|
سندھ میں ریلوے حادثات کی تاریخ
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قیام پاکستان سے لیکر اب تک سندھ میں بڑے ٹرین حادثات میں سات سو بانوے افراد ہلاک اور کئی سو زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ حادثات ٹرینوں
کے تصادم اور ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے کے باعث پیش آئے ہیں۔
پاکستان کے قیام سے قبل اٹھارہ سو اکسٹھ میں خطے میں سب سے پہلی ریلوی لائین کراچی اور کوٹڑی کے درمیان بچھائی گئی۔ سب سے پہلا اور ریلوی حادثہ بھی اس ٹریک میں ہوا۔ انیس سو تریپن میں پیش آنے والے اس ریل حادثے کے نتیجے میں دو سو سے زائد ہلاک ہوگئے تھے۔
اسی حادثے کے اگلے سال یعنی انیس سو چون میں جہمپیر کے قریب جنگشاہی ریلوی اسٹیشن پر ایک اور ریل حادثے میں ساٹھ افراد لقمہ اجل انیس سو نوے میں سکھر سے دس کلومیٹر دور سانگی کے مقام پر دو ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئی اور نتیجے میں ساڑہ تین سو سے زائد افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ یہ حادثہ پاکستان ریلوے کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹرین حادثہ سمجھا جاتا ہے۔ سن دوہزار پانچ کو گھوٹکی کے مقام پر تین ٹرینوں کا تصادم ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک سو بتیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔ وسطی سندھ کے ضلع نوشہروفیروز میں پیش آنے والے حادثے میں پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ سستا اور بس کی نبستاً آرام دہ سفر ہونے کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ٹرین میں سفر کرتے ہے، محکمہ ریلوے کے مطابق سندھ میں روزانہ پیتنیس ہزار سے زائد افراد ٹرین میں سفر کرتے ہیں ، ان میں سے اسی فیصد کراچی سے سوار ہوتے ہیں۔ ریلوے انقلابی ورکرز یونین کے رہنما منظور رضی کا کہنا ہے کہ حادثات ٹریک میں نقص، سگنل یا کانٹے میں خرابی کے باعث پیش آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرینوں کی آمدرفت کے وقت کا بھی خیال نہیں رکھا نوشہرہ فیروز کے قریب پیش آنے والے حادثے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ٹریک میں نقص تھا یا کوچز میں فالٹ تھا جس کی وجہ سے تیز رفتارگاڑی ٹریک سے اترگئی۔ مگر ڈرائیور کا کہنا ہے کہ اس نے دورسے دیکھا ہے کہ فش پلیٹ نکلی ہوئی تھی اور پٹڑیوں کے درمیان گیپ تھا۔ جس کے باعث ڈبے پٹڑی سے اتر گئے۔ یاد رہے کہ گھوٹکی کے قریب پیش آنے والے حادثے کا ذمے دار ڈرائیور کو قرار دیا گیا تھا۔ |
|
|||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
|
||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||