Friday, 21 September, 2007, 03:05 GMT 08:05 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچ نیشنل موومنٹ کے سربراہ غلام محمد بلوچ سمیت دو دیگر بلوچ رہنما اچانک منظر عام پر آگئے ہیں۔
سبی سے پولیس انسپکٹر علی اکبر مگسی نے بتایا ہے کہ بی این ایم کے سربراہ غلام محمد بلوچ اور جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شیر محمد بلوچ کو سبی کے قریب ایک ویگن سے گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کے خلاف مقدمات ہیں جن کے تحت گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں رہنماؤں کو سبی کے قریب چھوڑ دیا گیا تھا جہاں پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔
غلام محمد بلوچ اور شیر محمد بلوچ کو دسمبر دو ہزار چھ میں کراچی سے اٹھایا گیا تھا اور اس کے بعد غلام محمد کے رشتہ داروں نے اخباری کانفرنسوں میں کہا تھا کہ انہیں خفیہ ایجنسی کے اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے اصغر مری بھی کوئٹہ میں منظر عام پر آ گئے ہیں لیکن تاحال وہ اپنے گھر نہیں پہنچے۔ مری قبیلے سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بتایا ہے کہ اصغر مری انتہائی کمزور اور بیمار بتائے گئے ہیں۔ اصغر مری جنوری دو ہزار چھ میں ملتان میں فوجی آپریشن کے خلاف اخباری کانفرنس سے خطاب کرکے واپس کوہلو جا رہے تھے کہ اچانک ڈیرہ غازی خان سے انہیں اٹھا لیا گیا تھا۔
یاد رہے اس ماہ کی دس تاریخ کو بلوچستان ہائی کورٹ نے بلوچ ٹی وی کے ایم ڈی منیر مینگل کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن بقول انسپکٹر جنرل پولیس طارق کھوسہ کے منیر مینگل سے مزید تفتیش کی ضرورت تھی اس لیے منیر کو دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے۔
بلوچستان سے قوم پرست جماعتوں کے قائدین اور بلوچ خواتین پینل کے مطابق ہزاروں افراد غیر قانونی حراست میں ہیں۔ بلوچ خواتین پینل نے گزشتہ ماہ کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کی رہائی کے لیے بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا تھا اور احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔