|
سکاٹ لینڈ یارڈ کے چھ اہلکار واپس
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بےنظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرنے والی سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے چھ ارکان جائے حادثہ اور مختلف ہسپتالوں
سے نمونے اکھٹے کرکے پیر کے روز لندن روانہ ہوگئے جہاں پر وہ ان نمونوں کو لیبارٹریوں میں چیک کرنے کے بعد اس کی رپورٹ پر اس واقعہ
کی تحقیقات کرنے والی پاکستانی ٹیم کے ساتھ تبادلہ خیال کریں گے۔
نگران وزیر داخلہ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ان تفتیشی ماہرین کی لندن روانگی کے بعد چھ مزید سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین پاکستان آرہے ہیں جو کہ بیلسٹک اور بم دھماکوں کے ماہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین اس مقدمے کی تفتیش کے دوران پاکستان آتے جاتے رہیں گے اور وہ اس واقعہ کی مختلف زاویوں پر تحقیقات مکمل کرنے کے بعد ایک جامع رپورٹ مرتب کریں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اس مقدمے کی تفتیش مکمل ہونے تک سکاٹ لینڈ یارڈ کے چار ماہرین پاکستان میں موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ
حکومت نے ان غیرملکی ماہرین سے کہا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر اس واقعہ کی تحقیقات مکمل کرلیں۔ واضح رہے کہ صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی درخواست پر برطانوی حکومت نے سانحہ لیاقت باغ کی تحقیقات کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کے
تفتیشی ماہرین کی ٹیم کو پاکستان بھیجا تھا اور پہلے مرحلے میں پانچ ارکان پر مشتمل سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم چار جنوری کوپاکستان
آئی تھی جس کے بعد مذید تین ماہرین پاکستان پہنچے تھے۔
پاکستان میں رہ جانے والے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کے ارکان نے پیر کے روز سی ایم ایچ کا دورہ کیا اور انہوں نے مبینہ خودکش حملہ آور کے چہرے کی سرجری کو دیکھا جوکہ مزکورہ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس حملہ آور کی انگلیوں کے نشانات کا بھی جائزہ لیا۔ واضح رہے کہ چند روز قبل اسلام آباد میں برطانوی سفارت خانے نے حکومت پاکستان اور برطانیہ کے درمیان پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تفصیل جاری کی تھیں۔ پاکستانی وزارت داخلہ اور برطانوی سفارت خانے کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق معاہدے کے تحت سکاٹ لینڈ یارڈ صرف بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی اصل وجہ کے تعین کے لیے مدد فراہم کرے گی۔ معاہدے کے تحت برطانوی ماہرین کی ٹیم صرف پاکستانی حکام کو اپنے نتائج سے آگاہ کر سکے گی۔ اور اس ٹیم کی قیادت سینئر تحقیقاتی افسر میک برائن کریں گے۔ معاہدے سے واضح ہوتا ہے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم صرف مقامی انتظامیہ کی مدد کرے گی اور تحقیقات کی قیادت نہیں کرے گی۔ برطانوی ٹیم تحقیقی اور فورنزک ماہرین پر مشتمل ہوگی۔ادھر پیلپز پارٹی کی قیادت اس واقعہ کی تحقیقات کا مطالبہ اقوام متحدہ سے کروانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ ستائیس دسمبر کو بےنظیر بھٹو کی راولپنڈی لیاقت باغ میں ایک انتخابی ریلی کے اختتام پر مبینہ خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اُرادیا جس سے بےنظیر بھٹو سمیت چوبیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس واقعہ کو رونما ہوئے دو ہفتے سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن پولیس نے اس مقدمے کا چالان ابھی تک کسی مقامی عدالت میں پیش نہیں کیا۔ |
اسی بارے میں
برطانیہ سے مدد لیں گے: مشرف02 January, 2008 | پاکستان
’تحقیقات میں مروجہ طریقے سےانحراف‘05 January, 2008 | پاکستان
سکاٹ لینڈ یارڈ، مشرف سے ملاقات08 January, 2008 | پاکستان
سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم میں اضافہ09 January, 2008 | پاکستان
تصاویر، وڈیوکلپس کا پھر سے جائزہ11 January, 2008 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||