|
سیلاب زدگان کے لیے پونے دس کروڑ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور سندھ کے سیلاب زدگان کے لیے بعض سرکاری اور نجی پیٹرولیم کمپنیوں سمیت سعودی عرب نے تقریبا پونے دس کروڑ روپے امداد فراہم کردی ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم امان اللہ خان جدوں اور سعودی عرب کے سفیر علی ایس اودھ اسیری نے جمعرات کو وزیراعظم شوکت عزیز سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور چیک پیش کیے۔ وزیرِ پیٹرولیم نے وزیراعظم کو آٹھ کروڑ ایک لاکھ روپوں کا چیک پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس میں پانچ کروڑ روپے او جی ڈی سی ایل نے امداد دی ہے۔ ان کے مطابق سیلاب زدگاں کے لیے امداد دینے والی دیگر کمپنیوں میں سوئی سدرن، سوئی ناردرن، پارکو، پی پی ایل، بوزیکار، پی ایس او اور شیل پاکستان شامل ہیں۔ اسلام آباد میں تعینات سعودی عرب کے سفیر نے بھی وزیراعظم کو ملاقات میں دس لاکھ ریال کا چیک پیش کیا۔ انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ دس لاکھ ریال کا یہ چیک تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز نے بلوچستان کے سیلاب زدگاں کے لیے بھیجا ہے۔ انہوں نے تبوک کے گورنر کی جانب سے بلوچستان کے شہر دالبندین میں طبی سہولیات فراہم کرنے اور صوبہ سرحد کے زلزلہ زدہ ضلع مانسہرہ میں ہسپتال کی تعمیر پر بھی ان کی خدمات کو سراہا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب میں دس لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں جبکہ ہر سال چھ لاکھ پاکستانی حج کے لیے جاتے ہیں۔ دو ماہ قبل صوبہ سندھ کے بالائی اور صوبہ بلوچستان کے مغربی اضلاع میں سیلاب سے تقریبا تین لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے اور بیشتر کے مکانات منہدم ہوگئے تھے۔ متاثرین کہتے ہیں کہ حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں نے ابتدا میں ان کی تھوڑی بہت مدد کی لیکن اب ان کی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بلوچستان کے شہر گوادر سے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی تک نئی بنائی گئی سڑک ’ کوسٹل ہائی وے‘ کئی جگہوں سے سیلاب میں بہہ گئی تھی۔ بلوچستان میں سیلاب کی زیادہ تر تباہی متاثرین کے مطابق حال ہی میں تعمیر کردہ میرانی ڈیم کی ناقص ڈیزائن سے ہوئی۔ | اسی بارے میں امداد میں مشکل، مزید ہلاکتوں کا خدشہ29 June, 2007 | پاکستان خضدار: 150 لاپتہ، 15 لاشیں برآمد30 June, 2007 | پاکستان سیلاب کے متاثرین، امداد کے منتظر07 July, 2007 | پاکستان بلوچستان میں ڈیڑھ لاکھ افراد بےگھر07 July, 2007 | پاکستان تربت: وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ21 July, 2007 | پاکستان سیلاب زدگان بجلی کے بلوں سے پریشان01 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||