BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 December, 2007, 21:38 GMT 02:38 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
ریل حادثہ: 56 ہلاک، 150 زخمی
 

 
 
زخمی مسافر
ایک زخمی مسافر موبائل سے رشتہ داروں کو خیریت سے آگاہ کر رہا ہے
پاکستان کے صوبہ سندھ میں محراب پور کے مقام پر کراچی سے لاہور جانے والی کراچی ایکسپریس کے حادثے میں ہلاک شدگان کی تعداد چھپن ہوگئی ہے جبکہ ملبہ ہٹانے کا کام اندھیرے کی وجہ سے روک دیا گیا ہے اور اب یہ کام جمعرات کی صبح پھر شروع کیا جائے گا۔

یہ حادثہ بدھ کو علی الصبح پیش آیا تھا اور اس میں حکام کے مطابق ایک سو پچاس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ حادثے سے ٹرین کی بارہ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی تھیں۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ تاحال اس حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔حکومت نے اس حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور اس حوالے سے مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے تاہم مقدمے میں تخریب کاری کے امکان کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

ادھر نگران وفاقی وزیر برائے ریلوے منصور طارق نے پاکستان ریلوے کے چئرمین کے ہمراہ جائے وقوع کا دورہ کیا ہے اور ہلاک شدگان کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے مالی مدد کا اعلان بھی کیا ہے۔

ٹرین حادثہ
ٹرین کو کاٹ کر لوگوں کو نکالا جا رہا ہے

حادثے کے بعد جائے حادثہ پر مقامی لوگوں نے ٹرین کے مختلف حصوں کو کاٹنے کے لیے انتظامات کیے جبکہ ریلوے کی امدادی ٹرین بھی حادثے کے چھ گھنٹے بعد پہنچی۔ محراب پور کے سٹیشن ماسٹر مشتاق احمد نے بتایا ہے کہ ریل گاڑی کی بیشتر بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ صرف چار بوگیاں ٹریک پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رات کے وقت جائے حادثہ پر روشنی کا بھی بندوبست نہیں تھا اور صورتحال کا صحیح اندازہ لگانا مشکل تھا۔

حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین کے گارڈ عبدالعزیز چانڈیو نے بتایا ٹرین میں آٹھ سو اناسی مسافروں کی بکنگ تھی۔ انہوں نے کہا کہ حادثے سے پہلے انہوں نے جھٹکے محسوسں کیے اور ڈرائیور سے رابطے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی مسافر فرح زیبا اپنے تین بچوں کے ساتھ زخمی حالت میں جائے حادثہ پر موجود تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ایک بچی ٹرین میں ہے اور اس کا پتہ نہیں چل رہا۔ انہوں نے کہاکہ انہیں ٹرین سے نکلتے ہوئے اس کی آواز آ رہی تھی لیکن لوگوں نے کہا کہ وہ اس کو نکال لیں گے لیکن اب اس کا پتہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے گیارہ افراد کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔

مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں انتظامیہ کے ساتھ مسافروں کی مدد کر رہے تھے

ایک اور مسافر عبدالقدیر نے بتایا کہ ٹرین میں بہت رش تھا اور وہ کراچی سے تین گھنٹے تاخیر سے چلی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دیر سے چلنے کی وجہ سے شاید ڈرائیور نے ٹرین کی رفتار زیادہ رکھی تھی۔

محراب پور کے دیہی مرکز میں بستروں، چارپائیوں، فرش جہاں پر بھی جگہ مِل رہی ہے زخمیوں کو رکھا گیا اور مقامی آبادی نے مسافروں کو کھانے پینے کی اشیا فراہم کیں۔ محراب پور کے محمد کاشف زخمیوں کے لیے چائے لے کر آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا کسی تنظیم سے تعلق نہیں اور دیگر لوگوں کی طرح حادثے کی خبر سن کر خود ہی موقع پر پہنچے ہیں۔

خیال ظاہر کیا جا رہا کہ زیادہ تر مسافر عید منانے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ پنجاب اور سرحد سے بہت بڑی تعداد میں لوگ روزگار کے لیے کراچی میں آباد ہیں جو عید منانے کے لیے اپنے آبائی گھروں کو جاتے ہیں۔

ریلوے کے سکھر ڈویژن کے کنٹرولر تنویر احمد نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر حادثہ کی وجہ کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

محراب پور سٹیشن پر موجود پولیس انسپکٹر اللہ ورایو نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثہ رات کو تقریباً سوا دو بجے کے قریب پیش آیا۔ ریل گاڑی کراچی سے رات کو نو بجے روانہ ہوئی تھی۔

 
 
اسی بارے میں
تین ٹرینیں کیسے ٹکرائیں؟
13 July, 2005 | پاکستان
دھماکہ: ریلوے ٹریفک معطل
28 September, 2005 | پاکستان
ڈی جی خان: ریل کی پٹڑی تباہ
27 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد