|
’وزرات چلی گئی مگر سکیورٹی نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیراعظم شوکت عزیز کی سربراہی میں لیگی حکومت میں شامل متعدد وزراء حکومت کی طرف سے فراہم کیے جانے والے سکیورٹی سکواڈ اپنے ساتھ اپنے حلقوں میں لےگئے ہیں جس کی وجہ سے اسلام آباد پولیس کو امن و امان اور وی آئی پی ڈیوٹی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسلام آباد پولیس کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ چار سو کے قریب پولیس اہلکاروں کو شوکت عزیز کی کابینہ میں شامل ساٹھ سے زائد وزراء اور وزرائے مملکت کی حفاظت کے لیے مامور کیا گیا تھا جن میں سے صرف تیس فیصد کے قریب پولیس اہلکار واپس اپنی ڈیوٹی پر آئے ہیں جبکہ ستر فیصد پولیس اہلکار ابھی تک ان سابق وزراء کے ساتھ ہیں۔ ایس ایس پی اسلام آباد سید کلیم امام نے بی بی سی کو بتایا کہ متعدد سابق وفاقی وزراء سے سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار واپس منگوائے جا رہے ہیں جبکہ متعدد سابق وفاقی وزراء سے پولیس اہلکار واپس لے لیے گئے ہیں۔ ادھر وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور ان کی کابینہ میں شامل دو وزراء سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور ماحولیات کے سابق وزیر مخدوم سید فیصل صالح حیات کو وہی سکیورٹی دینے کا فیصلہ کیا ہے جو وہ بطور وزیر استعمال کر رہے تھے۔ حکومت نے سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور ان کے اہلخانہ کے لیے بلٹ پروف گاڑی کے علاوہ دوسری گاڑیاں اور ان کی حفاظت پر مامور عملہ ان کے گھر واقع منسٹر انکلیو میں بھجوا دیا ہے جبکہ سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کو بھی بلٹ پروف گاڑی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بی بی سی کو حاصل ہونے والی ایک سرکاری دستاویز کے مطابق سابق وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ بلٹ پروف گاڑی کے علاوہ سکیورٹی کے اہلکاروں سمیت انسداد دہشت گردی کی دو گاڑیاں بھی ان کی سیکورٹی پر مامور ہوں گی۔ اس سرکاری دستاویز میں چاروں صوبوں کے ہوم سیکرٹریز اور آئی جی صاحبان سے کہا گیا ہے کہ سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اگر ان کے علاقوں کا دورہ کریں تو سکیورٹی کی تمام ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سابق وزیر داخلہ کے اسلام آباد اور پشاور میں واقع گھروں پر تعینات قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بدستور وہاں پر اپنے فرائض سرانجام دیں گے جبکہ ڈی ایس پی رینک کا ایک افسر کو ان سیکورٹی امور کا انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ جب سابق وزیر داخلہ عام انتخابات کے سلسلے میں عوامی ریلی سے خطاب کرنے کے لیے جائیں تو اس سے پہلے علاقے میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے علاوہ واک تھرو گیٹ بھی لگائے جائیں گے جہاں پر سپیشل برانچ کے اہلکار تعینات ہوں گے۔ سابق وزیر ماحولیات مخدوم فیصل صالح حیات نے بھی سابق وزیراعظم کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں اور ان کے خاندان کے افراد کو شدت پسندوں سے شدید خطرات لاحق ہیں، لہذا انہیں اور ان کے خاندان کے افراد کی حفاظت کے لیے سکیورٹی فراہم کی جائے۔ حکومت نے سابق وزیرِ داخلہ مخدوم فیصل صالح حیات کی حفاظت کے لیے پولیس اور انسداد دہشت گردی سکواڈ سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کو مامور کیا ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||