|
حیربیار، درخواست ضمانت مسترد
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی ایک عدالت نے بلوچ قومپرست رہنما نواب خیر بخش مری کے بیٹے حیربیار اور ان کے ساتھی فیض بلوچ کی ضمانت کی درخواست نامنظور
کر دی ہے۔
حیربیار اور فیض بلوچ پر دہشت گردی کو ہوا دینے کا الزام ہے۔ انہیں چار دسمبر کو لندن میں ان کے گھروں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ حیربیار کے وکیل جیمس نکول نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ہائی کورٹ کو خدشہ تھا کہ ضمانت پر رہا کیے جانے کی صورت ملزمان فرار ہوسکتے ہیں۔ لیکن جیمس نکول کے مطابق ملزمان کے خلاف جو ثبوت پیش کیے گئے ہیں وہ اتنے ’ناکافی اور کمزور ہیں کہ یہ مقدمہ عدالت تک پہنچنا ہی نہیں چاہیے تھا‘۔ انہوں نے بتایا کہ گیارہ دسمبر کو پہلی سماعت کے وقت استغاثہ نے دعوی کیا تھا کہ حیربیار مری گزشتہ برس درجنوں مرتبہ ملک سے باہر گئے لیکن جمعہ کو انہوں نے اعتراف کیا کہ حیربیار ’ایک بھی مرتبہ ملک سے باہر نہیں گئے‘۔ استغاثہ کا دعوی ہے کہ حیربیار مری کے پاس چوبیس ٹیلی فون تھے، ان کے پاس سے اٹھارہ ہزار پاؤنڈ نقد برآمد کیے گئے، انہوں نے اپنے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک تباہ کی اور انٹرنیٹ پر ایک بیان شائع کیا جس میں انہوں نے اپنے بھائی بالاچ مری کو شہید قرار دیا تھا۔ ملزمان نے ویب لنک کے ذریعہ سخت سکیورٹی والی بیل مارش جیل سے مقدمے کی سماعت میں حصہ لیا۔
مقدمے کی اگلی سماعت یکم فروری کو ہوگی جب ملزمان کی جانب سے ضمانت کی تازہ درخواست پیش کی جائے گی۔ سماعت کے موقع پر عدالت کے باہر ایک مظاہرہ بھی کیا گیا جس کا اہتمام عالمی سندھی کانگریس اور سندھی بلوچ فورم نے کیا تھا۔ گرفتاری کے بعد برطانوی اخبار گارڈین نے حیربیار مری کے بھائی مہران بلوچ کے حوالے سے کہا تھا کہ یہ گرفتاریاں ان کے بھائی بالاچ مری کی ہلاکت کے دو ہفتے بعد عمل میں آئی ہیں اور ’یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ یہ دونوں حکومتوں کی ملی بھگت اور ایک سوچی سمجھی سازش ہے‘۔
حیربیار مری اور فیض بلوچ پر اس وقت الزامات سامنے آئے جب اطلاعات کے مطابق پاکستان ’لندن طیارہ سازش کیس‘ کے ایک ملزم راشد رؤف کو برطانیہ کے حوالے کرنے پر غور کر رہا تھا لیکن اس کے بعد راشد رؤف پر اسرار حالات میں پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے۔ برمنگھم سے تعلق رکھنے والے راشد رؤف کو گزشتہ سال پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام ہے کہ وہ لندن سے امریکہ جانے والے طیاروں کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی میں ملوث ہیں۔ پاکستان کے نگران وزیرِ داخلہ لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ حامد نواز کے مطابق حیر بیار مری پاکستان کو مطلوب ہیں اور ان کی برطانیہ میں ایک ساتھی سمیت گرفتاری کے حوالے سے پاکستانی وزارت خارجہ کے حکام برطانوی حکام سے رابطے میں ہیں۔ حیربیار مری پر سنہ دو ہزار پانچ میں جسٹس نواز مری کے قتل کا مقدمہ درج ہے۔ |
اسی بارے میں
حیربیار پاکستان کو مطلوب:وزارتِ داخلہ11 December, 2007 | پاکستان
حیربیار پر دہشت گردی کا مقدمہ11 December, 2007 | پاکستان
’بالاچ کے بھائی لندن میں گرفتار‘04 December, 2007 | پاکستان
خیابانِ سحر کا خاموش مری11 December, 2007 | پاکستان
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||