|
ریل حادثہ: پچاس ہلاک، ڈیڑھ سو زخمی
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں نوشہرو فیروز کے قریب محراب پور کے مقام پر کراچی سے لاہور جانے والی کراچی ایکسپریس کی کئی بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں
اور ریلوے کے حکام کےمطابق اس حادثے میں پچاس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔
تاہم مقامی دیہی مرکز کے ڈاکٹر عاشق راجپر نے ستائیس افراد کی ہلاکتوں اور ایک سو پچاس سے زیادہ افراد کے زخمی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مرکز میں ستائیس افراد کی لاشیں لائی گئیں۔ کئی لوگ ابھی ٹرین کے ڈبوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حکومت نے مہرابپور کے قریب ریل گاڑی کے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ نگران وفاقی وزیر برائے ریلوے منصور طارق پاکستان ریلوے کے چئرمین کے ہمراہ جائے وقوع کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔
جائے حادثہ پر مقامی لوگوں نے ٹرین کے مختلف حصوں کو کاٹنے کے لیے انتظامات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ حادثے کے چھ گھنٹے بعد ریلوے کی امدادی ٹرین بھی پہنچ گئی۔ لوگوں نے بتایا کہ ایک ڈبے میں ایک بچی کا ہاتھ پھنسا ہوا ہے اور وہ نکل نہیں پا رہی تھی۔ حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین کے گارڈ عبدالعزیز چانڈیو نے بتایا ٹرین میں آٹھ سو اناسی مسافروں کی بکنگ تھی۔ انہوں نے کہا کہ حادثے سے پہلے انہوں نے جھٹکے محسوسں کیے اور ڈرائیور سے رابطے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔ حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ زخمیوں کو علاقے کے ہسپتالوں میں پہنچانے کا کام جاری ہے۔ محراب پور کے دیہی مرکزی صحت کے ڈاکٹر عثمان راحت نے بتایا تھا کہ ان کے مرکز میں صرف بارہ بستر ہیں۔ ایک چارپائی پر لاہور سے تعلق رکھنے والی فرح زیبا اپنے تین بچوں کے ساتھ زخمی حالت میں لیٹی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ایک بچی ٹرین میں ہے اور اس کا پتہ نہیں چل رہا۔ انہوں نے کہاکہ انہیں ٹرین سے نکلتے ہوئے اس کی آواز آ رہی تھی لیکن لوگوں نے کہا کہ وہ اس کو نکال لیں گے لیکن اب اس کا پتہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے گیارہ افراد کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔
ایک اور مسافر عبدالقدیر نے بتایا کہ ٹرین میں بہت رش تھا اور وہ کراچی سے تین گھنٹے تاخیر سے چلی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دیر سے چلنے کی وجہ سے شاید ڈرائیور نے ٹرین کی رفتار زیادہ رکھی تھی۔ محراب پور کے دیہی مرکز میں بستروں، چارپائیوں، فرش جہاں پر بھی جگہ مِل رہی ہے زخمیوں کو رکھا جا رہے۔ مقامی لوگ بڑی تعداد میں جمع ہیں اور مسافروں کے لیے کھانے پینے کی اشیا فراہم کر رہے ہیں۔ محراب پور کے محمد کاشف زخمیوں کے لیے چائے لے کر آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا کسی تنظیم سے تعلق نہیں اور دیگر لوگوں کی طرح حادثے کی خبر سن کر خود ہی موقع پر پہنچے ہیں۔ محراب پور کے سٹیشن ماسٹر مشتاق احمد نے بتایا ہے کہ ریل گاڑی کی چھ بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ صرف چار بوگیاں ٹریک پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رات کے وقت جائے حادثہ پر روشنی کا بھی بندوبست نہیں تھا اور صورتحال کا صحیح اندازہ لگانا مشکل تھا۔ خیال ظاہر کیا جا رہا کہ زیادہ تر مسافر عید منانے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ پنجاب اور سرحد سے بہت بڑی تعداد میں لوگ روزگار کے لیے کراچی میں آباد ہیں جو عید منانے کے لیے اپنے آبائی گھروں کو جاتے ہیں۔ ریلوے کے سکھر ڈویژن کے کنٹرولر تنویر احمد نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر حادثہ کی وجہ کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ محراب پور سٹیشن پر موجود پولیس انسپکٹر اللہ ورایو نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثہ رات کو تقریباً سوا دو بجے کے قریب پیش آیا۔ ریل گاڑی کراچی سے رات کو نو بجے روانہ ہوئی تھی۔ |
اسی بارے میں
ٹرین کاحادثہ، 132 افرادہلاک 13 July, 2005 | پاکستان
تین ٹرینیں کیسے ٹکرائیں؟13 July, 2005 | پاکستان
ٹرین حادثہ: ڈرائیور سوگیا تھا؟13 July, 2005 | پاکستان
ریل حادثہ: ایک ہلاک ، تیس زخمی04 February, 2006 | پاکستان
ٹرین حادثہ: چار ہلاک، تیس زخمی29 January, 2006 | پاکستان
دھماکہ: ریلوے ٹریفک معطل28 September, 2005 | پاکستان
ڈی جی خان: ریل کی پٹڑی تباہ27 January, 2006 | پاکستان
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||