|
ریل حادثہ: 56 ہلاک، 150 زخمی
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سندھ میں محراب پور کے مقام پر کراچی سے لاہور جانے والی کراچی ایکسپریس کے حادثے میں ہلاک شدگان کی تعداد چھپن
ہوگئی ہے جبکہ ملبہ ہٹانے کا کام اندھیرے کی وجہ سے روک دیا گیا ہے اور اب یہ کام جمعرات کی صبح پھر شروع کیا جائے گا۔
یہ حادثہ بدھ کو علی الصبح پیش آیا تھا اور اس میں حکام کے مطابق ایک سو پچاس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حادثے سے ٹرین کی بارہ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی تھیں۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ تاحال اس حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔حکومت نے اس حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور اس حوالے سے مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے تاہم مقدمے میں تخریب کاری کے امکان کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ ادھر نگران وفاقی وزیر برائے ریلوے منصور طارق نے پاکستان ریلوے کے چئرمین کے ہمراہ جائے وقوع کا دورہ کیا ہے اور ہلاک شدگان کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے مالی مدد کا اعلان بھی کیا ہے۔
حادثے کے بعد جائے حادثہ پر مقامی لوگوں نے ٹرین کے مختلف حصوں کو کاٹنے کے لیے انتظامات کیے جبکہ ریلوے کی امدادی ٹرین بھی حادثے کے چھ گھنٹے بعد پہنچی۔ محراب پور کے سٹیشن ماسٹر مشتاق احمد نے بتایا ہے کہ ریل گاڑی کی بیشتر بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ صرف چار بوگیاں ٹریک پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رات کے وقت جائے حادثہ پر روشنی کا بھی بندوبست نہیں تھا اور صورتحال کا صحیح اندازہ لگانا مشکل تھا۔ حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین کے گارڈ عبدالعزیز چانڈیو نے بتایا ٹرین میں آٹھ سو اناسی مسافروں کی بکنگ تھی۔ انہوں نے کہا کہ حادثے سے پہلے انہوں نے جھٹکے محسوسں کیے اور ڈرائیور سے رابطے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔ لاہور سے تعلق رکھنے والی مسافر فرح زیبا اپنے تین بچوں کے ساتھ زخمی حالت میں جائے حادثہ پر موجود تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ایک بچی ٹرین میں ہے اور اس کا پتہ نہیں چل رہا۔ انہوں نے کہاکہ انہیں ٹرین سے نکلتے ہوئے اس کی آواز آ رہی تھی لیکن لوگوں نے کہا کہ وہ اس کو نکال لیں گے لیکن اب اس کا پتہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے گیارہ افراد کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔
ایک اور مسافر عبدالقدیر نے بتایا کہ ٹرین میں بہت رش تھا اور وہ کراچی سے تین گھنٹے تاخیر سے چلی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دیر سے چلنے کی وجہ سے شاید ڈرائیور نے ٹرین کی رفتار زیادہ رکھی تھی۔ محراب پور کے دیہی مرکز میں بستروں، چارپائیوں، فرش جہاں پر بھی جگہ مِل رہی ہے زخمیوں کو رکھا گیا اور مقامی آبادی نے مسافروں کو کھانے پینے کی اشیا فراہم کیں۔ محراب پور کے محمد کاشف زخمیوں کے لیے چائے لے کر آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا کسی تنظیم سے تعلق نہیں اور دیگر لوگوں کی طرح حادثے کی خبر سن کر خود ہی موقع پر پہنچے ہیں۔ خیال ظاہر کیا جا رہا کہ زیادہ تر مسافر عید منانے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ پنجاب اور سرحد سے بہت بڑی تعداد میں لوگ روزگار کے لیے کراچی میں آباد ہیں جو عید منانے کے لیے اپنے آبائی گھروں کو جاتے ہیں۔ ریلوے کے سکھر ڈویژن کے کنٹرولر تنویر احمد نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر حادثہ کی وجہ کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ محراب پور سٹیشن پر موجود پولیس انسپکٹر اللہ ورایو نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثہ رات کو تقریباً سوا دو بجے کے قریب پیش آیا۔ ریل گاڑی کراچی سے رات کو نو بجے روانہ ہوئی تھی۔ |
اسی بارے میں
ریل حادثہ: پچاس ہلاک، ڈیڑھ سو زخمی19 December, 2007 | پاکستان
ٹرین کاحادثہ، 132 افرادہلاک 13 July, 2005 | پاکستان
تین ٹرینیں کیسے ٹکرائیں؟13 July, 2005 | پاکستان
ٹرین حادثہ: ڈرائیور سوگیا تھا؟13 July, 2005 | پاکستان
ریل حادثہ: ایک ہلاک ، تیس زخمی04 February, 2006 | پاکستان
ٹرین حادثہ: چار ہلاک، تیس زخمی29 January, 2006 | پاکستان
دھماکہ: ریلوے ٹریفک معطل28 September, 2005 | پاکستان
ڈی جی خان: ریل کی پٹڑی تباہ27 January, 2006 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||