http://www.bbc.com/urdu/

Tuesday, 02 October, 2007, 09:28 GMT 14:28 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

مشرف کی جگہ اشفاق پرویز کیانی

پاکستان کے صدر اور فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق کیانی کو ترقی دے کر فوج کا نیا سربراہ نامزد کر دیا ہے۔

جنرل پرویز مشرف نے لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نامزد کردیا ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی اور بتایا کہ ابھی صدر جنرل پرویز مشرف نے آرمی چیف کا عہدہ نہیں چھوڑا۔

نئے آرمی چیف نامزد، آپ کا ردعمل؟
کور کمانڈر آئی ایس آئی اور اب سربراہ
صدارتی انتخاب سے پہلے اہم تبدیلیاں
’دوبارہ صدر منتخب ہوا تو وردی اتار دوں گا‘

’جب صدر جنرل پرویز مشرف آرمی چیف کا عہدہ چھوڑیں گے اس روز جنرل اشفاق پرویز نئے آرمی چیف بن جائیں گے۔‘

فوج کے تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق جرل اشفاق پرویز کیانی آٹھ اکتوبر سے وائس چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے کام شروع کر دیں گے اور صدر جنرل پرویز مشرف کے عہدے چھوڑنے پر فوج کے سربراہ بن جائیں گے۔

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید اور لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو فور سٹار جنرل کے عہدوں پر ترقی دے دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ جنرل طارق مجید راولپنڈی کور کے کمانڈر تھے جن کی جگہ محسن کمال کو میجر جنرل سے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پہلے ہی راولپنڈی کا نیا کو کمانڈر تعینات کیا جاچکا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل طارق مجید کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نامزد کیا گیا ہے

جبکہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی جگہ میجر جنرل ندیم تاج کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر آئی ایس آئی کا سربراہ بنانے کا عالان بھی ہوچکا ہے۔

سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ جب سپریم کورٹ نے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف رہتے ہوئے صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت دے چکی ہے تو ایسے میں ان کی جانب سے نئے آرمی چیف کی نامزدگی سے بظاہر لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی سے صدر مشرف کی ڈیل ہوچکی ہے۔