|
حکومت رہائی میں سنجیدہ نہیں: طالبان ترجمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیت اللہ محسود کا گروپ ان تقریبا تین سو فوجیوں کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ ان کی ترجمانی آج کل ان کے جوان کمانڈر ذوالفقار محسود کر رہے ہیں۔ وہ افغانستان میں بھی امریکیوں کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ تاہم ان کی گزشتہ دنوں افغانستان سے واپسی کی افواہیں بھی گردش میں تھیں جو بعد میں غلط ثابت ہوئیں۔ جنوبی وزیرستان کے دورے کے دوران ان سے بھی تفصیلی بات ہوئی۔ یہ اس انٹرویو کی تفصیل ہے۔ سوال: ذوالفقار صاحب یہ بتائیں یہ جو یرغمالیوں کا مسئلہ ہے ایک ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے۔ آپ کے خیال میں اتنا سنجیدہ مسئلہ کیوں حل نہیں ہو رہا، کیا آپ لوگ سنجیدہ نہیں ہیں؟ جواب: ہم اس مسئلے میں سنجیدہ ہیں، ہم بنیادی طور پر حکومت سے ٹکراؤ کی پالیسی پر یقین نہیں رکھتے۔ اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کے سلسلے میں ہم نے اپنی طرف سے سنجیدہ اقدام اُٹھائے ہیں۔ مثلاً ایک کرنل سمیت اُنیس افراد کو رہا کیاہے، اور تین سو گرفتار اہلکاروں میں سے مذاکرات کے دوران اکتیس کو رہا کیا گیا، تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس مسئلے میں سنجیدہ ہیں۔ س: یہ بتائیں آپ نے حکومت سے جن تیس افراد کی رہائی مطالبہ کیا ہے، اُس میں کتنی پیش رفت ہوئی ہے۔ ج: ہم نے اپنے افراد کی رہائی کے سلسلے میں مطالبہ کیا ہے اور مذاکراتی کمیٹی پر اپنا موقف واضح کر چُکے ہیں، لیکن ابھی تک اُن سے کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ لہذا اُن کے جواب کا انتظار ہے۔ س: آپ کب تک توقع کر رہے ہیں، کہ وہ جواب آ جائے گا؟ ج: جب جرگہ واپس آ جائے تو اُمید کی جاتی ہے کہ جواب جلد آ جائے گا، انشاء اللہ س: جرگہ کب تک واپس آئے گا؟ ج: جرگے کا وقت مقرر تو نہیں ہے اس کے بارے میں جرگے سے معلوم ہو سکتا ہے۔ س: آپ یہ بتائیں اب تک حکومت کا جو ردعمل سامنے آیا ہے، کافی سرد مہری کے ساتھ اس مسئلے کو اُس نے دیکھا ہے۔ تو آپ کیا سمجھتے ہیں حکومت ان یرغمالیوں کی رہائی میں سنجیدہ نہیں ہے؟ ج: اس سوال کا صحیح جواب تو حکومت ہی دے سکتی ہے، لیکن میری ذاتی رائے میں حکومتی غیر سنجیدگی کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ نمبر ایک حالیہ سیاسی حالات اور صدارتی انتخابات جو کہ حکومت اور سیاسی پارٹیوں کے مابین غیر متوازن رسہ کشی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اگر گرفتار شدہ افراد میں کسی جرنل ، وزیر وغیرہ کا بیٹا یا رشتہ دار ہوتا تو مفاہمت کے ابھی تک سنجیدہ کوشش ضرور ہو چُکی ہوتی۔ س: اتنی بڑی تعداد میں آپ نے یرغمالی رکھے ہوئے ہیں ان کے کھانے پینے کا انتظام اور باقی خرچہ کس طرح برداشت کررہے ہیں؟ ج: یقینا یہ مسئلہ مشکل ہے لیکن موجودہ گرانفروشی کے دور میں معاشیات کے طالبعلم کے لئے یہ ایک بڑا سنگین مسئلہ ہے۔ کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی کفالت بہت بڑی بات ہے لیکن جہادی نقطہ نظر سے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ہم ذہنی طور پر مالی اور جانی قربانی کے لئے تیار ہی رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ مہمان نوازی کی روایات کو ہم ہرحال میں برقرار رکھیں گے۔ہم خود بھوکے رہیں گے ان کو کھلائیں گے۔ س: یہ بتائیں کہ اس سارے مسئلے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ ج: ویسے حکومت اور ہمارے مابین تنازعہ کا کوئی خاص مسئلہ نہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ علاقہ درہ محسود کا ایریا قوم اور اپنی تاریخ کا حامل ہے اور اسی طرح کہ ہمارے آباؤ اجداد کا بھی انگریز دور میں برطانیہ حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا تھا کہ درہ محسود کے ایریا میں برطانوی فوج کی تعیناتی کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ اس کے بعدقائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ بھی یہ عہد و پیمان ہوا تھا اور محسود ایریا میں ملائشیا فورسز کی تعیناتی کو معمول کے مطابق رکھنے کا پابند رکھا گیا تھا۔ آخر میں بمقام سراروغہ ایک خونریز جھڑپ کے بعدایک معاہدہ طے پا گیا جس میں واضح طور پر یہ کہہ دیا گیا کہ محسود ایریا میں فوج نہیں بلکہ قلعے کے اندر معمول کے مطابق ملائشیا کو رکھا جائے گا۔اور فوج کی تعیناتی نہیں ہوگی لیکن بدقسمتی سے حکومت فوج کو ہمارے علاقے میں لے آئی اور غیر ذمہ دارانہ طور پر آپریشن شروع کیا جو کہ ہمارے رواج اور روایات کے بالکل خلاف ہے اور یہی فوج کی موجودگی تنازعہ کا باعث بنی ہے۔ س: یہ بتائیں کہ گزشتہ دنوں صدر جنرل پرویز مشرف کا دوبارہ انتخاب ہوا ہے اور اس کے بعد انہوں نے جو تقریر کی اس میں اُنہوں نے سیاسی جماعتوں، وکلاء اور صحافیوں سے مفاہمت کی اپیل کی ہے ۔ لیکن انہوں نے قبائلی علاقوں اور یر غمالیوں کا بالکل ذکر نہیں کیا۔ کیا آپ کے خیال میں قبائلی علاقوں میں یہ جو مسئلہ چل رہا ہے اس کا حل حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے؟ ج: اس سوال کا جواب تو ہم ایک شعر میں دیں گے۔ بقول اقبال ہزاروں لائق لوگوں کے مرنے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتناکہ ایک نالائق صاحب اختیار ہوجانے سے۔ چونکہ قبائلی معاملات میں بے چارے نالائق اور بے اختیار ہے۔ قبائلی معاملات کے لئے مشرف امریکہ سے ڈکٹیشن لیتا ہے اس لئے وہ قومی مفاہمت کی اپیل میں قبائل کے بارہ میں ذکر و تذکیر سے عاری ہے۔ س: یہ بتائیں کہ آخر اس مسئلے کا مستقل حل کیا ہوسکتا ہے؟ ج: مستقل حل قبائل سے متعلق حکومت اپنی درآمد شدہ پالیسی پر نظر ثانی کرے اور قبائل کے ساتھ اپنے تنازعات کو قبائلی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے جرگہ سسٹم کے ذریعے مستقل اور پائیدار حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ | اسی بارے میں فوج ہمیں بھلا نہیں سکتی: یرغمال فوجی11 October, 2007 | پاکستان فوجیوں کی بازیابی میں ناکامی03 September, 2007 | پاکستان فوجیوں کی تلاش بے سود03 September, 2007 | پاکستان ’قبائلی علاقوں میں فوجی اڈے نہیں‘19 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||