Thursday, 13 September, 2007, 20:39 GMT 01:39 PST
عبادالحق
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور میں جمعرات کو وکلاء نے ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے وکلاء برادری کے بارے میں ریمارکس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کے پتلے کو نذر آتش کیا۔
لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے وکلاء کے بارے میں ریمارکس پر ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔
اجلاس میں الطاف حسین کے بیان، سندھ ہائی کورٹ کے گھیراؤ اور کراچی کے وکیل راجہ ریاض کی قتل کی شدید مذمت کی گئی۔
اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف اور الطاف حسین کے خلاف راجہ ریاض ایڈووکیٹ کے قتل کے الزام میں مقدمے درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اجلاس میں اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ الطاف حسین کو فوری طور پر پاکستان کے حوالے کیا جائے جہاں ان کے خلاف مقدمے پر کارروائی عمل میں لائی جائے۔
لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر سید محمد شاہ نے حکمرانوں سے ملاقات کرنے والے وکلاء کی بار میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ لاہور بار کے صدر نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکیٹو کمیٹی کے بعض ارکان کی طرف سے سپریم کورٹ بار کے صدر منیر اے ملک کے خلاف بیانات دینے کی شدید مذمت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کے بعض ارکان حکومتی عہدوں کے خاطر سپریم کورٹ بار کے صدر کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔
سید محمد شاہ نے منیر اے ملک کے خلاف بیان بازی کرنے والے لاہور سپریم کورٹ بار کی ایگزیکیٹو کمیٹی کے اراکین کی رکنیت منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔
اجلاس کے بعد لاہور بار کے وکلاء نے راجہ ریاض ایڈووکیٹ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی ہے اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر میاں عصمت اللہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
لاہور بار ایسوسی ایشن کے اراکین نے الطاف حسین کے پتلے کو آگ لگادی جس کے بعد وکلا پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔