقعہ کی تفتیش میں مکمل آزاد ہیں اور حکومت کی طرف سے ان پر کوئی دباو نہیں ہے بلکہ حکومتی ایجنسیاں انھیں اس ضمن میں ہر ممکن تعاون فراہم کررہی ہیں۔

واضح رہے کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی درخواست پر برطانوی حکومت نے سانحہ لیاقت باغ کی تحقیقات کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کے تفتیشی ماہرین کی ٹیم کو پاکستان بھیجا تھا اور پہلے مرحلے میں پانچ ارکان پر مشتمل سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم چار جنوری کوپاکستان آئی تھی جس کے بعد مذید تین ماہرین پاکستان پہنچے تھے۔
بینظیر بھٹو کے قتل کی تفتیش اقوام متحدہ سے کرانے کا مطالبہ حکومت نے رد کر دیا ہے

پاکستان میں رہ جانے والے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے ارکان نے پیر کے روز سی ایم ایچ کا دورہ کیا اور انہوں نے مبینہ خودکش حملہ آور کے چہرے کی سرجری کو دیکھا جوکہ مزکورہ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس حملہ آور کی انگلیوں کے نشانات کا بھی جائزہ لیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل اسلام آباد میں برطانوی سفارت خانے نے حکومت پاکستان اور برطانیہ کے درمیان پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تفصیل جاری کی تھیں۔

پاکستانی وزارت داخلہ اور برطانوی سفارت خانے کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق معاہدے کے تحت سکاٹ لینڈ یارڈ صرف بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی اصل وجہ کے تعین کے لیے مدد فراہم کرے گی۔

معاہدے کے تحت برطانوی ماہرین کی ٹیم صرف پاکستانی حکام کو اپنے نتائج سے آگاہ کر سکے گی۔ اور اس ٹیم کی قیادت سینئر تحقیقاتی افسر میک برائن کریں گے۔

معاہدے سے واضح ہوتا ہے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم صرف مقامی انتظامیہ کی مدد کرے گی اور تحقیقات کی قیادت نہیں کرے گی۔ برطانوی ٹیم تحقیقی اور فورنزک ماہرین پر مشتمل ہوگی۔ادھر پیلپز پارٹی کی قیادت اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ اقوام متحدہ سے کروانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ ستائیس دسمبر کو بےنظیر بھٹو کی راولپنڈی لیاقت باغ میں ایک انتخابی ریلی کے اختتام پر مبینہ خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اُرادیا جس سے بےنظیر بھٹو سمیت چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس واقعہ کو رونما ہوئے دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن پولیس نے اس مقدمے کا چالان ابھی تک کسی مقامی عدالت میں پیش نہیں کیا۔

 
 
اسی بارے میں
برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف
02 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد