Tuesday, 11 December, 2007, 02:11 GMT 07:11 PST
لندن پولیس نے بلوچ رہنماء نواب خیر بخش مری کے بیٹے حیربیار اور ان کے ایک ساتھی پر برطانیہ سے باہر کسی دوسرے فرد کو دہشتگردی پر اکسانے کا باقاعدہ الزام لگا دیا ہے۔
حکام کے مطابق دونوں کو جس الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اگر وہ انگلینڈ اور ویلز میں سرزد ہو تو قتل تصور کیا جائے گا۔
پولیس کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انتالیس سالہ حیربیار مری اور پچیس سالہ فیض بلوچ کو منگل (گیارہ دسمبر) کو لندن کی سٹی آف ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔
حیربیار مری اور فیض بلوچ کو چار دسمبر کے روز حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق حیربیار سے ایک ایسا ہتھیار بھی برآمد کیا گیا ہے جس کی مدد سے کوئی مہلک گیس یا سیال مادہ پھینکا جا سکتا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق حیربیار مری کے بھائی مہران بلوچ نے دعوٰی کیا ہے کہ یہ گرفتاریاں ان کے بھائی بالاچ مری کی ہلاکت کے دو ہفتے بعد عمل میں آئی ہیں اور ’یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ یہ دونوں حکومتوں کی ملی بھگت اور ایک سوچی سمجھی سازش ہے‘۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ صدر مشرف کے ایلچی طارق عظیم نے حال ہی میں اس حوالے سے برطانیہ کا دورہ بھی کیا تھا۔
گارڈین کے مطابق انسانی حقوق کے ایک کارکن پیٹر تھیچل کا کہنا ہے کہ دونوں گرفتار افراد بلوچستان کی تحریک آزادی کے حامی ہیں اور خدشہ ہے کہ انہیں پاکستان کے حوالے کر دیا جائے گا، جہاں انہیں سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حیربیار مری اور فیض بلوچ پر اس وقت الزامات سامنے آئے ہیں جب پاکستان ’لندن طیارہ سازش کیس‘ کے ایک ملزم راشد رؤف کو برطانیہ کے حوالے کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
برمنگھم سے تعلق رکھنے والے راشد رؤف کو گزشتہ سال پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام ہے کہ وہ لندن سے امریکہ جانے والے طیاروں کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہیں۔
کچھ ماہ قبل گارڈین سمیت برطانوی اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئی تھیں کہ پاکستان بلوچستان لبریشن آرمی کے آٹھ مشتبہ ارکان کے بدلے راشد رؤف کو برطانیہ کے حوالے کرنے پر تیار ہے۔ برطانیہ نے بلوچستان لبریشن آرمی کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔
حیربیار مری اور فیض بلوچ کو گرفتار کیا گیا تھا تو سکاٹ لینڈ یارڈ کے حکام کا کہنا تھا کہ انہیں کسی دوسرے ملک کے حوالے کرنے کے وارنٹ کے تحت گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔
نواب خیربخش مری کے ایک اور بیٹے بالاچ مری گزشتہ ماہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ہلاک ہوگئے تھے۔ تاہم ان کی ہلاکت کا سبب بننے والے حالات ابھی واضح نہیں ہیں۔