Wednesday, 19 December, 2007, 15:54 GMT 20:54 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان میں جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ انتخابات کے حوالے سے دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے ایک گروپ کا انتخابی نشان کتاب اور دوسرے کے امیدواروں نے تختی کے نشان حاصل کیا ہے۔
ژوب میں بدھ کو جمعیت علمائے اسلام کے اس دھڑے نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جو جمیعت کی صوبائی قیادت کے فیصلوں کے مخالف ہیں۔ ژوب میں مولوی عصمت اللہ نے صوبائی امیر مولانا محمد خان شیرانی کے خلاف قومی اسمبلی کی نشست کے لیے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔
جمیعت علمائے اسلام کے مقامی قائدین نے بتایا ہے کہ امیدواروں کو ٹکٹ دینے اور ذرائع ابلاغ میں اعلان کے بعد اس میں تبدیلی لائی گئی اور ایسے امیدواروں کو سامنے لایا گیا ہے جو جیتنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور اس سے مسلم لیگ قائد اعظم کے امیدوار کو فائدہ پہنچے گا۔
جمیعت علمائے اسلام کے ضلع کوئٹہ کے امیر حافظ فضل محمد بڑیچ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمیعت علمائے اسلام کی ضلعی تنظیمیں اور اسی فیصد کارکن ان کے ساتھ ہیں جو جمیعت کی صوبائی قیادت کے فیصلوں کے خلاف ہیں۔
یہاں بلوچستان میں ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ جمیعت کی مرکزی قیادت نے اس حوالے سے تفصیلات طلب کی ہیں اور ایک خط کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے ۔ اس بارے میں جمیعت علمائے اسلام کوئٹہ کے سیکرٹری اطلاعات عبدالستار چشستی نے بتایا اس وقت ان کے گروپ کے بیس امیدوار صوبائی اسمبلی اور چار قومی اسمبلی کے لیے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے منسوب خط حقیقی نہیں بلکہ تین فروری کو جاری کردہ کسی خط پر مضمون تبدیل کیا گیا ہے۔
یاد رہے بلوچستان میں جمیعت نظریاتی اعتبار سے دو واضح گروپس میں پہلے سے تقسیم ہے ایک گروہ کے مطابق جمیعت اپنے نظریات کے مطابق سیاست کرے۔ انتخابات وزارتیں اور حکومت اہمیت نہیں رکھتے جبکہ دوسرا گروپ پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتا ہے۔
اس بارے میں جمیعت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان اور صوبائی قائدین سے رابطے کی بارہا کوشش کی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔