BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 September, 2007, 22:28 GMT 03:28 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’بلوچستان سرمایہ کاری کےمواقع‘
 

 
 
چین پہلے ہی گوادر پورٹ میں سرمایہ کاری کر رہا ہے
چین نے کہا ہے کہ بلوچستان میں چینی سرمایہ کاری سے صوبے میں پسماندگی ختم ہوگی اور وسطی ایشیا تک ترقی کی نئی راہیں کھل جائیں گیں۔

کراچی میں چینی قونصلر چن شیان من نے کہا کہ چین پہلے سے ہی بلوچستان میں گوادر پورٹ اور سینڈک گولڈ پراجیگٹ سمیت دیگر منصوبوں پر کام کر رہا ہے جس کی بدولت بلوچستان میں ترقی کی نئی راہیں کھلیں گیں۔

وہ جمعرات کو کوئٹہ میں بلوچستان اکنامک فورم کے زیراہتمام پاک-چائنا اقتصادی تعلقات کے حوالے سے منعقد ہ ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لئے چینی سرمایہ کاروں کے لئے اچھے مواقع موجود ہیں۔

چینی قونصلر کا کہنا تھا کہ چین کی کوشش ہے کہ غیرسرکاری شعبے میں چینی سرمایہ کاروں کوبلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے راغب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ترقیاتی منصوبوں کی بدولت نہ صرف بلوچستان کی پسماندگی ختم ہوگی بلکہ اس سے بلوچستان کے راستے افغانستان اور وسطی ایشیا تک اقتصادی ترقی ہوگی۔

  چین کی کوشش ہے کہ غیرسرکاری شعبے میں چینی سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے راغب کیا جائے۔ ایسے ترقیاتی منصوبوں کی بدولت نہ صرف بلوچستان کی پسماندگی ختم ہوگی بلکہ اس سے بلوچستان کے راستے افغانستان اور وسطی ایشیا تک اقتصادی ترقی ہوگی۔
 
چینی قونصلر
چینی سفیرکے مطابق بلوچستان کے لوگ چائنیز عوام سے محبت کرتے ہیں اور چینی انجینئروں پر حالیہ حملوں میں وہ لوگ ملوث ہیں جوصوبے میں عام لوگوں کی ترقی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ چین اور پاکستان کے دوستانہ تعلقات بھی خراب کرنا چاہتے ہیں لیکن حکومتِ پاکستان نے چینی انجینئروں کی حفاظت کے لئے جواقدامات کیے ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔

چن شیان من نے کہا کہ چینی سرمایہ کارمعلومات کی کمی اورخوف کی وجہ سے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لئے نہیں آ رہے ہیں اس لیے چینی اور بلوچستان کے تاجروں کے درمیان معلومات کی تبادلے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے بلوچستان کے حالیہ سیلاب میں متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے تین ملین روپے دیے تھے تاکہ بلوچستان کے لوگوں کے دلوں میں چین سے دوستی مزید بڑھ سکے۔

اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے سینیٹ کے ڈپٹی چیئرمین جان محمد جمالی نے کہا کہ گوادر پورٹ بننے کے بعد ایران، پاکستان، افغانستان اور چین اقتصادی طور پر ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں چینی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے حکومت کومزید حفاظتی انتظامات کرنے ہونگے۔

جان محمد جمالی کے مطابق سرمایہ کاروں کوتحفط دیے بغیران کویہاں نہیں لایا جا سکتاہے، اس لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ غیرملکی سرمایہ کاروں کو تحفظ کے لئے اقدامات کرے۔

تقریب کے شرکاء نے چینی حکومت اورسرمایہ کاروں کوبلوچستان میں زراعت، ماہی گیری، مال میویشی اورمعدنیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دینے کے علاوہ چھوٹی صنعتوں میں بلوچستان کے لوگوں کوتربیت دینے پربھی زور دیا۔

شرکاءنے کہا کہ بلوچستان میں پانی ذخیرہ کرنے کے لئے چین کوڈیم بنانے کے علاوہ بجلی کی پیداوار بڑھانے کے منصوبے شروع کرنے چاہئیں۔

یاد رہے کہ چین گوادرپورٹ کی تعمیرسینڈک سے سونا نکالنے اور حب میں قیمتی پھتروں کی تلاش جیسے منصوبوں پر کام کر رہا ہے اوراس دوران مزاحمت کاروں کی جانب سے حملوں میں اب تک کئی چینی انجینئرز ہلاک و زخمی بھی ہوچکے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد