Sunday, 21 October, 2007, 11:48 GMT 16:48 PST
عباس نقوی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سابق وزیراعظم غیر متوقع دورے پر جناح ہسپتال پہنچی تھیں، بعد ازاں انہوں نے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے لیاری کے رہائشی اور پیپلز پارٹی کے ایک کارکن کے گھر جاکر تعزیت بھی کی۔
آٹھ سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعد بینظیر بھٹو کا کراچی شہر کا یہ پہلا مختصر دورہ تھا جس میں اُنہوں نے کھارا در کے علاقے میں واقع دولہے شاہ مزار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔
پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے ان دوروں کو انتہائی خفیہ رکھا گیا
تھا اور ان کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔
پروگرام کے مطابق اتوار کو پیپلزپارٹی کی رہنماء ناہید خان اور پی پی پی پنجاب کے صدر شاہ محمود قریشی کو جناح ہسپتال کا دورہ کرنا تھا جس کے لیے پیپلزپارٹی کے مقامی رہنماؤں نے انتظامات کیے تھے تاہم بینظیر بھٹو کے اچانک جناح ہسپتال پہنچنے پر ہسپتال کا عملہ اور مریض حیران رہ گئے۔
بینظیر نے فرداً فرداً مریضوں سے ملاقات کی اور اُنہیں صحت یابی کے بعد بلاول ہاؤس آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے ہسپتال کی انتظامیہ کو زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔
![]() |
اس موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بینظیر بھٹو نے کہا کہ ’انتہاپسند اسلام کی خدمت نہیں کر رہے ہیں اور انشاءاللہ ہم عوامی راج لے آئیں گے‘۔
انہوں نے اٹھارہ اکتوبر کے حملے کے متعلق کہا کہ ’اُس روز پولیس اور عوامی سکیورٹی سو فیصد تھی مگر شاہراہ فیصل کی بجلی بند ہونے کی بناء پر حملہ کامیاب ہوا۔‘ انہوں نے ملکی قوانین کے تحت حملے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔
پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ حملہ ہر اُس سیاسی قوت پر تھا جو عوام تک پہنچنا چاہتی ہے‘۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیاسی لیڈروں بالخصوص حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو سکیورٹی فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’موت اور زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پیپلز پارٹی کا مشن جاری رہے گا‘۔