|
’بلوچستان سرمایہ کاری کےمواقع‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین نے کہا ہے کہ بلوچستان میں چینی سرمایہ کاری سے صوبے میں پسماندگی ختم ہوگی اور وسطی ایشیا تک ترقی کی نئی راہیں کھل جائیں گیں۔ کراچی میں چینی قونصلر چن شیان من نے کہا کہ چین پہلے سے ہی بلوچستان میں گوادر پورٹ اور سینڈک گولڈ پراجیگٹ سمیت دیگر منصوبوں پر کام کر رہا ہے جس کی بدولت بلوچستان میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گیں۔ وہ جمعرات کو کوئٹہ میں بلوچستان اکنامک فورم کے زیراہتمام پاک-چائنا اقتصادی تعلقات کے حوالے سے منعقد ہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لئے چینی سرمایہ کاروں کے لئے اچھے مواقع موجود ہیں۔ چینی قونصلر کا کہنا تھا کہ چین کی کوشش ہے کہ غیرسرکاری شعبے میں چینی سرمایہ کاروں کوبلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے راغب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ترقیاتی منصوبوں کی بدولت نہ صرف بلوچستان کی پسماندگی ختم ہوگی بلکہ اس سے بلوچستان کے راستے افغانستان اور وسطی ایشیا تک اقتصادی ترقی ہوگی۔ چن شیان من نے کہا کہ چینی سرمایہ کارمعلومات کی کمی اورخوف کی وجہ سے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لئے نہیں آ رہے ہیں اس لیے چینی اور بلوچستان کے تاجروں کے درمیان معلومات کی تبادلے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے بلوچستان کے حالیہ سیلاب میں متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے تین ملین روپے دیے تھے تاکہ بلوچستان کے لوگوں کے دلوں میں چین سے دوستی مزید بڑھ سکے۔ اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی نے کہا کہ گوادر پورٹ بننے کے بعد ایران، پاکستان، افغانستان اور چین اقتصادی طور پر ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں چینی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے حکومت کومزید حفاظتی انتظامات کرنے ہونگے۔ جان محمد جمالی کے مطابق سرمایہ کاروں کوتحفط دیے بغیران کویہاں نہیں لایا جا سکتاہے، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ غیرملکی سرمایہ کاروں کو تحفظ کے لئے اقدامات کرے۔ تقریب کے شرکاء نے چینی حکومت اورسرمایہ کاروں کوبلوچستان میں زراعت، ماہی گیری، مال میویشی اورمعدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دینے کے علاوہ چھوٹی صنعتوں میں بلوچستان کے لوگوں کوتربیت دینے پربھی زور دیا۔ شرکاءنے کہا کہ بلوچستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے لئے چین کوڈیم بنانے کے علاوہ بجلی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔ یاد رہے کہ چین گوادرپورٹ کی تعمیرسینڈک سے سونا نکالنے اور حب میں قیمتی پھتروں کی تلاش جیسے منصوبوں پر کام کر رہا ہے اوراس دوران مزاحمت کاروں کی جانب سے حملوں میں اب تک کئی چینی انجینئرز ہلاک و زخمی بھی ہوچکے ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچستان: تین چینی انجینئر ہلاک15 February, 2006 | پاکستان حملہ آوروں کو پکڑا جائے: چینی صدر16 February, 2006 | پاکستان ’ہماری مرضی سے معاہدے کریں‘20 February, 2006 | پاکستان بلوچستان: بدگمانی کے ساٹھ سال 17 August, 2007 | پاکستان اقتدار عوام کو منتقل کریں: بلوچ رہنما18 August, 2007 | پاکستان پاک موبائل:پہلا غیر ملکی سودا22 January, 2007 | پاکستان ’چین نےحوالگی کا مطالبہ نہیں کیا‘26 June, 2007 | پاکستان ’اداروں میں نمائندگی بڑھائی جائے‘15 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||