BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 December, 2007, 00:47 GMT 05:47 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
ریل حادثہ: پچاس ہلاک، ڈیڑھ سو زخمی
 

 
 
ٹرین
ٹرین میں آٹھ سو اناسی مسافروں کی سیٹوں کی بکنگ تھی
سندھ میں نوشہرو فیروز کے قریب محراب پور کے مقام پر کراچی سے لاہور جانے والی کراچی ایکسپریس کی کئی بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں اور ریلوے کے حکام کےمطابق اس حادثے میں پچاس افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

تاہم مقامی دیہی مرکز کے ڈاکٹر عاشق راجپر نے ستائیس افراد کی ہلاکتوں اور ایک سو پچاس سے زیادہ افراد کے زخمی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مرکز میں ستائیس افراد کی لاشیں لائی گئیں۔ کئی لوگ ابھی ٹرین کے ڈبوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔

حکومت نے مہرابپور کے قریب ریل گاڑی کے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ نگران وفاقی وزیر برائے ریلوے منصور طارق پاکستان ریلوے کے چئرمین کے ہمراہ جائے وقوع کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔

ٹرین حادثہ
ٹرین کو کاٹ کر لوگوں کو نکالا جا رہا ہے

جائے حادثہ پر مقامی لوگوں نے ٹرین کے مختلف حصوں کو کاٹنے کے لیے انتظامات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ حادثے کے چھ گھنٹے بعد ریلوے کی امدادی ٹرین بھی پہنچ گئی۔ لوگوں نے بتایا کہ ایک ڈبے میں ایک بچی کا ہاتھ پھنسا ہوا ہے اور وہ نکل نہیں پا رہی تھی۔

حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین کے گارڈ عبدالعزیز چانڈیو نے بتایا ٹرین میں آٹھ سو اناسی مسافروں کی بکنگ تھی۔ انہوں نے کہا کہ حادثے سے پہلے انہوں نے جھٹکے محسوسں کیے اور ڈرائیور سے رابطے کی کوشش کی تھی لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔

حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ زخمیوں کو علاقے کے ہسپتالوں میں پہنچانے کا کام جاری ہے۔ محراب پور کے دیہی مرکزی صحت کے ڈاکٹر عثمان راحت نے بتایا تھا کہ ان کے مرکز میں صرف بارہ بستر ہیں۔

ایک چارپائی پر لاہور سے تعلق رکھنے والی فرح زیبا اپنے تین بچوں کے ساتھ زخمی حالت میں لیٹی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ایک بچی ٹرین میں ہے اور اس کا پتہ نہیں چل رہا۔ انہوں نے کہاکہ انہیں ٹرین سے نکلتے ہوئے اس کی آواز آ رہی تھی لیکن لوگوں نے کہا کہ وہ اس کو نکال لیں گے لیکن اب اس کا پتہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے خاندان کے گیارہ افراد کے ساتھ سفر کر رہی تھیں۔

مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں انتظامیہ کے ساتھ مسافروں کی مدد کر رہے تھے

ایک اور مسافر عبدالقدیر نے بتایا کہ ٹرین میں بہت رش تھا اور وہ کراچی سے تین گھنٹے تاخیر سے چلی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دیر سے چلنے کی وجہ سے شاید ڈرائیور نے ٹرین کی رفتار زیادہ رکھی تھی۔

محراب پور کے دیہی مرکز میں بستروں، چارپائیوں، فرش جہاں پر بھی جگہ مِل رہی ہے زخمیوں کو رکھا جا رہے۔ مقامی لوگ بڑی تعداد میں جمع ہیں اور مسافروں کے لیے کھانے پینے کی اشیا فراہم کر رہے ہیں۔ محراب پور کے محمد کاشف زخمیوں کے لیے چائے لے کر آئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا کسی تنظیم سے تعلق نہیں اور دیگر لوگوں کی طرح حادثے کی خبر سن کر خود ہی موقع پر پہنچے ہیں۔

محراب پور کے سٹیشن ماسٹر مشتاق احمد نے بتایا ہے کہ ریل گاڑی کی چھ بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں جبکہ صرف چار بوگیاں ٹریک پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رات کے وقت جائے حادثہ پر روشنی کا بھی بندوبست نہیں تھا اور صورتحال کا صحیح اندازہ لگانا مشکل تھا۔

خیال ظاہر کیا جا رہا کہ زیادہ تر مسافر عید منانے اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ پنجاب اور سرحد سے بہت بڑی تعداد میں لوگ روزگار کے لیے کراچی میں آباد ہیں جو عید منانے کے لیے اپنے آبائی گھروں کو جاتے ہیں۔

ریلوے کے سکھر ڈویژن کے کنٹرولر تنویر احمد نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر حادثہ کی وجہ کے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔

محراب پور سٹیشن پر موجود پولیس انسپکٹر اللہ ورایو نے بی بی سی کو بتایا کہ حادثہ رات کو تقریباً سوا دو بجے کے قریب پیش آیا۔ ریل گاڑی کراچی سے رات کو نو بجے روانہ ہوئی تھی۔

 
 
اسی بارے میں
تین ٹرینیں کیسے ٹکرائیں؟
13 July, 2005 | پاکستان
دھماکہ: ریلوے ٹریفک معطل
28 September, 2005 | پاکستان
ڈی جی خان: ریل کی پٹڑی تباہ
27 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد