|
گل جی اور ان کی اہلیہ مردہ پائے گئے
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے نامور مصور اور خطاط اسماعیل گل جی، اپنی اہلیہ اور گھریلو نوکرانی کے ساتھ بدھ کو اپنی رہائش گاہ واقع کلفٹن میں مردہ
پائے گئے۔ پولیس نے اس واردات کو قتل قرار دیا ہے۔
پولیس کے مطابق ان تینوں کے منہ پر کپڑا باندھ کر ہلاک کیا گیا ہے۔ کلفٹن پولیس کے ایس پی آصف اعجاز نے بی بی سی کو بتایا کہ تینوں کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا پایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان تینوں کو قتل کیا گیا ہے۔ قائم مقام ڈی آئی جی ساؤتھ طاہر نوید نے بی بی سی کو بتایا کہ تینوں کی لاشیں گھر کے مختلف حصوں میں پڑی ہوئی ملی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گل جی کے منہ پر کپڑا بندھا ہوا ہے اور ان کے سر پر بھی خون کے دھبے نمایاں ہیں۔ ان کی اہلیہ کی لاش باورچی خانہ میں ملی ہے اور کم و بیش ان کا بھی یہی حال ہے جبکہ ان کی گھریلو ملازمہ کی لاش گھر کے سٹور سے ملی ہے۔
طاہر نوید نے بتایا کہ قتل کی یہ واردات تین سے چار دن قبل ہوئی ہے اور اس وقت لاشیں مسخ ہورہی ہیں لہذٰا ان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کرنے سے ہو سکتا ہے کہ چند شواہد ضائع ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ لاشوں کو جرم کی جگہ پر ہی محفوظ کرلیا جائے اور ان تینوں کا پہلا پوسٹ مارٹم بھی جائے وقوعہ پر ہی کیا جائے تاکہ شواہد ضائع نہ ہونے پائیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو اب تک تہرے قتل کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکی ہیں اور تفتیش کئی زاویوں کو نظر میں رکھتے ہوئے کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممکنات کے علاوہ جائیداد کا تنازع بھی تہرے قتل کا سبب ہوسکتا ہے تاہم ابھی تفتیش بالکل ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس وقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ پشاور میں انیس سو چھبیس میں پیدا ہونے والے امین اسماعیل گل جی عالمی سطح پر صرف گل جی کے نام سے معروف تھے۔ پولیس کے مطابق ہلاک شدگان کے بارے میں ان کے صاحبزادے کو سب سے پہلے علم ہوا۔ گل جی نے دنیا بھر میں مصوری و خطاطی کے حوالے سے شہرت حاصل کی تھی۔ انہیں تجریدی آرٹ اور خطاطی میں مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے کانسی پر مجسمہ سازی بھی کی اور کانسی پر خطاطی کے جوہر بھی دکھائے۔ ان کی پینٹگز چمکدار اور رنگوں سے بھرپور ہوتی تھیں جس میں ان کی حساسیت اور شدتِ جذبات کی جھلک نظر آتی تھی۔ ان کی خطاطی کے چند نمونے اسلام آباد میں فیصل مسجد میں آویزاں کیے گئے ہیں۔ گل جی کو عالمی اور قومی سطح پر کئی ایوارڈ دیئے گئے اور وہ اپنی کیلیگرافی اور پورٹریٹس کی وجہ سے مشہور تھے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گل جی مصوری کی طرف آنے سے قبل امریکہ میں انجینئرنگ کی تربیت حاصل کر رہے تھے۔ پورٹریٹ پینٹر سے ہوتے ہوتے گل جی تجریدی پینٹنگ کی طرف آ گئے اور اسلامی کیلیگرافی سے ان کی دلچسپی بڑھ گئی۔ صدر پرویز مشرف کی ویب سائٹ کے مطابق گل جی ان کی ’ہمہ وقت پسندیدہ شخصیت تھے‘۔ کراچی میں آرٹ کے نقاد ثاقب حنیف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا گل جی کا فن انتہائی اعلیٰ معیار کا تھا اور آرٹ کے لیے ان کا کام قابلِ ستائش ہے اور رہے گا۔ ’اگرچہ پاکستان میں آرٹ کے قدر دانوں کی تعداد کم ہے لیکن گل جی کا نام ضرور زندہ رہے گا کیونکہ وہ ایک سچے فنکار تھے۔‘ گل جی کے فن کے مختلف پہلوؤں میں سے ایک پر بات کرتے ہوئے ثاقب حنیف نے کہا کہ انہوں نے مغرب سے ایکشن پینٹنگ کو اختیار کیا اور اسے پاکستانی رنگ میں تبدیل کر کے پیش کیا۔ ’ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے کیلی گرافی کو مقبول بنا دیا۔‘
ایک سوال کے جواب میں ثاقب حنیف نے کہا کہ پینٹنگ کے ذریعے اظہارگل جی کی کیلیگرافی کا ایک اہم حصہ تھا۔’گل جی کی کیلی گرافی کا انداز صادقین یا شاکر علی کی کیلی گرافی سے بہت مختلف تھا۔ان کے سٹروک کی کارکردگی کسی میں نہیں آ سکی۔ صادقین کی کیلیگرافی ایکیڈیمک تھی جبکہ گل جی کیلیگرافی کی روایت میں رہ کر کام کرتے تھے۔‘ گل کی نجی زندگی پر بات کرتے ہوئے ثاقب حنیف نے کہا: ’ان کے ہاتھ میں ہر وقت کونیئک کا گلاس رہتا تھا۔ وہ سادہ دل تھے مگر ان میں ایک بچپنا بھی تھا۔ یہ بچپنا خام یا ناپختہ نہیں تھا بلکہ سادگی پر مبنی تھا۔انہیں اپنے کام کی بہتری کا دعویٰ بھی تھا، وہ اپنی تعریف پر رو بھی دیتے تھے۔ وہ سٹوڈیو میں یا اپنے گھر میں رہنا، باہر نکلنے سے زیادہ پسند کرتے تھے۔‘ |
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||