http://www.bbc.com/urdu/

Monday, 05 November, 2007, 08:33 GMT 13:33 PST

عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ

بلوچستان میں ہڑتال اور مظاہرے

ملک میں ایمر جنسی کے نفاذ کے خلاف آج بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے اور کوئٹہ میں وکلاء نےاحتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ رات گئے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر مذید وکلاء کوگرفتار کر لیا ہے ان میں انسانی حقوق کی تنظیم بلوچستان کے نائب چیئر پرسن ظہور شاہوانی ایڈووکیٹ کو ضلع کچہری کے سامنے ریلی کے بعد گرفتار کیا گیا ہے۔

بی بی سی کی خصوصی نشریات

اس کے علاوہ ایک نجی ٹی وی اے آر وائی کے رپورٹر اور کیمرہ مین کے علاوہ مشرق اخبار کے دو فوٹوگرافروں کو ہڑتال کی ریکارڈنگ اور فوٹوگرافی کرتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

صحافیوں کی رہائی کے لیے جب ان کے ساتھی تھانے گئے تو فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے دیگر کیمرہ مین سے بھی کیمرے چھین لیے اور صحافیوں سے کہا کہ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ سب کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

ادھر پشتونخواہ نینشل ڈیموکریٹک الائنس کی اپیل پر ملک میں ایمر جنسی کے نفاذ اور محمود خان اچکزئی سمیت دیگر قائدین اور وکلاء کی نظر بندی اور گرفتاریوں کے خلاف بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے۔

پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالرحیم زیارتوال کے مطابق موسٰی خیل ہرنائی اور کچلاک سے ان کے پانچ کارکنوں کوگرفتار کیا گیا ہے۔ کوئٹہ کے عالمی چوک سے ہوائی فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر سخی سلطان ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ آج پاکستان بھر کی طرح بلوچستان میں بھی وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔

کوئٹہ میں وکیلوں نے ضلع کچہری کےگیٹ پراحتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ضلع کچہری کو چاروں طرف سے گھیرے میں لے رکھا تھا۔

وکلاء نے ریلی گیارہ بجے نکالنی تھی لیکن پولیس کےگھیراؤ کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی اور آخر کار پولیس نے وکلاء کو گیٹ تک ریلی نکالنے اوراحتجاجی مظاہرہ کرنے کی اجازت دی ہے۔ وکلاء نے اس موقع پر حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی ہے۔