BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 December, 2007, 09:47 GMT 14:47 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
سندھ میں ریلوے حادثات کی تاریخ
 

 
 
ریلوے حادثہ
محکمہ ریلوے کے مطابق سندھ میں روزانہ پیتنیس ہزار سے زائد افراد ٹرین میں سفر کرتے ہیں
قیام پاکستان سے لیکر اب تک سندھ میں بڑے ٹرین حادثات میں سات سو بانوے افراد ہلاک اور کئی سو زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ حادثات ٹرینوں کے تصادم اور ٹرینوں کے پٹڑی سے اترنے کے باعث پیش آئے ہیں۔

پاکستان کے قیام سے قبل اٹھارہ سو اکسٹھ میں خطے میں سب سے پہلی ریلوی لائین کراچی اور کوٹڑی کے درمیان بچھائی گئی۔

سب سے پہلا اور ریلوی حادثہ بھی اس ٹریک میں ہوا۔ انیس سو تریپن میں پیش آنے والے اس ریل حادثے کے نتیجے میں دو سو سے زائد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی حادثے کے اگلے سال یعنی انیس سو چون میں جہمپیر کے قریب جنگشاہی ریلوی اسٹیشن پر ایک اور ریل حادثے میں ساٹھ افراد لقمہ اجل
بن گئے۔

انیس سو نوے میں سکھر سے دس کلومیٹر دور سانگی کے مقام پر دو ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئی اور نتیجے میں ساڑہ تین سو سے زائد افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ یہ حادثہ پاکستان ریلوے کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹرین حادثہ سمجھا جاتا ہے۔

سن دوہزار پانچ کو گھوٹکی کے مقام پر تین ٹرینوں کا تصادم ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک سو بتیس سے زائد افراد ہلاک ہوگئے۔

وسطی سندھ کے ضلع نوشہروفیروز میں پیش آنے والے حادثے میں پچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سستا اور بس کی نبستاً آرام دہ سفر ہونے کی وجہ سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ٹرین میں سفر کرتے ہے، محکمہ ریلوے کے مطابق سندھ میں روزانہ پیتنیس ہزار سے زائد افراد ٹرین میں سفر کرتے ہیں ، ان میں سے اسی فیصد کراچی سے سوار ہوتے ہیں۔

ریلوے انقلابی ورکرز یونین کے رہنما منظور رضی کا کہنا ہے کہ حادثات ٹریک میں نقص، سگنل یا کانٹے میں خرابی کے باعث پیش آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرینوں کی آمدرفت کے وقت کا بھی خیال نہیں رکھا
جاتا ہے ان کے درمیان وقفہ ضروری ہے ۔

نوشہرہ فیروز کے قریب پیش آنے والے حادثے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ٹریک میں نقص تھا یا کوچز میں فالٹ تھا جس کی وجہ سے تیز رفتارگاڑی ٹریک سے اترگئی۔ مگر ڈرائیور کا کہنا ہے کہ اس نے دورسے دیکھا ہے کہ فش پلیٹ نکلی ہوئی تھی اور پٹڑیوں کے درمیان گیپ تھا۔ جس کے باعث ڈبے پٹڑی سے اتر گئے۔

یاد رہے کہ گھوٹکی کے قریب پیش آنے والے حادثے کا ذمے دار ڈرائیور کو قرار دیا گیا تھا۔

 
 
پاکستان کے ریل حادثے
پاکستان میں 3 برس میں 486 حادثے، 233 ہلاک
 
 
کوئی پرسانِ حال نہیں
ٹرین حادثے میں متاثرہ افراد کو سخت پریشانی
 
 
ٹکر کیسے ہوئی؟
گھوٹکی پر تین ٹرینیں آپس میں کیسے ٹکرا گئیں
 
 
ریلوے انجن ریلوے انجن اغوا
دہشت گردی کی کوشش یا پاگلپن؟
 
 
قلی صاحب قلی چاہیئے؟
’طاقت ختم ہوگئی، مجبوری کام کرا رہی ہے‘
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے   پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد