|
موہن جوداڑو،حروف کو پڑھنےکی کوشش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کےصوبہ سندھ میں موجود موہن جوداڑو کے آثار قدیمہ سے ملنے والے حروف اور قدیمی مہروں کو پڑھنا عالمی ماہرین کے لیے ہمیشہ ایک چیلینج رہا ہے۔ موہن جوداڑو کے آثاروں سے ملنے والی زبان کون سی ہے اور ان مہروں پر کیا لکھا ہے یہ ایسے سوالات ہیں جن کے مکمل جوابات آثار قدیمہ کے ماہرین ابھی تک تلاش کر رہے ہیں۔ قدیم زبان کو سمجھنے کی ایک نئی کاوش سندہ کے بزرگ ادیب اور مححق عطا محمد بھمبھرو نے کی ہے۔ان کی بیس سالہ لسانیات کی تحقیق کی کتاب ’سندھو لکھت کا توڑ‘ کے نام سے سندھی زبان میں شائع ہوچکی ہے۔ اٹھہتر سالہ محقق عطامحمد بھمبرو قریبا ایک سو پچاس کے قریب کتابوں کے مرتب، محقق، مترجم اور لکھاری ہیں۔ان کی تازہ کتاب دو سو پچاس صفحات پر مبنی ہے۔ کتاب کویتا پبلیکشن حیدرآباد کی جانب سے شائع کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھی زبان میں انڈس سکرپٹ کی کتاب چھپوانے کے لیے پبلشر صفحات کی تعداد کم رکھنے کی گزارش کرتے ہیں، اس لیے انہوں نے موہن جوداڑو کے انڈس سکرپٹ کو پڑھنے کی ایک اور کتاب انگریزی میں لکھی ہے جو دو ہزار صفحات پر مبنی ہے اور وہ اسے جلد چھپوانا چاہتے ہیں۔ محقق بھمبھرو نے موہن جوداڑو کے آثار قدیمہ سے ملنے والی تین ہزار دو سو حروف اور مہروں کے نشانات میں سے دو ہزار سکرپٹ کے نشانات کو پڑھنےکا دعویٰ کیا ہے۔ سندھی زبان میں ان کی اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے جس کی تقریب رونمائی عیدالفطر کےبعد حیدرآباد میں منعقد کی جائے گی۔
عام طور پر کرنل ایل ای واڈیل کو انڈس سکرپٹ پڑھنے والا پہلا ماہر سمجھا جاتا ہے جو انیس سو پچیس میں لندن یونیورسٹی میں لسانیات کے استاد تھے اور انہوں نے موہن جوداڑو کی انیس قدیمی مہروں کو بنیاد بنا کر تحقیقی مضمون لکھا مگر عطامحمد بھمبرو کی نظر میں بنگلور کے ایس آر راؤ انڈس سکرپٹ سمجھنے والے پہلے محقق ہیں۔ عطا محمد بھمبھرو کا کہنا ہے ک ایس آر راؤ کی کتاب ’ دی ڈان اینڈ ڈیوولیشن آف انڈس سولائیزیشن‘ نے ان کی تحقیق پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے فاصلوں کے باوجود ایس آر راؤ کو ان کی غیرحاضری میں ہی اپنی طرف سے اپنا گائیڈ مقرر کیا ہے۔ بھمبرو کے مطابق بنگلور کے راؤ پہلے محقق ہیں جنہوں نے نشاندہی کی ہے کہ موہن جوداڑو کی قدیم زبان اور موجودہ سندھی زبان کے درمیان ایک تعلق اور تسلسل موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ’میں نے راؤ کی تحقیق کو آگے بڑھایا ہے اور آپ میرے کام کو راؤ کی تحقیق کا ضمیمہ بھی کہ سکتے ہیں۔‘ موہن جوداڑو کے آثار قدیمہ سے ملنے والے حروف اور مہریں لکڑی اور پتھر کے چھوٹے تراشے ہوئے ٹکڑوں پر درج ہیں جن کے اوپر اور نیچے کے دونوں حصوں پر صوتی یا صورتی حروف تحریر ہیں۔ موہن جوداڑو کی انڈس سکرپٹ کو مختلف ادوار میں پچیس کے قریب مختلف عالمی اور ملکی ماہرین نے پڑھنے کی کوششیں کی ہیں مگر مکمل انڈس سکرپٹ پڑھنا ان کے لیے مشکل کام رہا ہے۔
عطا محمد بھمبھرو کا کہنا ہے کہ سمیر اور مصر کے قدیم آثاروں سے ملنے والی سکرپٹ بڑی مقدار میں دریافت ہوئیں اور ان کی تحریریں لمبی ہونے کی وجہ سے محققین کو پڑھنےمیں آسانی ہوئی۔ جبکہ بھمبرو کےمطابق موہن جوداڑو سے ملنے والا سکرپٹ کم تعداد اور محدود تحریروں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے محققین کے لیے اسے پڑھنا کافی دشوار گزار کام رہا ہے۔ انڈس سکرپٹ کے بارے میں بعض محققین کا خیال ہے کہ وہ صورتی یعنی پِکٹوگرافک ہیں جبکہ محققین کےدوسرے حلقے کا خیال ہے کہ انڈس سکرپٹ تصوری یعنی آئڈیوگرافک اور چند ایک کی نظر میں صوتی یعنی فونیٹیکل سکرپٹ ہےمگر بھمبھرو کی نظر میں زیادہ تر سکرپٹ تصوری اور تصویری کا امتزاج ہے۔ انڈس سکرپٹ کے بارے میں بھمبرو کی نئی کتاب کوقلمکاروں کے حلقوں میں سراہا گیا ہے۔ یونیورسٹی آف سندھ میں انگریزی شعبے کے سابق پروفیسر قلندر شاہ لکیاری کے مطابق انڈس سکرپٹ کو پرکھنے کا کام منفرد نوعیت کا ہے اور عطامحمد کے اس کام کو عالمی پذیرائی ان کی انگریزی کتاب کے بعد ہی مل سکے گی۔ مگر انہوں نے کہا کہ سندھی زبان میں قدیمی سکرپٹ پڑھنے کی مکمل کتاب پہلی مرتبہ شائع ہوئی ہے جو آئندہ دنوں کے محققین کے لیے سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||