|
بینظیر کی واپسی اٹھارہ اکتوبر کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن اور سابق وزیرِ اعظم بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ وہ خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپس جائیں گی۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان میں عوام ان کے ساتھ چلیں گے کیونکہ وہ ملک میں جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ صدر مشرف ایک ہی وقت میں فوج کے سربراہ اور ملک کے صدر نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں فوجی آمریت ہے، جس کے سربراہ موجودہ چیف آف سٹاف ہیں۔
پاکستانی حکام نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ بینظیر کی واپسی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے تاہم انہیں عدالتوں میں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو جب ملک چھوڑ کر گئی تھیں تو اپنی مرضی سے گئی تھیں اور ان پر واپس آنے کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ وہ جب چاہتی واپس آ سکتی تھیں۔ ’ہماری طرف سے ان پر کوئی پابندی یا رکاوٹ نہیں لگائی جائے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ ان پر جو بھی مقدمات ہوں گے انہیں ملک کے قانون کے مطابق ان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم بینظیر بھٹو نے کہا کہ مقدمات جیسی دھمکیاں ان کے لیے نئی بات نہیں ہیں۔ ’میں ان جھوٹے مقدمات سے پریشان نہیں ہوں۔‘ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ جنرل مشرف کے ساتھ طاقت میں شراکت کے مذاکرات اب رک گئے ہیں ’کیونکہ صدر مشرف کے گرد جو لوگ موجود ہیں وہ ہم دونوں کے درمیان کسی بھی قسم کی مفاہمت نہیں چاہتے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اب گیند صدر مشرف کے کورٹ میں ہے۔ اگر وہ منصفانہ، آزاد اور غیر جانبدارانہ انتخابات کا انعقاد چاہتے ہیں تو میرے خیال میں انہیں حزبِ اختلاف سے سمجھوتا کرنا پڑے گا۔‘ بھٹو کی واپسی بی بی سی کے نامہ نگار ہارون رشید کے مطابق اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب صدر مخدوم امین فہیم، سیکریٹری اطلاعات شیری رحمان اور پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی طرف سے آتش بازی کا مظاہرہ بھی کیا اور ’بینظیر زندہ باد‘ اور ’وزیرِ اعظم بینظیر‘ کے نعرے لگائے لگے۔
اس اعلان کے سلسلے میں جمعہ کو ملک کے وفاقی اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں سمیت مختلف شہروں میں بیک وقت پریس کانفرنسیں کی گئیں۔ لندن میں پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکِٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد یکم ستمبر کو بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ وہ چودہ ستمبر کو اپنی وطن واپسی کی حتمی تاریخ کا اعلان کریں گی۔ پی پی پی کے اعلان کے مطابق وہ کراچی کے انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر اتریں گی۔ اپنی وطن واپسی کے فوراً بعد وہ مزارِ قائد پر حاضری دیں گی۔ مخدوم امین فہیم نے پیپلز پارٹی کے حمایتیوں اور کارکنان کو کہا ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کے استقبال کی تیاری کریں اور انہیں کراچی ائرپورٹ پر لینے کے لیے جائیں۔ بینظیر نے دو روز قبل دبئی میں ایک پارٹی میٹنگ میں اپنی واپسی کے بارے میں صلاح و مشورہ کیا تھا۔ پارٹی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے قائدین نے پاکستان لوٹتے ہی بینظیر کے استقبال کی تیاریوں کا آغاز کر دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا حالیہ ناکام استقبال بھی بینظیر کے حامیوں کے پیش نظر ہوگا اور وہ ایسی کسی صورتحال سے بچنےکی کوشش کریں گے۔ پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں کامیابی کے لیے استقبال کے شو کی کامیابی ازحد ضروری ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بینظیر کی واپسی کے شہر کا انتخاب بھی ان کے استقبال کے سلسلے میں اہم ہے۔ بینظیر بھٹو کے سن انیس سو چھیاسی میں ہونے والے استقبال کو پاکستان کی حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی اجتماع قرار دیا جاتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بینظیر کا استقبال نواز شریف کے استقبال سے مختلف ہوگا کیونکہ ایک تو پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو سیاسی جد و جہد اور سڑکوں کی سیاست کا گہرا تجربہ ہے اور دوسری بات حکومت سے مفاہمت کی افواہوں نے کارکنوں کو تقویت دی ہے۔ ابھی حکومتی حلقوں کی جانب سے ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں کہ بینظیر سے واپسی کی صورت میں کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔ انیس سو چھیانوے میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بینظیر خودساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ پاکستان میں عدالتوں نے ان کی غیر موجودگی میں انہیں قید کی سزا سنا رکھی ہے جبکہ بعض دوسرے ممالک میں بھی ان کے خلاف کرپشن کے ریفرنس زیر سماعت ہیں۔ بی بی سی کے لاہور میں نامہ نگار عباد الحق لکھتے ہیں کہ جمعہ کو پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے اٹھارہ اکتوبر کو وطن واپسی کے اعلان پر زبردست جشن منایا۔ لاہور میں بے نظیر بھٹو کی واپسی کا اعلان پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے لاہور پریس کانفرنس میں کیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں اپنے علاقے میں جمع ہوگئے اور بے نظیر بھٹو کی واپسی کے اعلان پر خوشی کا اظہار کیا۔ بے نظیر بھٹو کی واپسی کے اعلان کے پیش نظر پیپلز پارٹی کے کارکنوں مقررہ وقت قبل ہی لاہور پریس کلب کےباہر اکھٹا ہونا شروع ہوگئے تھے۔کارکنوں نے بے نظیر بھٹو کی تصاویر اٹھا رکھیں تھیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک کارکن اکرم بھٹی نے کہا کہ پارٹی کارکن متحرمہ کا اس طرح کا استقبال کریں گے کہ لوگ چھیاسی کے اسقتبال کو بھول جائیں گے۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر مخدوم شاہ محمود قریشی نے اخبارنویسوں سے بات چیت میں کہا کہ اٹھارہ اکتوبر کو پیپلز پارٹی پنجاب کے کارکن کراچی میں بے نظیر بھٹو کا بے مثال استقبال کریں گے اور چھوٹے صوبوں کے ساتھ یک جہتی کا پیغام دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بے نظیر بھٹو کی واپسی کے موقع پر پابندیاں لگائی گئیں تو پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو پابندیاں توڑنا آتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم کو سیاسی سوچ کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
|
اسی بارے میں بینظیر: واپسی کا اعلان جمعہ کو13 September, 2007 | پاکستان بینظیر درخواست: دو وزراء کو نوٹس05 September, 2007 | پاکستان بینظیر سے رابطے، وزراء کے تحفظات05 September, 2007 | پاکستان ’بینظیر کے لیے دروازے کھلے ہیں‘02 September, 2007 | پاکستان سمجھوتہ ابھی نہیں ہوسکا: بینظیر31 August, 2007 | پاکستان وردی اتارنے پر رضامند: بینظیر29 August, 2007 | پاکستان مشرف کے ہاتھ سے وقت نکل رہا ہے: بینظیر16 August, 2007 | پاکستان بلوچستان سرکشی کا حل: بینظیر بھٹو 12 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||