BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 September, 2007, 14:36 GMT 19:36 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
بدین: صحافی تیرہ دنوں سے یرغمال
 

 
 
مغوی صحافی
بدین کے علاقے میں اغوا برائے تاوان کی یہ واردات کوئی بارہ سال بعد ہوئی ہے
پاکستان کے صوبہ سندھ کے جنوبی ضلع بدین کی تحصیل تلہار کے دو صحافیوں کو ڈاکوؤں نے تیرہ دنوں سے یرغمال بنایا ہوا ہے۔ تلہار پریس کلب کےصدر چالیس سالہ حاجی خان لاشاری اور نائب صدر پیتیس سالہ امر سنگھ راٹھوڑ کو ڈاکؤں کے ایک گروہ نے حیدرآباد بدین سڑک پر رات کو سفر کے دوران اغوا کر لیا تھا۔

بدین ضلع کے صحافیوں نے اپنے ساتھی صحافیوں کی بازیابی کے لیے ایک بارہ رکنی ایکشن کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ایکشن کمیٹی کے ایک رکن صحافی ہارون گوپانگ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے حاجی لاشاری اور امر راٹھوڑ کی بازیابی کے لیے سندھ کے وزیراعلی ارباب غلام رحیم سے بات کی ہے جنہوں نے یقین دلوایا ہے کہ دونوں مغوی صحافیوں کو تاوان کے بغیر بازیاب کروایا جائے گا۔

دریں اثناء ایوان صحافت بدین کی جانب سے جمعرات کے دن ضلع کے تمام پریس کلبوں کے باہر صحافیوں نے علامتی بھوک ہڑتال کی اور احتجاجح مظاہرے کیے گئے۔

سندھ کے جنوبی علاقے عمومی طور پرامن مانے جاتے ہیں جہاں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں کم ہوتی ہیں۔ بدین کے علاقے میں اغوا برائے تاوان کی یہ واردات کوئی بارہ سال بعد ہوئی ہے۔ بارہ سال قبل خواجہ برادری کے ایک کاروباری نوجوان کو اغوا کیا گیا تھا۔

مغوی صحافی حاجی لاشاری کے چھوٹے بھائی اسماعیل لاشاری نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈاکوؤں نے ان کے بھائی کی بازیابی کے لیے پچاس لاکھ روپے بطور تاوان مانگے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حاجی لاشاری کے دوسرے بھائی میر علی اور ایک پرائمری استاد علی غلام کنبھار کو بھی ڈاکؤں نے اغوا کرلیا تھا مگر چار دنوں کے بعد دونوں کو تاوان کا پیغام دیکر چھوڑ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے حالات ایسے نہیں ہیں کہ وہ تاوان کی رقم ادا کر سکیں۔
صحافیوں نے اپنے ساتھی صحافیوں کی بازیابی کے لیے ایک بارہ رکنی ایکشن کمیٹی تشکیل دی ہے

ٹنڈو محمد خان کے ضلعی پولیس سربراہ عطاء اللہ چانڈیو نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں مغوی صحافیوں کی بازیابی کے لیے چار پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ڈاکوؤں کے گروہ کا کوئی سراغ نہیں ملا مگر صحافیوں کے اغوا کیس میں دس بارہ مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جن سے تفیش کی جارہی ہے۔

ڈسٹرکٹ پولیس افسر عطا چانڈیو کا مزید کہنا تھا کہ وہ ذاتی اثر رسوخ بھی استعمال کر رہے ہیں اور پرامید ہیں کہ اغوا شدہ صحافیوں کو جلد بازیاب کروایا جائے گا۔

سندھ کے ضلع بدین کی تحصیل تلہار کے حاجی لاشاری سندھی روزنامہ کاوش کے تحصیل نمائندہ ہیں جبکہ امر سنگھ راٹھوڑ اردو روزنامہ کائنات کے نمائندہ ہیں۔ ماضی قریب میں سندھ میں صحافیوں کے اغوا کی یہ پہلی کارروائی ہے۔

 
 
احتجاجصحافت پر دباؤ
کیا صحافی وقت سے پہلے چلے جاتے ہیں؟
 
 
صحافی محمد مسکینغفلت سے موت؟
صحافی محمد مسکین کی موت کا الزام ڈاکٹروں پر
 
 
نثار سولنگی کی ہلاکت پر سکھر میں صحافیوں کا احتجاجدو صحافی ہلاک
سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج
 
 
پریس کا احتجاج
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا ملک گیر احتجاج
 
 
اسی بارے میں
اغوا کی کوشش میں صحافی زخمی
20 December, 2006 | پاکستان
باجوڑ: مقامی صحافی گرفتار
06 November, 2006 | پاکستان
’سوری تم تو صحافی ہو‘
23 September, 2006 | پاکستان
کراچی سے بلوچ صحافی لاپتہ
21 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد